طیار ہ حادثہ: سی ای او پنجاب بینک ظفر مسعود معجزانہ طور پر محفوظ رہے

کراچی: کراچی میں حادثے کا شکار ہونے والے طیارے میں سوار چیف ایگزیکٹو آفیسر پنجاب بینک ظفر مسعود معجزانہ طور پر محفوظ رہے۔

ذرائع کے مطابق ریسکیو حکام نے ظفر مسعود کو علاج کے لیے کراچی کے آغا خان اسپتال منتقل کردیا ہے۔

خیال رہے کہ قومی ایئرلائن پی آئی اے کا مسافر طیارہ کراچی میں لینڈنگ سے کچھ دیر قبل رہائشی علاقے ماڈل کالونی میں گر کر تباہ ہوگیا تھا جس میں متعدد افراد جاں بحق ہونے کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔

سول ایوی ایشن اتھارٹی نے حادثے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی آئی اے کی پرواز پی کے 8303 میں 99 مسافر اور عملے کے 8 ارکان سوار تھے تاہم جاں بحق افراد کے حتمی اعداد و شمار نہیں دیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کا پی آئی اے طیارہ حادثے پر اظہار افسوس، تحقیقات کی یقین دہانی

مسافر طیارہ لاہور سے کراچی کیلئے روانہ ہوا تھا اور کراچی ایئرپورٹ کے قریب ماڈل کالونی میں گر کر تباہ ہوا۔

پی آئی اے کے طیارے نے حادثے سے ایک گھنٹہ30 منٹ قبل لاہور ایئر پورٹ سے اڑان بھری تھی اور کراچی ائیر پورٹ پر لینڈنگ سے کچھ دیر پہلے گرکر تباہ ہوا۔

ذرائع کے مطابق حادثے سے قبل طیارے کے کپتان نے ایئر ٹریفک کنٹرول کو مے ڈے کال کی اور بتایا کہ طیارے کے انجن خراب ہو چکے ہیں۔ کپتان نے اے ٹی سی کو بتایا کہ ہم بائیں جانب ٹرن لے رہے ہیں۔ مے ڈے کال کے بعد طیارہ گر کر تباہ ہوگیا۔

یہ بھی پڑھیں:کراچی: پی آئی اے کا مسافر طیارہ رہائشی علاقے پر گر کر تباہ،متعددافراد جاں بحق

ترجمان پی آئی اے نے ہم نیوز کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ پی آئی اے کی ایئربس320 نے لاہور سے اڑان بھری تھی تاہم مزید معلومات کچھ دیر بعد پریس کانفرنس میں بتائی جائیں گی۔

ترجمان نے بتایا کہ پی آئی اے کے آپریشنل ملازمین کو ڈیوٹی پر طلب کر لیا گیا ہے اور ایمرجنسی کال سنٹر بھی فعال کر دیا گیا ہے۔

 

The post طیار ہ حادثہ: سی ای او پنجاب بینک ظفر مسعود معجزانہ طور پر محفوظ رہے appeared first on ہم نیوز.

Share:

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on pinterest
Share on linkedin
Share on email
Share on telegram
Share on skype

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Related Posts

error

Enjoy this blog? Please spread the word :)