نیازبو اگانے کا طریقہ اور اِس کے فوائد

نیازبو ایک بہت ہی فائدےمند پودا ہے۔ یہ پودینے کے خاندان سے تعلق رکھتا ہے اور اِس کی بہت سی اقسام ہیں .

مثلاً تلسی، لیمن، بازل ،تھائی بازل وغیرہ۔ نیاز بو کو اگر ٹماٹر کے پودوں کے ساتھ لگایا جائے تو پودوں پر لگنے والے ٹماٹروں کا ذائقہ ذیادہ اچھا ہو جاتا ہے۔ اِس کی خوشبو مچھر اور مکھیوں کو ناپسند ہے اِس لیے اِس کو گھر میں اگا کر مچھروں اور مکھیوں سے چھٹکارا بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اِس کے پودے باغیچے اور کیاری کے اردگرد بار بنانے کے لیے بھی اگائے جاتے ہیں۔ اِس کے پتوں سے قہوہ اور چٹنی بھی بنائی جاتی ہے۔ نیاز بو کے بہت سے طبعی فوائد بھی ہیں۔ نیازبو کا استعمال جلد معدے اور دل کے لیے بہت فائدہ مند ہے۔ نیاز بو کے پتے مختلف کھانوں میں بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ اِس کے پتے اطالوی کھانوں کا ایک اہم جز ہے اور اطالوی لوگ اِس کے پتے بہت شوق سے اپنے کھانوں میں استعمال کرتے ہیں۔ اِس کی اہمیت کا اندازہ اِس اطالوی کہاوت سے ہوتا ہے کہ “جہاں نمک استعمال کیا جا سکتا ہے وہاں بازل (نیازبو) بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔” نیاز بو کے بےشمار فوائد کی وجہ سے ہندو نیازبو کی ایک قسم تلسی کو مقدس خیال کرتے ہیں۔

نیازبو کو گملوں اور زمین دونوں میں اگایا جا سکتا ہے۔ اِس کو گملے میں لگانے کے لیے سب سے پہلے ایک گملہ لے لیں۔ گملہ بارہ انچ کا ہو تو بہتر ہے تاکہ نیازبو کا پودہ گملے میں اچھے سے نمو کر سکے۔ نیازبو کو بارہ انچ سے چھوٹے گملوں میں بھی اگایا جا سکتا ہے تاہم چھوٹے گملے میں پودا ذیادہ بڑا نہیں ہو گا۔ اب گملے کے سوراخ کو کسی پتھر کی مدد سے ڈھک لیں اگر پتھر میسر نہیں ہے تو کسی کاغذ کو تین چار بار تہہ کر کے اُس سے گملے کا سوراخ ڈھک دیں۔ اب مٹی تیار کرنے کا مرحلہ آتاہے۔ مٹی تیار کرنے کےلیے تین حصے مٹی لے لیں اور ایک حصہ پتوں یا گوبر کی کھاد لے لیں۔ اب اِن کو اچھی طرح ملا کر گملے میں بھر لیں۔ اس پودے کو ذیادہ کھاد کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اگر اِس کو ذیادہ کھاد دی جائے تو اِس کے پتوں کا ذائقہ گھٹ جاتا ہے۔ نیازبو کو اگانے کے لیے گملہ تیار کرنے کے بعد اب آپ کو اِس کے بیجوں کی ضرورت ہو گی۔ اِس کے بیج ہر جگہ آسانی سے دستیاب ہیں۔ اِس کے بیج ہم فروری کے مہینے میں لگا سکتے ہیں۔ بیج لینے کے بعد مٹی میں ایک سنٹی میٹر کا سوراخ کریں اور اِس میں بیج ڈال دیں اور پھر سوراخ کو مٹی سے ڈھک دیں۔ اب اِس کو پانی دے دیں۔ گملے کو کسی ایسی جگہ رکھ دیں جہاں سورج کی دھوپ چھن کے آ رہی ہو۔ تقریباً ایک ہفتے بعد بیج سے پودا نکل آئے گا۔ جب پودا پانچ انچ بڑا ہو جائے تو اس کو دھوپ میں رکھا جا سکتا ہے۔ پودے کو ہر روز پانی دیں اگر گرمی ذیادہ ہو جائے تو دن میں دو بار پانی دیں۔

جب پودا بڑا ہو جائے تو آپ اپنی ضرورت کے مطابق اِس سے پتے اتار سکتے ہیں۔ اِس کے پتوں کو سکا کے یا پھر فریز کر کے سٹور بھی کیا جا سکتا ہے۔ موسم سرما سے پہلے پودوں پر پھول لگنا شروع ہو جائیں گے جو شہد کی مکھیوں کو اپنی طرف کھینچیں گے۔ کچھ عرصے بعد اُن پھولوں سے بیج بن جائیں گے تو آپ بعد میں پودے اگانے کے لیے ان بیجوں کو اکھٹے کر لیں۔ جب پودے پر بیج لگ جائیں اور اِس دوران بارش ہو جائے تو پودے بہت خوبصورت منظر پیش کرتے ہیں۔ اِس کے بیج پانی کو جزب کر کے پھول جاتے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ پودوں پر موتی بکھرے ہوئے ہیں اور اٛن بیجوں کو اٹھا کر کھانے کا دل کرتا ہے۔ جو کہ کھائے بھی جا سکتے ہیں۔ پودے پر پھول لگنے کی صورت میں پودا اپنی ذیادہ طاقت پھول اور بیج بنانے میں ہی صرف کر دیتا ہے اور پتے اگنا رک جاتے ہیں۔ اگر آپ صرف پتے ہی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو پھولوں کو کاٹ دیں۔ ایسا کرنے سے پودا دوبارہ اپنی طاقت پتے بنانے میں صرف کر دیتا ہے۔ سردیوں میں پودا سوک جائے گا اور گرمیوں کا موسم آنے پر دوبارہ ٹھیک ہو جائے گا۔ تاہم بہتر ہے کہ گرمیاں ختم ہونے پر پودے کو اکھاڑ کر پھینک دیا جائے اور اگلی گرمیوں میں نئے سرے سے پودے اگائے جائیں۔

پودوں پر کسی بھی قسم کے کیڑوں کے حملہ آور ہونے کی صورت میں اُن پر نیم آئل یا پھر آرگینک سپرے جس کو بنانے کا طریقہ آرگینک کچن گارڈنگ بیچ پر پہلے ہی بتایا جا چکا ہے کا سپرے کریں۔

Share:

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on pinterest
Share on linkedin
Share on email
Share on telegram
Share on skype

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Related Posts

error

Enjoy this blog? Please spread the word :)