یہ خاموشی کہاں تک – سائنہ عثمان

بہت کچھ کہنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے
بہت کچھ کر گزرنے کی تمنا ہوتی رہتی ہے
میں غافل ہوں نہیں غافل دکھایا جاتا ہوں
سنو سچ تو یہ ہے کہ مجھے تکلیف ہوتی رہتی ہےماحول

مجھے اندازہ ہے کہ مسائل بڑھتے جاتے ہیں
کہ جب آگاہ لوگوں کی خموشی بڑھتی رہتی ہے

ہم پر وبا کے سائے منڈلا رہے ہیں…….. وبائیں کونسی ہیں ، اس بات کا اندازہ لگانا مشکل سا ہوگیا ہے. نفرت کی وبا ، شخصیت پرستی کی وبا، بدعنوانی کی وبا، فتنوں کی وبا، ظلم و جور پر خاموشی کی وبا اور انسانیت کے زوال کی وبا کے بادل ہم پر منڈلا رہے ہیں. کس موضوع پر لکھوں؟ کس کہانی کو عنوان دوں؟ کس کی بے حسی کو میں بیان کروں. ہم مرے ہوئے لوگوں کا مرثیہ لکھنے کے قابل نہیں ہیں اور زندہ انسانوں کا المیہ ہمیں قابل اعتبار نہیں لگتا. ہم برداشت سے اتنے عاری ہوتے جارہے ہیں کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اب ہر شخص اپنے نظریئے، جس پر وہ ایمان لے آیا ہے اس کے لئے وہ قتل کر گزرے گا. وہ نظریہ چاہے صرف پسندیدگی اور شخصیت پرستی کے زیر اثر ہی کیوں نہ ہو، وہ دوسرے شخص کو نہ برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور نہ اس پر علمی بحث یا تکرار کرسکتا ہے. بلکہ صرف اس بنیاد پر کہ وہ اس بات، نظریہ یا کام کا قائل نہیں وہ اس کے لیے ہر ممکن کوشش کرکے غیر اخلاقی اور غیر انسانی سلوک رواں رکھتا ہے.

وہ کسی کی آبروریزی تک کرسکتا ہے کیونکہ وہ آذاد ہے. کیونکہ وہ اس صدی کا آذاد انسان ہے جو کوے کی طرح ہر جگہ بیٹ گرا کر گزر جاتا ہے. وہ آزاد ہے کیونکہ ذلیل کرنے کے لئے جنس اور عمر کی قید تھوڑی ہوتی ہے، آپ کو صرف اور صرف کسی کے خیالات کو رد کرنا ہوتا ہے، کسی کو خاک چٹانی ہوتی ہے اور اس پر اپنی علمی قابلیت کے ذریعہ جہالت اور کم ظرفی کا الزام لگانا ہوتا ہے. ہم گھروں سے یہ سیکھتے ہیں کہ جو بڑا ہوتا ہے ……. اس کا ہر فیصلہ چاہے وہ نا انصافی کی داستان رقم کررہا ہو، ان پر نظر ثانی کی جاسکتی ہے اور نہ ان پر سوال کیا جاسکتا ہے. وہ فیصلے خدا کی طرف سے اتارے گئے ہیں، ان پر ایمان لانا ہماری زندگی کا مقصد ہے، چاہے وہ فیصلہ کرنے والا مرد ہو یا عورت، اختلاف اس بات سے نہیں کہ مرد سربراہ ہے یا اس کے فیصلے مسلط کردیئے جاتے ہیں ، بلکہ ہم ہر وہ خیال جو اسلامی تعلیمات سے منحرف ہے اس پر ایسے لبیک کرتے ہیں.

جیسے کوئی حکم ہو جس کے ٹالنے پر یا کم ازکم سوال پر عذاب نازل ہوجائے گا. سوال نہ پیدا ہوسکتے ہیں نہ ان کو پیدا کرنے کا موقعہ فراہم کیا جاتا ہے. انسان اللہ کا غلام ہے انسانوں کا نہیں. جب اسے سوال نہیں کرنے دیا جاتا تو وہ ایسے فرسودہ اور پسماندہ خیالات کا پرچار شروع کردیتا ہے جس پر اختلاف نہ وہ گوارہ کرتا ہے نہ اس پر خود سے تنقید کا قائل ہوتا ہے. تو ہمارے گھروں میں سکھا دیا جاتا ہے کہ سوال وہ ہے جو ضرورت پوری کرنے کے لئے کی جائے کیونکہ بحثیت قوم ہم ضرورت مند ہیں. ہم ضرورتوں کے لئے سوال کرتے ہیں، اس لئے پھر حکمران بھی ضرورت مندوں والے پروگرام اور پروجیکٹس پر کام کرتے ہیں، ہمارا قومی روئیے ضرورت مندوں والا ہے. اس لئے جب ہم کہیں علمی بحث کے لیے بیٹھتے ہیں تو لڑتے ہیں، گالم گلوچ اور کردار کشی کرتے ہیں، ایسی لڑائی ضرورت مند لڑتا ہے، وہ جو زندگی کے وسائل سے محروم ہو، وہ جو بنیادی ضروریات کے لئے ہی سوال کرنا جانتا ہو. ہم اللہ کے علاوہ اور بھی بہت سے خداؤں کو مانتے ہیں. ایک خدا تو معاشرہ ہے، ایک اس کا ڈر ہے اور ایک جاہلوں کی علم پر اجارہ داری ہے. دیکھا جائے تو گھروں میں جو ماحول ہے وہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ زندگی کا ہر فیصلہ کرنے کے لئے وہ شخص کسی دوسرے کا اس طرح محتاج ہے کہ وہ سوال ہی صرف ضرورت کے لئے کرتا ہے. اسے عادت مانگنے کی ہے.

نہ وہ کسی چیز میں حصہ ڈال سکتا ہے نہ اس میں کوئی کردار ادا کرسکتا ہے. وہ صرف سیکھ رہا ہے کہ خاموش تماشائی کا کردار کیسے ادا کیا جاتا ہے. اسے بچپن سے ہی خاموش تماشائی کا کردار دے دیا جاتا ہے. اگر بچپن سے ہی والدین اسے ایک انسان کی طرح سمجھیں ، ہمیں بچے انسان نہیں لگتے، انھیں یا تو صرف لاڈ دیا جاتا ہے یا پھر ان کی ضروریات کو پورا کرنے کا سامان کیا جاتا ہے، ایک تربیت کا جو نظام ہے اس پر نہ تو کوئی کام کیا جاتا ہے نہ اس کی کوئی اہمیت ہے. پھر جب تعلیم کی بات آتی ہے تو ہمیں ایسے درس گاہوں کے حوالے کردیتے ہیں جہاں پڑھانے والے ضرورت کی خاطر آتے ہیں اور ضرورت کے مطابق کام کر کے چلے جاتے ہیں. مزاج ہی ضرورت مندوں والا ہے. معیشت کا نظام چلانے والے ضرورت مند ہیں، معاشرہ ضرورت مند ہے. اس صورتحال نے جس بحران کو جنم دیا ہے وہ دین کی صحیح تعلیمات سے دوری ہے. چونکے ہماری ضرورتوں کی درجہ بندی میں دین سب سے آخر میں ہے کیونکہ اس کی اہمیت ہماری زندگی میں صرف اتنی ہے کہ ضرورتوں کی وکالت میں ہم دین کا استعمال کرتے ہیں. بلکہ استحصال کرتے ہیں. بچہ تھوڑا بڑا ہوا قاری صاحب کے حوالے کردیا یا کسی مدرسے کے تاکہ وہ اسے مسلمان بنائے، اسے قرآن اور سنت سے آشنا کرے. وہ دو یا چار گھنٹے اس کے لئے پابند کردیئے جاتے ہیں کہ وہ سب یاد کرلے.

اب وہ ماحول جہاں وہ اس مقدس کتاب کو پڑھنے جاتا ہے وہاں پڑھانے والے یا تو دین سے محبت کرواتے ہیں یا اس سے دوری. اس پر ایک الگ بحث ہونی چاہیے کہ کیا ہمارے جتنے بھی علمی درس گاہ موجود ہیں وہ اپنی ذمہ داری سے مسلمان بنا رہے ہیں یا ان کو دین سے نفرت کروا رہے ہیں. وہ ان چار گھنٹوں کے بعد گھر پہنچتا ہے تو گھر کا ماحول نہ تو دینی ہوتا ہے نہ دنیاوی. نمازیں ہوتی ہیں مگر اخلاقی قدریں رشتے داروں کی خاطر قربانی دے رہی ہوتی ہیں، مسلمان موجود ہوتے ہیں مگر دین کی تعلیمات کے ساتھ روئیہ عجب بیگانوں سا ہوتا ہے. صرف اسلامی تقریبات پر زور ہوتا ہے اور تعلیمات کے ساتھ وہ زیادتی جو صرف دین کا مذاق بناتے ہیں اور کچھ بھی نہیں. وہ علمی درس گاھ جن میں دنیا کی تعلیم دی جاتی ہے وہاں یا تو ضرورت مند پیدا ہورہے ہیں یا اسلام مذہب سے بیزار نوجوان، یہ بات سمجھنا اب مشکل نہیں. مگر کیا ہم غیر جانبدار ہوکر اپنے گھروں کے ماحول اور غیر تربیتی نظام پر غور نہیں کرسکتے؟ کیا ہم غیر جانبدار ہوکر مدارس اور دنیاوی علوم کے درس گاہوں پر سوال نہیں کرسکتے؟

کب تک ہم اس ذہنیت کے ساتھ رہیں گے جو نہ انسان پیدا کررہا ہے اور نہ ہی مسلمان! ہمارے نظریات دین سے زیادہ اہم ہیں. ہمیں اللہ اور اس کے رسول، صحابہ کے علاوہ ایسے شخصیتوں کے خمار میں گرفتار ہیں جو نہ ہمیں تنقید کی طرف بڑھنے دیتے ہے اور نہ اندھی تقلید سے ہمارے قدم پلٹتے ہیں. اور یہی بچہ جب شعور اور آگاہی کی عمر میں قدم رکھتا ہے تو معاشرے کا ظلم اور اپنے خاندانی دین کا ملاپ سمجھ نہیں آتا. اور اس موقعہ کا فائدہ وہ اٹھا لیتے ہیں جو دین چاہتے ہی نہیں. جو اخلاقی قدروں کو مانتے ہی نہیں جو انسان کو آذاد پسند کرتے ہیں. ان قوتوں سے ایک ضرورت مند کیسے لڑسکتا ہے. ان حقوق کے علمبرداروں سے لڑنے کے لئے ضرورتمندوں کی قوم کہاں لڑ سکتی ہے. وہ یہا‍ں بھی ضرورت کے لئے مانگنے کھڑی ہوجاتی ہے. اسلامی نشاۃ ثانیہ کا خواب دیکھنے والے اس ضرورت کی وبا سے جان چھڑا نہیں پا رہے اور وہ خواب بھی دوسروں سے متاثر ہو کر دیکھتے ہیں. ان کے حکمران علاج کے لئے دوسروں کے ہی محتاج ہوتے ہیں. وہ وباؤں سے نہیں لڑتے، گھروں میں محصور ہوتے ہیں تاکہ ان کی دوا کوئی اور ایجاد کرے. یہ بچہ ہر مسند پر براجماں ہوجائے وہ لڑے گا ضرورت مند کی طرح اور تنقید بھی اسی طرح کرے گا.

اخلاق اور کردار کا وہ باب جو ہم نے عبادات پر تکرار کے سبب پس پشت ڈال دیا ہے، اس پر عمل کی ضرورت ہے. ول ڈیورنٹ لکھتے ہیں کہ خاندان تہذیب کا مرکز ہے. مگر ہم دیکھ رہے ہیں کہ خاندانی نظام کا شیرازہ کس طرح بکھر رہا ہے. اس کی مضبوطی معاشرے کی مضبوطی کو یقینی بناتی ہے. مگر اب جب ہم ضرورت مند کی سی زندگی گزار رہے ہیں تو خاندانی نظام ہمیں بکھرا ہوا اور بے معنی نظر آتا ہے. معاشرے میں وہ قوتیں جو اس نظام کے حق میں نہیں ہیں وہ ان کمزوریوں کا استحصال جو خاندانی نظام کو کھوکھلا کررہی ہیں بخوبی فائدہ اٹھا رہے ہیں. آوازیں ابھی عورت مارچ کے خلاف اٹھ رہی ہیں مگر کیا یہ آوازیں اس پھیلتی وبا سے بچا سکیں گی جو ہمارے گھروں تک پہنچ گئی ہیں. انسانوں کے ساتھ زیادتی جاری ہے چاہے وہ مرد ہو یا عورت. ان کی حق تلفی کی شروعات گھروں سے ہی ہوتی ہے جو پھر وہ گھروں سے عدالت اور عدالت سے سڑکوں تک آجاتی ہیں . ابھی تو ہم اس جنگ میں مبتلا ہیں کہ حقوق کے لئے سڑکوں پر جانا ہے یا نہیں.

کل، ہم جنس پرستی کی وبا جب ہمارے گھروں تک پہنچ جائے گی تو ہم کس بنیاد پر لڑیں گے. کیا صفائی دیں گے؟ دین ہماری زندگی کی ضرورتوں میں سب سے آخری درجے پر ہے، تحقیق سے ہمیں کوئی دلچسپی نہیں اور تنقید ہمیں گوارا نہیں. اس پر تو صرف ایک ہی حل نظر آتا ہے. وہ یہ کہ ہم گھروں میں محصور ہوجائیں اور محشر کا انتظار کریں

Share:

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on pinterest
Share on linkedin
Share on email
Share on telegram
Share on skype

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Related Posts

error

Enjoy this blog? Please spread the word :)