فاطمہ بنت خطاب کی طلب! – نوشابہ یعقوب راجہ

پاکستان میں مشکل کی اسں گھڑی میں پاکستان کی بیٹیاں اپنے بھائیوں کے شانہ بشانہ ہر شعبے میں خدمت میں مصروف عمل ہیں۔

چاہے وہ ڈاکٹرز ہوں ،نرسنگ اسٹاف ہو،پولیس کا شعبہ ہو،آرمی آفیسرز ہوں سوشل ورکرز ہوں ہر ہر شعبے میں بہترین ذمہ داریاں ادا کر رہی ہیں…… یہ تمام بیٹیاں بہت مبارکباد اور سلام کے لائق ہیں میں اپنی اور پوری پاکستانی قوم کی طرف سے تمام بہنوں اور بھائیوں کو خراج تحسین پیش کرتی ہوں جو آج پاکستان میں ہر شعبے میں اپنی دھرتی ماں کی خدمت میں دن رات مصروف عمل ہیں ۔ یہ ہمارے وہ قومی ہیروز ہیں جو اپنی جانوں کو ہتھیلی پر لیے دوسروں کی زندگیوں کو محفوظ بنا رہے ہیں۔ یہ وہ دلیر لوگ ہیں جو اپنے آپ کو مشکلات میں ڈال کر گھر گھر راشن پہنچا رہے ہیں۔مشکل کے ان لمحات میں خواتین کی خدمات ہمارے اسلامی معاشرے کی باعث فخر خوبصورت روایات ہیں۔اسلام کی شہزادیاں ہمیشہ سے اپنی احسن ذمہ داریاں ادا کرتی چلی آ رہی ہیں۔ایک بیٹی میں اللہ نے وہ قوت رکھی ہے جو وقت پڑنے پر بیٹے کا احسن کردار ادا کرتی ہے۔

آج ان بہنوں نے کو دیکھ کر نجانے کیوں تاریخ اسلام کی وہ شاندار خواتین یاد آنے لگیں جن کو اللہ نے بہت بلند مقام سے نوازا…… اسلام نے عورت کو صرف گھر کی ملکہ نہیں بنایا بلکہ اسے حاکم، حکومت، سیاست، قیادت، انتظامات، مشاورت، ہر چیز کا ترجمان بنایا۔جو کہ ہماری بہادر اور جراتمند خواتین ہر شعبہ ہائے زندگی میں ثابت کر کے دکھاتی چلی آ رہی ہیں۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے، فرمایا گیا ……’’اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو، جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا فرمایا پھر اسی سے اس کا جوڑ ا پیدا فرمایا۔ پھر ان دونوں میں سے بکثرت مردوں اور عورتوں (کی تخلیق) کو پھیلا دیا۔‘‘ (النساء) رب کائنات نے مرد و عورت کی تخلیق کے درجے کو برابر رکھا ہے۔ جبکہ اسلام نے عورت کو پیدائش سے لے کر موت تک کے حقوق سے نواز دیا۔ عورت کو اس وقار، عصمت، عزت، حرمت سے نوازا گیا ۔اسلام نے ہی عورتوں کو مردوں کے مساوی حقوق دیے۔ اللہ اپنے ہر دلعزیز بندوں اور بندیوں کی محنتیں ضائع نہیں کرتا۔اللہ جب رتبہ دینا چاہے تو فرعون کے سامنےاسی کے گھر میں اس کی بیوی آسیہ کے دل میں خیال ڈال دیتا ہے اور وہ فرعون کے محل میں موسی کی پرورش کر کے پال لیتی ہے۔

اللہ پر ایمان رکھنے والی محبوب بندی …… حضرت مریم علیہ السلام اللہ کی عبادت کرتی ہیں تو اس کی پاکیزہ زندگی کو روح القدس کی مدد سے حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش کا معجزہ دیتا ہے اور پھر چھلے میں حضرت عیسی علیہ السلام کو قوت گویائی دیکر ماں کی پاکیزگی کی گواہی اور اپنی نبوت کا اعلان کروا دیتا ہے۔ تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے…… اللہ تعالی نے جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا کہ اپنی بیوی ہاجرہ اوربیٹے حضرت اسماعیل علیہ کو السلام کو مکہ کی ویران وادی میں چھوڑ کر لوٹ آنا ۔تو جب حضرت ہاجرہ نے پوچھا …….. ہمیں یہاں کیوں تنہا چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خاموشی اختیار کی تیسری دفعہ حضرت ہاجرہ نے پوچھا…… خاموش جان کر کہنے لگی ، یہ اللہ کا حکم ہے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ہاں میں سر ہلایا۔ تو بہت ایمان افروز جواب دیکر حضرت ہاجرہ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو رخصت کیا کہ “پھر آپ جائیں اللہ اپنے بندوں کو ضائع نہیں کرتا”۔

پھر بچے کو جب پیاس لگی تو صفا مروہ میں ایک مقام سے دوسرے مقام تک دوڑتی رہی سات چکر مکمل کیے۔اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی سیڑھیاں رگڑنے سے چشمہ جاری ہوا اور وہ زم زم کا چشمہ آج بھی جاری و ساری ہے۔ اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کو قیامت تک لوگوں کے لیے عمرہ و حج کے لیے فرض قرار دے دیا ۔جب وہاں زم زم کا چشمہ جاری ہوا تو دور سے گزرتے قافلے والوں نے آسمان پر کچھ پرندوں کو ہوا میں گھومتے دیکھا تو انھیں یقین ہوا یہاں پانی موجود ہو گا یوں وہ وہاں آئے ان کی حضرت ہاجرہ سے گفت و شنید ہوئی اور ان کو وہاں پڑاو کرنے کی اجازت ملی یوں وہ بیابان شہر آباد ہوا۔2014 میں جب عمرہ کی سعادت حاصل ہوئی تو مکہ سے جدہ ائیرپورٹ کیطرف واپسی رات کے وقت تھی میں ان کالے پہاڑوں کو دیکھ کر اس دور کو یاد کرتی رہی کہ ابھی اتنی جدت کے بعد بھی رات کی تاریکی میں ان کالے پہاڑوں سے خوف آتا ہے تو اس وقت تو بالکل سنسان جگہ تھی جس شہر کو اللہ نے اپنی بہت ہی خاص اور محبوب بندی حضرت ہاجرہ کے ذریعے آبادی کروائی۔جنھوں نے اللہ کے حکم کے آگے سر تسلیم خم کیا۔اور اللہ نے بھی کیا مرتبہ عطا کیا۔اپنے گھر کی زیارت کرنےوالوں کے لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت ہاجرہ اور اسماعیل علیہ السلام کی سنتوں کو رہتی دنیا تک فرض قرار دے دیا۔بیٹے کی تربیت ایسی کی کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنا خواب سنایا تو فرمائے لگے ابا جان اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ کر گردن پر چھری چلانا کہیں بیٹے کی محبت اللہ کے حکم پر حاوی نہ ہو جائے۔انھوں نے ایسا ہی کیا۔

یہ فیضان نظر تھا کہ مکتب کی کرامت ………. سکھائے کس نے اسماعیل کو آداب فرزندی!! مگر ایک حقیقت یہ ہے کہ ان کی تعلیم تربیت ان کی والدہ کی گود میں ہوئی جو بچے کی پہلی درسگاہ تھی۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے حضرت خدیجہ (رض) ایک تاجر عورت تھی انھوں نے جب اسلام قبول کیا اور ساری دولت اللہ کی راہ میں خرچ کر دی۔اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بہت حوصلہ بڑھاتی تھیں۔پہلی وحی آنے کے بعد سب سے پہلے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہ (رض)کو بتایا ۔جب وحی رک گئی تو پریشان ہوئے تو حضرت خدیجہ (رض ) نے تسلی دیتی تھیں اللہ تعالی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی ضائع نہیں کرے گا۔ عمرے کے سفر میں میری شدید خواہش تھی کہ غار حرا اور غار ثور کی زیارت کروں اور الحمداللہ یہ زیارت نصیب ہوئی اس سفر میں میں اس کیفیت کو محسوس کرنا چاہتی تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق کا وہ سفر کیسا ہوا ہو گا مگر یقین کریں کہ اس غار ثور پر جانے کے لیے بالکل نارمل حالات میں بہت ہمت اور حوصلہ چاہیئے اور خوف کے اس عالم میں وہاں کا سفر اور حضرت ابوبکر صدیق( رض) کا آگے پیچھے دائیں بائیں ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کرنا بہت بلند ایمان کی نشانی ہے ۔اور رات کی تاریکی میں معصوم حضرت اسما(رض) کا تین دن تک غار ثور پر کھانا پہنچانا بہت دلیری اور بلند ایمان کی نشانی ہے۔اللہ حقیقت میں اپنے بندے اور بندیوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔ نبی مہربان حضرت ام عمارہ کی بے حد تعریف کرتے تھے جب غزوہ احد میں مسلمانوں کی فوج منتشر ہو گئی تھی تو فرماتے تھےمیں جدھر دیکھتا مجھے ام عمارہ لڑتی نظر آتی تھی۔

جب عبداللہ بن ابی جو ریئس منافقین تھا حضرت عائشہ (رض)پر تہمت لگاتا ہے تو اللہ سبحان تعالی حضرت عائشہ (رض)کے پاکیزہ کردار کی گواہی میں وحی نازل کر دیتے ہیں۔ تاریخ اسلام کی ایک اور شاندار شہزادی فاطمہ بنت خطاب…… یہ حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی بہن ہیں یہ اور ان کے شوہر حضرت سعید بن زید رضی اﷲ تعالیٰ عنہما شروع ہی میں مسلمان ہوگئے تھے مگر یہ دونوں حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے ڈر سے اپنا اسلام پوشیدہ رکھتے تھے حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو ان دونوں کے مسلمان ہونے کی خبر ملی تو غصہ میں آگ بگولا ہو کر بہن کے گھر پہنچے کو اڑ بند تھے مگر اندر سے قرآن پڑھنے کی آواز آ رہی تھی دروازہ کھٹکھٹایا تو حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی آواز سن کر سب گھر والے ادھر ادھر چھپ گئے بہن نے دروازہ کھولا تو حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ چلا کر بولے کہ اے اپنی جان کی دشمن! کیا تو نے بھی اسلام قبول کر لیا ہے؟ پھر اپنے بہنوئی حضرت سعید بن زید رضی ﷲ تعالیٰ عنہ پر جھپٹے اور ان کی داڑھی پکڑ کر زمین پر پچھاڑ دیا اور مارنے لگے ان کی بہن حضرت فاطمہ بنت خطاب رضی ﷲ تعالیٰ عنہ اپنے شوہر کو بچانے کے لئے حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کو پکڑنے لگیں تو ان کو حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے ایسا طمانچہ مارا کہ کان کے جھومر ٹوٹ کر گر پڑے اور چہرہ خون سے رنگین ہوگیا بہن نے نہایت جرأت کے ساتھ صاف صاف کہہ دیا کہ عمر! سن لو تم سے جو ہوسکے کر لو مگر اب ہم اسلام سے کبھی ہرگز ہرگز نہیں پھر سکتے…….

حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے بہن کا جو لہولہان چہرہ دیکھا اور ان کا جوش و جذبات میں بھرا ہوا جملہ سنا تو ایک دم ان کا دل نرم پڑ گیا تھوڑی دیر چپ کھڑے رہے پھر کہا کہ اچھا تم لوگ جو پڑھ رہے تھے وہ مجھے بھی دکھاؤ بہن نے قرآن شریف کے ورقوں کو سامنے رکھ دیا حضرت عمر نے سورۂ حدید کی چند آیتوں کو بغور پڑھا تو کانپنے لگے اور قرآن کی حقانیت کی تاثیر سے دل بے قابو ہو کر تھرا گیا جب اس آیت پر پہنچے کہ اٰمِنُوْا بِاللہِ وَ رَسُوْلِہٖ یعنی ﷲ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ تو پھر حضرت عمر ضبط نہ کرسکے آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے بدن کی بوٹی بوٹی کانپ اٹھی اور زور زور سے پڑھنے لگے اَشْھَدُ اَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلَّاا للہُ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسولُہٗ پھر ایک دم اٹھے اور حضرت زید بن ارقم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے مکان پر جاکر رسول ﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے دامن رحمت سے چمٹ گئے اور پھر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم اور سب مسلمانوں کو اپنے ساتھ لے کر خانہ کعبہ میں گئے اور اپنے اسلام کا اعلان کر دیا اور اعلان کیا…..

آج جس شخص کو اپنی ماں کو بےاولاداپنی عورتوں کو بیوہ اور اپنے بچوں کو یتیم کرنا ہو وہ عمر کے مقابلے میں آئے۔ اس دن سے مسلمانوں کو خوف و ہراس سے کچھ سکون ملا اور حرم کعبہ میں علانیہ نماز پڑھنے کا موقع ملا ورنہ لوگ پہلے گھروں میں چھپ چھپ کر نماز و قرآن پڑھا کرتے تھے۔ حضرت عمر فاروق( رض) کے ایمان لانے کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دعا مانگا کرتے تھے اور ان کے ایمان کا سبب ان کی صاحب ایمان بہن فاطمہ بنت خطاب بنی۔میں تاریخ اسلام کے اس کردار سے بہت متاثر ہوں کہ جس کے مضبوط ایمان نے کٹر اسلام مخالف شخص کا رخ موڑا جو (نعوذ بااللہ) گھر سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کی غرض سے نکلا تھا اور بہن سے ٹکر لیکر اسکے مضبوط ایمان سے اس سے قرآن پاک کی تلاوت سن کر ایسا بدلا کہ دائرہ اسلام میں داخل ہوا اور وہی تلوار چند لمحوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کرنے لگی اور پھر اسلام کے عروج کا آغاز ہوا پھر اسلام نہ صرف مدینہ کی اسلامی ریاست بنا کر فتح مکہ کر کے تین براعظموں کی حکومت کرنے لگا۔

ہماری تاریخ بتاتی ہے جب فاطمہ جناح جیسی بہن قائداعظم کا ساتھ دیتی ہیں تو پاکستان وجود میں آ جاتا ہے۔آج امت مسلمہ کو پاکستان کو ایسی بیٹیوں کی ضرورت ہے جو اپنے بھائیوں کا حوصلہ بنیں ان کا ساتھ دیں تودم توڑتی ہوئی امت میں زندگی کی روح واپس آ سکتی ہے آج فاطمہ بنت خطاب جیسی بہنیں امت مسلمہ کو چاہیں جو حضرت عمر جیسے دلیر اور قابل بھائیوں کو صاحب ایمان بنا سکیں اور یہی خام مال واپس پلٹیں گے تو امت مسلمہ کو عروج حاصل ہوگا۔ جب تک فاطمہ جیسی بہنیں اپنا کردار ادا کرتی رہیں گی مسلمان ترقی کی منازل طے کرتے رہیں۔آج مجھے اور میری مسلم بہنوں کو یہ کردار ادا کرنا ہے۔

اللہ ہم سب کی بہترین رہنمائی فرمائے ہمیں ہماری ذمہ داریاں طریق احسن ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور صراط مستقیم پر چلائے ۔آمین ثم آمین۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: