نظام جانچ ازل سے ابد تک – صدف عنبرین

امتحانات نہیں لیے جائیں گے….! یہ خبر خوش کن یا پریشان کن؟؟ طویل کشمکش اور کھینچا تانی کے بعد وفاق اور سندھ گورنمنٹ کا اونٹ ایک ہی کروٹ بیٹھ گیا بلکہ بیٹھا کیا ڈھے گیا, فیصلہ وہی مگر تقریر نئی تھی کہ اس سال امتحانات نہیں لیے جائیں گے.

جہاں کچھ بچے چین کی بانسری بجارہے ہیں …….. وہیں طلباء کی بڑی تعداد فکرمند بھی دکھائی دیتی ہے.نچلے طبقے کو تبدیلی اوپر نہیں لاسکی مگر بیک بینچرز کو پرموٹ ضرور کرادیا گیا, نویں دسویں والے ہوں یا انٹر والے اس بارے میں شدید تحفظات رکھتے ہیں کہ کیا واقعی نیا بننے والا جانچ کا نظام ان کی صلاحیت کے مطابق رزلٹ دے گا؟ کیا اس طرح ایورج نمبر لینے کے بعد ان کی ڈگریاں ساری زندگی انہیں ایورج کی لائن میں تو نہیں کھڑا کردیں گی؟ کوئی اس بات پہ فکرمند ہے کہ کیا کیمسڑی کی پورے سال کی محنت اور سندھی کے آخری ہفتے کا رٹا برابر کردیا جائے گا؟ اس بات سے قطعہ نظر کے حکومت تعلیم کے معاملے میں کتنی سنجیدہ رہی ہے اور تبدیلی قانون کیا گل کھلائے گا مجھے اس نظام جانچ اور امتحانات میں ہمیشہ ایک بات نظر آتی ہےکہ ایک بڑے امتحان جس سے ہم سب گزر رہے ہیں ……

وہ “ہماری زندگی “ہے اور ہمارا ممتحن کتنا بڑا منصف اور قدر دان ہے کہ وہ اربوں کھربوں لوگوں کے لیے الگ الگ پیپر دیتا ہے . اسکی خاص صلاحیتوں کی بنیاد پر جانچتا ہے حد یہ کہ مواقعے ,وسائل ,اہلیت اور یہاں تک کہ نیت تک دیکھ کر فیصلہ مرتب کررہا ہے. اس دنیا میں اے-سی میں پڑھنے والے اور جھونپڑیوں میں پڑھنے والوں کے نمبرز میں کوئی فرق نہ سہی مگر اللہ تعالی تنگی اور کھلے میں خرچ کرنے کا اجر مختلف رکھتا ہے,سردیوں اور گرمیوں کے روزے کے تحفے الگ الگ بتاتا ہے بلکہ اندھیرے میں پژھی جانے والی نماز کی فضیلت روشنی میں پڑھنے والی نمازوں سے کہیں زیادہ کردیتا ہے . سبحان اللہ,اپنے ممتحن کی قدر دانی کا کیا کہنا جو مثقال ذرۃ خیر یرہ کا اعلان کرکے گویا نیکی کرنے کی اسپرٹ پیدا کردیتا ہے.بیک بینچرز پوزیشن ہولڈرز کی طرح نئی کلاسز میں تو براجمان ہوگئے ہیں مگر میرا ممتحن تو اگلی صف والوں کو اولون وسابقون کی راہ دیکھاتا ہے .

ہمارے والدین جیسے ہماری محبت میں اپنے حقوق سے دستبردار ہوتے جاتے ہیں..بژے پیار سے کہتے ہیں ,”کوئی بات نہیں بچوں کو وقت دو,اپنی فیملی دیکھو ہم اسی میں خوش ہیں کہ تم خوش و خرم رہو” تو مجھے سمجھ آتا ہے اللہ نے حقوق العباد کے اتنے نمبرز کیوں رکھ دئے ہیں؟ وہ جانتا ہے یہ سب رشتے احباب ہماری کمزوری ہیں سو کہتا ہے ان کا خیال رکھو میں اس پر بھی تمہیں اجر دوں گا. ہم پر اس وبا ,تنہائی, معاشی پریشانی اور اس عارضی امتحان سے خلاصی نے ہمیں یہ تو سیکھادینا چاہیئےکہ ہم اپنے قدر دان امتحان لینے والے کے رزلٹ ڈے میں سرخرو ہونے کی دوڑ میں لگ جائیں .

ابھی رمضان المبارک کی ساعتیں باقی ہیں اپنے رب کو اپنی توبہ سے منالیں بے شک وہ کسی پر بھی ظلم کرنے والا نہیں ہےاور بالکل ٹھیک ٹھیک جانچ کرنے والا ہے.

One thought on “نظام جانچ ازل سے ابد تک – صدف عنبرین

  • May 19, 2020 at 9:01 PM
    Permalink

    بےشک اللّٰه بہترین قدردان ہے

    Reply

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: