ایمان اور احتساب (آٹھواں حصہ) – بشری تسنیم

الله رب العرش العظيم نے اپنی کتاب ہدایت میں آمنوا اور عملوالصلحت کو ایک دوسرے کا لازمی حصہ بنایا ہے..

آمنوا حقوق الله ہیں تو عملوالصلحت کا سارا معاملہ حقوق العباد سے تعلق رکھتا ہے اور دراصل یہی اصل میدان ہے جس میں اولاد آدم کی ہار جیت کا دارومدار ہے (الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا ۚ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْغَفُورُ)[سورت الملک – 2]…….. اگر حقوق الله کی ادائگی کا بنیادی نکتہ” شکر “سے وابستہ ہے تو حقوق العباد کی ادائگی کا بنیادی نکتہ “صبر “سے وابستہ ہے. یقین جانئے صبر اور شکر مؤمن کی روحانی زندگی کے دو پر ہیں جن سے وہ قرب الہی کی طرف پرواز کرتا ہے..اور یہ بهی سب جانتے ہیں کہ بندے کی عبادات سے الله رب العالمین کو کچھ فائدہ نہیں ہوتا ، کوئی بندہ اس کی عبادت نہ کرے تو  اس کے” إله  “ہونے میں کسی قسم کا کوئ فرق نہیں پڑتا وہ مالک کون و مکاں ہے ساری مخلوق اس کو مانے یا انکار کرے اس کی ناشکری کرے یا شکر کرے وہ غنی عن العلمین ہے. (قَالَ هَٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّي لِيَبْلُوَنِي أَأَشْكُرُ أَمْ أَكْفُرُ ۖ وَمَنْ شَكَرَ فَإِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ ۖ وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ رَبِّي غَنِيٌّ كَرِيمٌ)[سورت النمل – 40]

یہ عبادات اور شکر کا جزبہ بندے کے اپنے فائدے کے لئے ہے اور حقیقتاً یہ عبادات  حقوق العباد کی ادائگی کے لئے بندے کو روحانی تقویت  دیتی ہیں.. غور کریں تو معلوم ہوتا یے کہ شکر کا جزبہ انسان کو صابر بهی بناتا ہے. شکر اور صبر ایسے لازم وملزوم ہیں جیسے آمنوا اور عملوالصلحت. . صبر کرنا اسی لئے تو ممکن ہوتا ہے کہ شکر کرنے کے لئے کوئی نعمت نظر آرہی ہوتی ہے. اور نعمتیں اس قدر جا بجا بکهری ہوئ ہیں کہ ان سے صرف نظر بهی ممکن نہیں. اور شاکر بندہ دراصل لاحاصل چیزوں کی حسرتوں سے آزاد ہوکر اپنے رب کی تقسیم پہ خوش ہوتا ہے  اس کا شکر ادا کرتا ہے اپنی خواہش نفس کو حاوی نہیں ہونے دیتا کہ ضبط نفس کو صبر  کرنا بهی کہتے ہیں. صابر و شاکر بندہ ہر وقت ہر حال میں کائنات  پہ غوروفکر کی وجہ سے الله کے ساتھ رابطے میں رہتا ہے. (أَلَمْ تَرَ أَنَّ الْفُلْكَ تَجْرِي فِي الْبَحْرِ بِنِعْمَتِ اللَّهِ لِيُرِيَكُمْ مِنْ آيَاتِهِ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِكُلِّ صَبَّارٍ شَكُورٍ)[سورت القمان-31]…….(إِنْ يَشَأْ يُسْكِنِ الرِّيحَ فَيَظْلَلْنَ رَوَاكِدَ عَلَىٰ ظَهْرِهِ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِكُلِّ صَبَّارٍ شَكُورٍ)[سورت الشورہ 33]….. صبر زندگی کے ہر پہلو پہ حاوی ہے.قرآن پاک میں تقریباً ہر دوسرے صفحے پہ صبر کا زکر ملتا ہے.صبر  کے مختلف پہلو ہیں. اپنے نفس کو نیکی پہ مائل کرنا اس پہ اسقامت دکهانا ،نیکی کو اعلی معیار پہ لانے کی سعی کرنا سب صبر کرنے کے مختلف مظاہر ہیں ..عمل صالح کرنے کے لئے قدم بڑھانے کے دوران ، اپنے نفس امارہ کو سر کشی سے روکنا بهی صبر کا متقاضی ہے..

(قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا….. (وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَّاهَا)[سورت الشمس9 -10).بندوں کو  الله تعالیٰ نے مسابقت  کے جس میدان میں اتارا ہے وہ فاستبقوا الخیرات ہے.اس میں سرعت سے آگے بڑھنے کی تلقین ہے.” ایکم أحسن عملا “کے معیار پہ پورا اترنے کی ترغیب ہے .اور یہ سب صبر  و استقامت کا متقاضی ہے. بندوں میں حقوق و فرائض کی مساویانہ تقسیم سے دنیا میں معاشرتی امن وسکون کا توازن برقرار رہتا ہے. اور اس توازن کو بر قرار رکھنا سب انسانوں کی ذمہ داری ہے..عدم توازن اس وقت پیدا ہوتا ہے جب حقوق لینا مقصد زندگی بن جائے اور فرائض سے پہلو تہی کی جائے. حقوق العباد کی ترتیب میں جو درجہ بندی الله تعالیٰ نے مقرر کردی ہے اس کو برقرار رکھنا اطاعتِ الہی بهی ہے اور فرائض کی بجا آوری میں سہولت بهی ہے. اس ترتیب کے لحظ سے پہلا حق ماں کا پهر باپ کا ہے..اور شادی کے بعد عورت کے لئے اس کا شوہر سب  رشتوں   پہ مقدم ہے. اسلامی معاشرہ میں بندوں کی ایمانی کیفیت یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنا حق لینے سے زیادہ فرض نبهانے میں دلچسپی رکھتے ہیں.یعنی  وسعتِ قلبی مؤمن کی شان ہے. تنگئ نفس ہر رشتے کی چاشنی چاٹ جاتی ہے..اسلامی معاشرے کی جهلک اس آیت میں بتائ گئ ہے. (وَالَّذِينَ تَبَوَّءُوا الدَّارَ وَالْإِيمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ يُحِبُّونَ مَنْ هَاجَرَ إِلَيْهِمْ وَلَا يَجِدُونَ فِي صُدُورِهِمْ حَاجَةً مِمَّا أُوتُوا وَيُؤْثِرُونَ عَلَىٰ أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ ۚ وَمَنْ يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ)[سورت الحشر- 9]

دنیا میں رشتے نبهانے اور آخرت میں فلاح حاصل کرنے والے وہی لوگ ہیں جو نفس کی تنگی سے بچا لئے گئے.رمضان المبارک کے اوقات میں خصوصا  طاق راتوں میں اپنے نفس کا جائزہ لیا جائے کہ حقوق و فرائض کے معاملے میں ہم اپنے نفس کو کہاں کھڑا پاتے ہیں؟..تنگئ نفس نے کتنی کا میابیوں کو ناکامیوں میں بدل دیا ہے . طمع ولالچ نے دل کو کتنا ویران کر رکھا ہے..رشتوں کی مٹھاس تنگئ نفس کی بدولت کس قدر  کڑواہٹ میں بدل گئ ہے..ضد، ہٹ دهرمی اور انا کی تسکین کے لئے کتنے جنجال پال رکھے ہیں؟ حسد،غیظ و غضب کی  آندھی نے محبتوں کے کتنے چراغ گل کر دئے ہیں..دوسروں پہ بہتان، الزام لگا کر کتنے دل توڑنے کا گناہ سرزد ہوا ہے؟ اپنے نفس امارہ کو نفس مطمئنة بنانے کے لئےاپنے  قصوروں کا اعتراف ،بندوں سے معافی مانگنا ضروری ہے تاکہ الله تعالیٰ بهی ہمیں معاف فرمائے.  یہ جاننا بهی ضروری ہے کہ خطا ،نسیان اور گناہ میں فرق کیا ہے؟ صغیرہ و کبیرہ گناہ کیا ہیں؟ ا

ور گناہوں کی بخشش کے لئے ” اللهم انک عفو کریم تحب العفو فاعف عنا” کی تکرار لیلة القدر میں کرنے کی تلقین کیوں گی گئ ہے؟ (جاری ہے )

Share:

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on pinterest
Share on linkedin
Share on email
Share on telegram
Share on skype

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Related Posts

error

Enjoy this blog? Please spread the word :)