تلاش کا سفر – افشاں نوید

ایک پوسٹ میں کسی خیرخواہ نے قدر کی راتوں کا مغرب سے فجر تک کا شیڈیول ترتیب دیا پواتھا۔ جس میں ہر گھنٹے کی نوافل وتسبیحات بھی درج تھیں۔ اک اگلی پوسٹ میں نوافل کی ترتیب کہ دودو رکعت کس نیت سے پڑھنا ہیں۔ کئ پوسٹس میں وظائف کے اجر کہ کتنا پڑھ کر کتنے اجر کے مستحق ہونگے ۔اچھی بات ہے۔ جو جس کی سمجھ میں آئے کرنا چاہئے۔

وظیفہ اور نوافل دن میں بھی پڑھے جاسکتے ہیں ….. پڑھتے ہی ہیں۔ راتوں کو جاگنے کا حکم ہے۔ راتوں کو اور راتوں میں کچھ تلاش کرنے کا حکم ہے۔ راتوں کی اپنی باتیں اپنی سوغاتیں ہوتی ہیں۔ راتیں دن نہیں ہوتیں۔دن کے بارے میں تو کیاگیا کہ۔فاذافرغت فانصب۔والی ربک فارغب ……. پلٹنے کو فراغت سے جوڑ دیا۔۔۔کرم نوازی کی بھی کوئی حد ہے!!!!مگر راتوں کو تلاش کرنے کا حکم ہے۔۔روایات میں ہے کہ پچھلے پہر آنکھ کھلنے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا پڑھا کرتے تھے ۔۔چاند ستاروں کو جھلملاتے دیکھ کر فرماتے۔۔ربنا ما خلقت ھذا باطلا۔۔تو نے کار عبث تو کچھ بھی نہیں بنایا۔میں انسان تو چاند ستاروں سے آگے کی چیز ہوں۔میں تو مسجود ملائک ہوں۔مولا مجھے میرے وجود کی معرفت عطا فرما۔اور کیسی معرفت ملی حرا سے کہ اسلام کا ڈنکا چہار دانگ عالم میں بجنے لگا۔ کسی سورت کو کئ ھزار بار بھی تواتر سے پڑھنے سے کیا اسکی معرفت نصیب ہوسکتی ہے؟

نصاب تو کچھ یوں ہونا چاہیے کہ قرآن کے اس حصے پر رات کی تنہائی میں غور کرناہے۔ اس حصہ پر اہل خانہ کے ساتھ۔۔۔۔ اللہ نے چیلنج کیا ہے ناں کہ۔۔وما ادراک مالیلتہ القدر ….. تم ادراک ہی نہیں رکھتے۔ پڑھنے پڑھانے سے آگے ھم نے اپنے ادراک کی نشوونما پر سوچا ہی نہیں۔ بات راتوں کی ہے۔راتیں تنہا ہوتی ہیں۔ راتیں باتیں کرتی ہیں . قدر کی راتوں میں کچھ اپنی، اقدار،پر بھی غور ہوجائے۔ قوموں، ملکوں کے غم چھوڑیں۔ میری ذاتی اقدار۔میرے روئیے۔ قدر ہی نہ پہچان پائی اپنے مسلمان ہونے کی،اپنے پاکستانی ہونے کی،اپنے ہمسایہ کی ہمسائیگی کی۔اپنے رحم کے رشتوں کی،،اپنے سسرالی رشتوں کی۔

ایک ادراک کی رات تھی۔ڈھونڈنا تھا خود کو اپنی کوتاہیوں کے ساتھ۔کھوج لگانا تھا اپنا۔ مگر میرا وظیفہ تو آپ نے تشکیل دیدیا۔ ساری رات تسبیح پر تسبیح ……. اللھم انک عفو کریم۔۔تحب العفو۔فاعف عنی۔۔مگر سچ یہ ہے کہ گناہ گار دوسرے ہی نظر آتے ہیں۔میری زندگی کے تمام تر فساد کے ذمہ دار دوسرے ہیں۔مجھے نظر لگ جاتی ہے،میں حاسدین کے بیچ ہوں اس لئے بگڑے کام نہیں بننے پاتے۔۔۔ کیا یہی ادراک ذات ہے۔؟؟خود کا جب وزن کیا سو میں سے سو ہی پائے۔میرے ترازو میں دوسروں کے لئے بہت بھاری باٹ رکھے ہیں۔دوسرے ھلکے ہی رھتے ہیں میری بھاری قامت کے سامنے۔اپنے کارنامے گناتے نہیں تھکتے۔۔!!!!! قدر کی راتیں پکار رہی ھیں۔ادراک کو جگاؤ۔مخلوق میں رب کو تلاش کرو۔۔۔

کچھ تو تلاش کرو۔ اپنی تلاش کے سفر پر تو نکلو۔۔خود ااپنی حقیقی قدر جانو گے تو راتوں کا ادراک بھی پالوگے۔ مولا کسی طاق رات کو ہماری حرا بنادے۔ھمیں درک دیدے۔۔قدر کی راتوں میں ہم اپنی اقدار کا قبلہ درست کرنے کا حوصلہ پا لیں۔۔ مولا ٹوٹا پھوٹا ہی قبول کرلے۔ہم کھوٹے سکوں کو ہی قبول کرکے مولا

2 thoughts on “تلاش کا سفر – افشاں نوید

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: