قاتل سے سوال – طاہرہ فاروقی

الحادکے پرچم بردارو! 

اےظلمتِ شب کےدلدادو!
جب نور بجھانے جاٶگے
تب ظلمت لیکے آٶگے

ظلمت کانشانہ خودکو ہی

نا سمجھی میں بنواٶ گے
جب ظلمت میں گھر جاٶگے
تب راہ کہیں نہ پاٶگے!!

جب غدر اٹھانا چاہوگے

خود کو ہی بھینٹ چڑھاٶگے
ایمان کو پہلے گنواٶگے
پھر جاں بھی بچا نا پاٶگے

تم تنہا خود ہوجاٶ گے

جب حق کو ہی ٹھکراٶگے
تم جدھرنظر دوڑاٶ گے
 لشکرکو عدو کےپاٶ گے

تب اپنے لاشے اٹھوانے

تم کس کس کو بلواٶگے
اس دن کے آنے سے پہلے
کیا ہوش میں تم نہ آٶگے؟

2 thoughts on “قاتل سے سوال – طاہرہ فاروقی

  • April 16, 2020 at 4:39 PM
    Permalink

    جذبات کی بھرپور عکاسی ہوئ نظم ۔ عمدہ کاوش۔۔ماشا اللہ

    Reply
  • April 16, 2020 at 6:59 PM
    Permalink

    ماشاءاللّٰه بہت خوب
    اللّٰہ کرے زور قلم اور زیادہ

    Reply

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: