گم شده امیر خسرو (قسط دو) – انتظار حسین

گوری سووے سیج پر مکھ پہ ڈارو کیس
چل خسرو گھر آپنے سانجھ بھئی چوندیس

کیا اس دوہے کو غیر سنجیدہ شاعری کے ذیل میں ڈالیں گے- کیا حضرت نظام الدین اولیا کا وصال امیر خسرو کے لیے کوئی سرسری تجربہ تھا – حضرت نظام الدین اولیا کی موت امیر خسرو کے لیے ایک جان لیوا واردات بنی ……..جس نے انھیں دنیا و مافیہا سے بے خبر کر دیا اور چھ ماہ کے اندر اندر انھیں خالقِ حقیقی سے جا ملایا-

اس واردات کا بے ساختہ اور بھرپور اظہار متذکرہ بالا دوہے کی صورت میں ہوا – یہ دوہا یہ ثابت کرنے کے لیے بہت کافی ہے کہ امیر خسرو کے لیے یہ زبان اور یہ اسلوب اتنا ہی سنجیدہ ذریعہ اظہار ہے جتنا فارسی غزل یا مثنوی تھی- ہاں یہ ممکن ہے جیسا کہ ” غرّۃ الکمال ” کے دیباچے سے ظاہر ہوتا ہے کہ امیر خسرو کو اپنی صورتِ حال کا پوری طرح احساس ہو- اور یہ ایسی کوئی عجب بات بھی نہیں ہے- شاعری کم از کم بڑی شاعری محض شعور کا معاملہ نہیں ہوتی- وہ چھوٹے چھوٹے شاعر ہوتے ہیں جنھیں پوری خبر ہوتی ہے کہ وہ شعر میں کیا کر رہے ہیں – بڑا شاعر خبر اور بے خبری کے دوراہے پر ہوتا ہے – اسے چھوٹے شاعروں اور عام لوگوں سے زیادہ خبر ہوتی ہے- اپنے پورے عہد سے زیادہ اسے خبر ہوتی ہے – بس اسے ایک خبر نہیں ہوتی- یہ کہ اسے کتنی خبر ہے- یہی معاملہ تاریخی عمل ہے- تاریخی عمل بھی محض شعور کی سطح پر جاری نہیں رہتا –

وہ اپنے لیے بہت سے پیچیدہ ، پُر اسرار اور ڈھکے چھپے راستے بناتا ہے – وہ اپنا کام نکالنے کے لیے جن شخصیتوں کو چنتا ہے ……. لازم نہیں ہے کہ وہ شخصیتیں اپنے فعل و عمل کے مضمرات سے پوری طرح واقف ہوں- امیر خسرو نے فارسی شاعری میں جو کچھ کہا اس کی اہمیت اور معنویت سے وہ اپنے زمانے کے مسلمان اشراف کے ادبی معیارات اور مذاقِ سخن کے واسطے سے باخبر تھے – مگر نئی زبان میں جو وہ کہہ رہے تھے اور کر رہے تھے…….. اس کے معنی تو مستقبل میں پوشیدہ تھے – امیر خسرو کے صرف باطن کو اس کی خبر تھی- چلیے یہ بھی دیکھ لیں کہ وہ کیا تاریخی عمل تھا جس نے امیر خسرو کو جنم دیا تھا اور اپنا کام نکالنے کے لیے امیر خسرو کو چُنا تھا –

یہ وہ زمانہ تھا ……… جب مسلمان اپنے تازہ تازہ تخلیقی جذبے کے ساتھ اس بر صغیر میں اپنا اعلان کر رہے تھے – ابھی ان کے یہاں کسی خوف نے راہ نہیں پائی تھی – اپنے تخلیقی جوہر پر اعتبار تھا – اس اعتبار کے ساتھ وہ حکمت و دانائی کی تلاش میں چین تک کا بھی سفر کر سکتے تھے اور اِرد گِرد بکھری ہوئی حکمت کو بھی سمیٹنے اور ہضم کرنے میں دلیر تھے – اس دلیرانہ رویّے نے ایک ایسی تہذیب کو جنم دیا جو جذب کرنے، پھیلنے اور چھا جانے کی توانائی سے مالا مال تھی- امیر خسرو اسی توانائی کا ظہور تھے – ابھی یہ تہذیب مغلوب ہو جانے کے اندیشے سے کوسوں دور تھی- ابھی تو وہ سمیٹنے اور سرایت کرنے کے عمل میں مصروف تھی – ابھی مسلمانوں کا طرزِ احساس کسی ثنویت کا شکار نہیں ہوا تھا اور طہارت پسند مسلمان اور کافر ادا مسلمان دو متحارب طاقتیں بن کر نہیں اُبھرے تھے –

امیر خسرو کو اپنے سارے زہد و اتقا کے با وصف اس میں کوئی قباحت نظر نہیں آتی تھی کہ سرسوں کی شاخ پگڑی میں اڑس کر بسنت کا گیت گاتے ہوئے حضرت نظام الدین اولیا کے حضور حاضر ہوں اور حضرت نظام الدین اولیا کو عقیدت مندوں سے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں تھا کہ بسنت مناؤ اور میلہ کرو- یہ ہند مسلم تہذیب کے ظہور کا وقت تھا – صوفیائے چشت اس کی روحانی طاقت تھے- امیر خسرو اس کا تخلیقی ثمر تھے –

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: