والدین، اولاد اور تربیت – اریبہ سموں

بہت عرصے سے سوچ رہی تھی کہ اس موضوع پہ لکھوں لیکن نہ جانے کیا ہوتا کہ لکھ نہیں پاتی تھی…… شاید اس لیے کہ یہ ایک ایسا موضوع ہے جو وقت چاہتا ہے،اور اس قابل ہے کہ اس پہ وقت لگایا جائے.. آج ہمارا معاشرہ دن بہ دن جتنی خرابیوں کی طرف جارہا ہے اس میں سب سے بڑا ہاتھ ان والدین کا ہے جن کو معلوم ہی نہیں کہ تربیت کیا ہوتی ہے؟ اور کیسے ہوتی ہے؟

میں نے اپنے اردگرد بہت سے والدین کے رویوں کا مشاہدہ کیا ہے اور مجھے نہایت ہی افسوس ہوتا ہے جب میں دیکھتی ہوں کہ والدین بچے کی تربیت کے لیے “حساس” نہیں ہوتے… ہمارے معاشرے میں دو طرح کے والدین پائے جاتے ہیں….. ایک وہ جو اولاد کی ہر جائز نا جائز بات مانتے ہیں اور کسی بھی بات پر انہیں روک ٹوک نہیں کرتے. دوسرے وہ جو اولاد کی ان باتوں پر بھی سختی کرتے ہیں جس میں اولاد حق بجانب ہوتی ہے. یہ دونوں رویے ہی اولاد کی تربیت میں ایک بڑا خلاء پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں. میں دیکھتی ہوں کہ کچھ والدین بچے کو اس بات پر تو کچھ نہیں کہتے کہ وہ بڑوں کے ساتھ بدتمیزی کر رہا ہے.. ہنس کے ایک بار منع کردیتے ہیں اور بس فرض پورا.. لیکن وہ اسی بچے کو چیز کھاتے ہوئے اپنے کپڑے خراب کرنے پہ مار مار کے ادھ موا کردیتے ہیں.. یہ کیسا رویہ ہے لوگو! مجھے ایک انیس سال کی طالبہ ہوتے ہوئے یہ بات معلوم ہے کہ بچہ اگر کچھ کھاتے ہوئے کپڑے خراب کررہا ہے تو اس میں اس کا کوئی قصور نہیں،کیونکہ ظاہر ہے وہ بچہ ہے..

بھئی ایک تین یا چار سال کے بچے کو کیا معلوم کہ کپڑے خراب کرنا اچھی بات نہیں.. اسے کیا معلوم کہ کپڑے گندے ہوجائیں گے تو میں اچھا نہیں لگوں گا.. اور آپ تو والدین ہیں آپ لوگوں کو کیوں یہ بات سمجھ نہیں آتی؟ اتنی سی بات پہ بچے کو اتنا ڈانٹا اور مارا جاتا ہے کہ وہ بچارا سہم کے رہ جاتا ہے… اب ہوتا یہ ہے کہ چھوٹی چھوٹی سی باتوں پہ ڈانٹ کے اور مار کے بچے کا تمام خوف ختم کردیا جاتا ہے اور وہ پھر بڑی حرکتیں کرنے میں بھی خوف نہیں کھاتا بلکہ مزید ڈھیٹ بن جاتا ہے.. اور اگر ایسا نہیں ہوتا تو پھر وہ اتنا خوفزدہ رہنے لگ جاتا ہے کہ ایک وقت آتا ہے کہ بچے کے ساتھ نفسیاتی مسائل شروع ہوجاتے ہیں. والدین کا کام ہے کہ بچے کے پیدا ہونے سے پہلے ہی اس کی تربیت کے لیے فکرمند ہوجائیں.. اس سے مراد یہ ہے کہ تربیت کرنے کی کوئی کتاب پڑھ لیں.. کتابیں پڑھنے کا شوق نہیں تو سوشل میڈیا پہ ویڈیوز اور بہت سی چیزیں اس سے متعلق مل جاتی ہیں..

ماں کی گود ہی اولاد کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے.. بھلے بچہ چند ماہ کا ہے،اگر وہ رونا شروع کردیتا ہے اور آپ کا کام بیچ میں رہ جاتا ہے تو خدارا اسے بہلانے کے لیے ہاتھ میں موبائل نہ پکڑادیں.. یہ دشمنی ہے اس معصوم کے ساتھ.. پہلی ہی دفعہ سے اسے کتابیں دے دیں یا کوئ اور کھلونا تاکہ اسے پتہ ہو کہ رونے پہ بھی مجھے یہی چیزیں ملیں گی وگرنہ اسے موبائل کی عادت پرجائے گی اور بعد میں آپ ہی پھر کہتے پھرتے ہیں کہ میرا بچہ موبائل کو چھوڑ ہی نہیں رہا میں بہت پریشان ہوں . بچے کے پیدا ہوتے ہی اس کی تربیت شروع ہوجائے گی تو بڑے ہونے پہ آپ کو بہت زیادہ دقت کا سامنا نہیں کرنے پڑے گا.. والدین جب محسوس کرتے ہیں کہ بچہ ہاتھ سے نکل گیا ہے تو پھر حواس باختہ ہوکر بچارے کو کسی تنظیم کے حوالے کردیتے ہیں کہ لیں آپ اسے سمجھائیں اس کی تربیت کریں…

یہ والدین کی دوسری بڑی غلطی ہوتی ہے.. جس بچے کو گھر سے ہی تربیت کا صحیح ڈوز نہیں ملا وہ کسی بھی تنظیم سے وہ ڈوز حاصل نہیں کرسکتا.. یا تو تنظیم ہی اسے ایسی ملے گی جو بے راہ روی کی طرف لے کر جائے گی اور اگر خوش قسمتی سے اچھی تنظیم مل گئ تو والدین چاہتے ہیں بچہ ایک دن درس سن کے آئے اور اگلے دن مولوی بن جائے..یہ تو نہایت ہی احمقانہ سی سوچ ہے.. جس بچے کو آپ پندرہ سال میں درست سمت مہیا نہیں کرسکے آپ چاہتے ہیں کہ ایک تنظیم محض چند دن میں اسے مفتی تقی عثمانی بنادے؟ جمعیت میں ہمارے زیر تربیت جب بچیاں دی جاتی ہیں تو مجھے حیرت ہوتی ہے ان والدین پر جو اس بچی کے جمعیت سے جڑنے کے محض ایک ہفتے بعد ہی کہہ رہی ہوتی ہیں کہ بیٹا نماز قرآن تو یہ پڑھ نہیں رہی آپ لوگ اسے کیا سکھا رہی ہیں؟؟ ایسے میں دل چاہتا ہے کہوں آنٹی جی چودہ سال لگا کے آپ نے نماز نہیں پڑھوائی تو میں ایک ہفتے میں کیسے پڑھوادوں؟؟

اگر آپ کے بچے کو صحیح تنظیم مل گئ ہے تو خدارا اسے ہر وقت یہ طعنے نہ دیں کہ تم سیکھ تو نہیں رہے تمہارے درس قرآن میں جانے کا کیا فائدہ؟؟ یہ اس کا دل مزید خراب کردے گا اور آپ مکمل طور پہ اپنے بچے کو کھودیں گے… بعد میں رونے دھونے سے بہتر ہے وقت پہ ہوش کے ناخن لے لیں…

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: