روزے کی رخصت – پروفیسر ام نور شھزادی مکی

اسلام آسانی کا دین ہے۔ لوگوں کی طبیعت اور طاقت کا لحاظ رکھتا ہے۔ جہاں بھی کوئی حکم کسی کے بس سے باہر ہو ، وہاں ہی آسانی پیدا کر دی گئی یا رخصت دے دی گئی۔ نماز فرض کی گئی ہے، اگر کوئی بیمار ہے تو بیٹھ کر پڑھ لے، لیٹ کر پڑھ لے حتیٰ کہ اشاروں سے پڑھ لے ۔ اللہ تعالی قبول فرمانے والا ہے۔روزے بھی اللہ تعالیٰ نے ایک ماہ کے لے فرض کیے۔ اس میں بھی مجبور و بے بس کے لیے رخصت کے احکام موجود ہیں۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَمَنْ کَانَ مَرِیْضًا اَوْ عَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ ۭ یُرِیْدُ اللّٰہُ بِکُمُ الْیُسْرَ وَلَا یُرِیْدُ بِکُمُ الْعُسْرَ ۡ وَلِتُکْمِلُوا الْعِدَّةَ ﴾ (البقرة:۱۸۵) ’’اور جو کوئی ان دنوں میں بیمار ہو جائے یا مسافر ہو تو دوسرے دنوں میں اس گنتی کو پورا کرے۔ اللہ تعالیٰ تمہارے لیے آسانی چاہتا ہے، تنگی نہیں چاہتا (آسانی کا حکم اس لیے ہے) تاکہ تم گنتی پوری کرو اور اللہ نے تمھیں جو ہدایت دی ہے اس کی بڑائی بیان کرو‘‘۔
ہر عاقل بالغ، تندرست اور مقیم پر روزہ فرض ہے۔ بیمار اور مسافر اگر اپنی مجبوری کی وجہ روزہ نہ رکھ سکیں تو ان دنوں روزہ چھوڑ دیں۔ اور رمضان کے بعد آیندہ رمضان تک کسی وقت بھی روزے رکھ کر اپنی گنتی کوپورا کر لیں۔رمضان کے روزے کا اجرو ثواب تو بیان ہو چکا اس سلسلے میں ارشاد نبوی ملاحظہ فرمائیں۔ مَنْ اَفَطَرَ یَوْمًا مِن رَمَضَانَ مِنْ غَیْر رُخْصَةٍ وَلَا مَرَضٍ لَمْ یَقْضِہ صَوْمُ الدّہْرِ کُلِّہ وَاِنْ صَامَ (ترمذی)’’جو رمضان المبارک کا ایک روزہ بغیر عذر و بیماری کے چھوڑ دے تو ساری عمر اگر وہ روزے رکھے، اس ایک چھوڑے ہوئے روزے کا اجروثواب حاصل نہیں کر سکتا‘‘۔

مسافر کا روزہ:
وہ آدمی جسے سفر درپیش ہوا اور اس پر قصر نماز کے احکام لاگو ہوتے ہوں۔ وہ روزہ چھوڑ سکتاہے۔ جتنے دن وہ سفر پر رہا۔ بعد میں اتنے دن روزہ رکھ لے۔ اگر کوئی سفر کے دوران بھی روزہ رکھ سکتا ہو اور اسے کوئی مشکل محسوس نہ ہوتی ہو تو روزہ رکھ سکتا ہے۔ بہرحال نہ رکھنا زیادہ بہتر ہے۔ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی رخصت سے فائدہ اٹھانا ہی اس رخصت کا شکر ادا کرنے کا بہترین طریقہ ہے۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں جاتے تھے۔ رمضان المبارک میں کوئی روزہ رکھتا اور کوئی نہ رکھتا۔ کوئی بھی کسی پر اعتراض نہ کرتا تھا۔ یہ بات پیش نظر رہتی تھی کہ جو روزہ آسانی سے رکھ سکتا ہے وہ رکھے اور جو نہیں رکھ سکتا وہ نہ رکھے۔ یہ بہتر ہے۔ (مسلم)…….ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اَصُوْمُ فی السفر و کان کثیر الصیام فقال ان شِئْتَ فصُمْ وَاِنْ شِئْتَ فَافْطِرْ (متفق علیہ)…….کیا میں سفر میں روزہ رکھ لیا کرو۔ اور یہ بہت زیادہ روزے رکھنے والے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر چاہو تو روزہ رکھو چاہو تو افطار کر لو۔ اگر دوران سفر روزہ کی شدت محسوس تو روزہ کھول دینا چاہیے۔ اس کی صرف قضا ہو گی، کفارہ نہیں۔

بیمار کا روزہ:
رمضان المبارک میں بیمار کے لیے رخصت ہے کہ وہ روزہ نہ رکھے۔ اگر معمولی بیماری ہے تو رکھ بھی سکتا ہے۔ رمضان المبارک کے روزے کا اجر و ثواب غیر رمضان میں تو ملنا نا ممکن ہے۔ ان روزوں کی قضا وہ غیر رمضان میں دے گا۔ اگر مرض دائمی ہے۔ تندرست ہونے کی اُمید نہیں ہے تو ہر روز کسی مستحق مسکین کو کھانا کھلائے۔ اسی طرح کوئی بوڑھا انسان جو روزہ رکھ ہی نہیں سکتا وہ بھی ایک مسکین کو کھانا کھلائے یعنی اپنی جگہ کسی اور کو روزہ رکھوا دے۔ دائمی مریض اور بوڑھے انسان کے لیے مسکین کو کھانا کھلانا ہی کافی ہے۔ اس کی قضا نہیں ہے۔ حیض و نفاس والی عورتیں ناپاکی کی وجہ سے روزہ نہیں رکھ سکتیں۔ یہ بھی بیمار کے حکم میں ہیں۔ یہ بھی رمضان کے بعد ان روزوں کی قضا دیں گی۔ اگر حیض کا خون غروب آفتاب سے کچھ ہی لمحہ پہلے ظاہر ہو جائے تو اس دن کا روزہ باطل ہو جائے گا۔ اس کی قضا ضروری ہو گی۔

حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت:
مسلمان عورت اگر حمل سے ہے۔ روزہ رکھنے کی صورت میں حمل ضائع ہونے یا متوقع بچے کی غذا پوری نہ ہونے کا خطرہ ہو تو وہ بھی روزہ نہ رکھے۔ اسی طرح دووھ پلانے والی عورت کا حکم ہے، اگر وہ روزے کی حالت میں بچے کو دودھ نہیں پلا سکتی۔ اس کی اپنی یا بچے کی جان کو خطرہ ہے تو روزے نہ رکھے۔ اس کے بعد وہ قضا کرے۔ اگر کوئی شخص بلا عذر آیندہ رمضان تک اپنے روزوں کی قضا نہیں دیتا تو اسے ہر روزے کے ساتھ ساتھ ایک مسکین کوبھی کھانا کھلانا ہو گا۔ اگر مسکین کو کھانا نہیں کھلا سکتا تو ایک روزے کے بدلے دو روزے رکھنا ہوں گے۔ اسی طرح اگر مسلمان فوت ہو جائے اور اس پر رمضان کے روزے رکھنا باقی ہیں تو اس کی طرف سے اس کا ولی یا وارث روزے رکھ لے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان عالی شان ہے:مَنْ مَاتَ وَعَلَیْہِ صَیامٌ صَامَ عَنْہُ وَلِیُّہ (بخاری۔مسلم) ’’جو فوت ہو جائے اور اس پر روزے ہوں تو اس کی طرف سے اس کا ولی روزہ رکھے‘‘۔ نفلی روزوں کے لیے قضا واجب نہیں ہے۔ اگر کوئی رکھ لے تو بہت اچھی بات ہے، نہ رکھے تو گنا ہ نہیں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: