رحمت مغفرت اور نجات – عالیہ عثمان

بیٹا کیوں اتنے افسردہ ہو صبح سےاداس بلبل بنے ہوئے ہو کیا بات ہے مجھے بتاؤ کیا مسئلہ ہے؟ وہ ماما آپ میری بات سن کر ہنسیں گی تونہیں میں نےبھیا سے پوچھا ،آپی سے پوچھا وہ میری بات مذاق سمجھ کر ہنسنے لگےاسید نے معصومیت سے کہا۔ نہیں بیٹا وعدہ میں نہیں ہنسوں نگی بلکہ آپ کی بات سن کر آپ کے مسئلے کا حل بھی بتاؤں گی .

شاباش بچے جلدی سے بتا دو……. وہ ماما ، رمضان میں روزے رکھتے ہیں نا….. آپ نے پچھلے سال کہا تھا کہ اگلے سال تم بھی روزہ رکھو گے، میں ضد کر رہا تھا کہ روزہ رکھوں گا آپ کو اپنا وعدہ یاد ہے نا ……پر ماما ہر طرف لاک ڈاؤن ہے .ہم حرم شریف گئے تھے ، وہ بھی بند ہے مدینے میں مسجد نبوی بھی نمازیوں کے لیے نہیں کھولی جارہی ،یہاں بھی سب مسجدیں بند ہیں جمعہ کی نماز بھی نہیں پڑھنے دیتےکے گھر میں پڑھو اب میں یہ سوچ کر اداس ہوں پتا نہیں روزہ بھی رکھ سکیں گے یا نہیں اس پر بھی لاک ڈاؤن نہ ہوجائےا سید نے معصومیت سے اپنا مسئلہ بیان کیا اور کہا کہ ہنسیے گا نہیں ، بیٹا سب سے پہلی بات یہ کہ یہ کوئی ہنسنے والی بات نہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالی کی آزمائش ہے کہ ہم اس پر کہاں تک پورااترتے ہیں وہ ایک چھوٹا سا وائرس ہے جو پوری دنیا پہ چھا گیا ہے، لیکن وہ ذات بہت بڑی ہےجس سے ہم سب ڈرتے ہیں.

اس کے سواتو کسی سے نہیں ڈرتے آپ کے اسکول ،مساجد سارا کاروبار زندگی بند ہے …….لیکن روزہ تو آپ ہم سب رکھیں گے. اس کا اجر تو اللہ تعالی دینگےاس کا معاملہ اللہ اور روزے رکھنے والے کے درمیان ہوتا ہے اسید مطمئن سے ہو کر سر ہلانے لگے جیسے بہت بڑا مسئلہ حل ہو گیا ہے اچھا یعنی روزہ رکھوں گا میں، ٹھیک ہے۔ اب ہماری سوچوں کے دروازہ ہوئے، یہ شعبان کا آخری جمعہ ہے انشاء اللہ تعالی آئندہ ہفتے سے ماہ مبارک رمضان شریف کا آغاز ہو رہا ہے کاش ہم کو اپنے ایمان کی عظمت و قدرومنزلت ہوتی تو اس ماہ مبارک کی سعادتوں سے بہرہ ور ہونے کی زیادہ سے زیادہ کوشش کرتے…….یہ اللہ تعالی کا فضل عظیم ہے کہ ہمارےنصف ایمان اور ناکارہ اعمال کو ازسرے نو کامل ترین بنانے کے لئےرمضان المبارک کے چند گنتی کے دن عطا فرمائے ہیں، اس لیے انہیں غنیمت سمجھ کر بڑے ذوق و شوق کے ساتھ ان ایام کی قدر کرنی چاہیے لغو اور فضول باتوں سےپرہیز کرنا چاہیے.

لغو بات کرنے سے عبادت کا نور جاتا رہتا ہے……رمضان شریف میں دو عبادتیں سب سے بڑی ہیں ایک تو کثرت سے نمازیں پڑھنا( اس میں تراویح کی نماز بھی شامل ہے)اور اس کے علاوہ تہجد کی چند رکعات ہوجاتی ہیں پھر اشراق اور چاشت کا خاص طور پر اہتمام ہونا چاہیے دوسرے تلاوت کلام کی کثرت کتنی بھی توفیق ہو کلام اللہ پڑھنے سے کئ فائدے نصیب ہو جاتے ہیں تین چارعبادتیں اس میں شریک ہو جاتی ہیں اور یہ بہت باعث برکت ہیں، یعنی دل میں عقیدت، عظمت و محبت اور یہ خیال کرکے پڑھنے سے کہ اللہ پاک سے ہمکلامی کی سعادت حاصل ہو رہی ہے۔ آج کل وہ گہما گہمی دیکھنے میں نہیں آرہی جو رمضان المبارک کا خاصہ ہے، مسجدوں میں رونقیں بڑھ جاتی ہیں حفاظ تراویح میں قرآن پاک سناتے ہیں، استقبال رمضان کے پروگرام اور درس قرآن کے اجتماعات ہوتے ہیں دورہ قرآن جس کا سلسلہ ناصرف مساجدومدارس میں بلکہ گھروں میں بھی ہوتا ہے، الحمدللہ چاروں طرف سےخواتین اور مرد حضرات ان محافل میں لوگ ذوق و شوق سے شرکت کرتے ہیں اور مستفید بھی ہوتے ہیں لیکن یہ رونقیں آجکل ماند پڑی ہوئی ہیں کرونا وائرس کی وبا نے پوری دنیا کو لپیٹ میں لے رکھا ہے اور لاک ڈاون جاری ہے ۔

آنکھیں گناہوں کا سرچشمہ ہیں ان کو نیچا رکھیں ،بد نگاہی صرف کسی پر بری نگاہ ڈالنا ہی نہیں بلکہ کسی کو حقارت کی نظر سے دیکھنا حسد کی نظر یا برائی کی نظر سے دیکھنا بھی آنکھوں کا گناہ ہے۔ روزہ داروں کے بارے میں کہتے ہیں بات بات پر غصہ آتا ہے، گھر کے اندر یا گھر کے باہر کہیں بھی ہو یہ بات اچھی نہیں ںے۔ روزہ تو بندگی پیدا کرتا ہے پھر یہ روزہ کا بہانہ لے کر بات بات پر غصہ اور لڑنا جھگڑنا کیسا؟ روزہ درماندگی کی چیز ہےچاہے کوئی خلاف مرضی بات کرے تو اس سے نرمی سے بات کرو جھک جانے میں بڑی فضیلت ہے یہ 30دن کی تربیت ہے جو تمام عمر کام آتی ہے یہ عبادت بڑی نعمت ہے جو ان دنوں میں آسانی سے ہاتھ آ جاتی ہے ۔اکثر ہم خواتین اس بات کی شکایت کرتی ہیں کہ روزہ افطار کرنے سے قبل عصر اور مغرب کے درمیان دعائیں کرنے کا موقع نہیں ملتا کیونکہ یہ وقت ہمارا باورچی خانے میں صرف ہو جاتا ہےمگر حقیقت یہ ہے کہ خواتین کا یہ وقت بھی عبادت میں گزرتا ہے روزے رکھتے ہوئے وہ کھانا تیار کرتی ہیں جو اچھا خاصہ مجاہدہ ہے پھر روزہ داروں کے افطار اور کھانے کا انتظام کرتی ہیں جس میں ثواب ہی ہےاور جن عبادات میں مشغول ہونے کی تمنا کرتی ہیں.

یہ تمنا خود ایک نیک عمل ہے……. جس پر ثواب ملے گا پھر یہ بھی ممکن ہے غروب آفتاب سے آدھا گھنٹہ قبل انتظامات سے فارغ ہوجائیں تو پھر ان کو بھی یک سوئی کے ساتھ رجوع الی اللہ ہونے کاموقع مل سکتا ہے۔اس ماہ مبارک میں ہر عمل کا ستر گناہ ثواب ملتا ہے چناچہ جہاں اور عبادت وغیرہ ہیں وہاں اس ماہ مبارک میں صدقہ و خیرات خوب کرنا چاہیے ……اپنی حیثیت کے مطابق جس قدر ممکن ہو سعادت حاصل کرنی چاہیے. اس ماہ مبارک میں لیلۃ القدر ہے اللہ تعالی کا ہم پر انعام عظیم رمضان شریف کے مہینے کا ہر دن تو شب قدر کے انتظار میں ہے۔ یہ تو خلاصہ ہے رمضان شریف کے اعمال کا لیکن یہ تو ذاتی عبادت ہوئی اب دین کے مطالبات اور بھی ہیں تمام مومنین و مومنات مسلمین و مسلمات کے لیے دعائیں کریں حدیث شریف میں ہے کہ اگر کوئی مسلمان روزانہ تمام مسلمانوں کے لیے دعاء مغفرت ورحمت کرے تو اس کی ساری دعائیں قبول ہوتی ہیں اور ایمان پر خاتمہ ہوتا ہے رس میں برکت ہوتی ہے اور نہ جانے کتنی برکتیں حاصل ہوتی ہیں

اللہ تعالی نے ہمارے دلوں میں دین کی عظمت، ہدایت اور دین کا فہم عطا فرمائے اور صحیح اور قوی ایمان سلامتی عطا فرمائے۔ رمضان المبارک کے تین عشرے ہیں پہلا عشرہ رحمت کا دوسرا عشرہ مغفرت کا تیسرا عشرہ دوزخ سے نجات کا۔ اللہ پاک ہم سب کو اس آنے والے عظیم اور با برکت مہینے کو ہماری نجات کا ذریعہ بنائے۔ آمین۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: