ایمان اور احتساب (پہلا حصہ) – بشری تسنیم

ہم استقبال رمضان المبارک کے حوالے سے….. اس بات پہ غور کریں گے کہ مقبول روزہ کی شرط ایمان اور احتساب ہے تو….. اپنا احتساب اور إصلاح کیسے ہو؟ کیونکہ ، ایک مسلمان وہ مرد ہو یا عورت جب تک اپنا بے لاگ احتساب نہیں کرتا اس کی اصلاح ممکن نہیں ہوگی۔

احتساب دراصل اپنے مومنانہ معیار کو بلند کرنے کی طرف راغب ہونا ہے۔ ہم نیکیاں تو کرتے ہیں مگر نیکی کے معیار پہ دھیان نہیں دیتے کہ کمی کہاں ہے؟ خطا کیا ہے؟ گناہ کیا ہیں؟ اور ان میں ہمارا نفس کتنا آلودہ ہے؟ نیکی کے تھیلے میں کتنے سوراخ ہیں؟ وہ سب کچھ نظروں سے اوجهل رہتا ہے جن سے نیکی کا معیار ناقص ہو جاتا ہے…… ہم صغیرہ، کبیرہ، ظاہر ی باطنی،جانے ان جانے کئے گئے گناہوں کی معافی مانگتے تو ہیں اور آپس میں ” کہا سنا معاف کرنا ” بھی عادتا دہرا لیتے ہیں ۔۔ لیکن اس جملے کی روح سے بے گانہ ہوتےہیں..کوئی ندامت کا جزبہ اس جملے کے ساتھ نہیں ہوتا. ..ہوائی باتیں، اور زبان کی ورزش کے سوا کچھ نہیں ہوتا……. نہ دل کی دنیا میں شرمندگی کا جوار بها ٹا اٹھتا ہے.اور جواب دہی کے خوف کی برکھا تو کیا برسنی ہے ……. آنکھوں میں نمی تک نہیں آتی. ..اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگوں کے بڑے بڑے گناہوں پہ ہماری نظر رہتی ہے اور ان کے مقابلے میں اپنے گناہ اور نافرمانیاں چھوٹی اور معمولی لگتی ہیں۔۔

نفس تسلی دیتا رہتا ہے کہ لوگ پتہ نہیں کیا کچھ نافرمانیاں کرتے رہتے ہیں، ہم نے نہ کوئی قتل کیا ہے،نہ ڈاکا ڈالا ہے، نہ زنا کیا ہے،اور نہ ہی ملک وقوم سے غداری کی ہے. .ہم ایک الله کو مانتے ہیں، اس کے محبوب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی مانتے ہیں .قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہیں، رمضان المبارک کے مہینے میں روزے رکھتے اور حج عمرہ کرتے اور زکوة و صدقات ادا کرتے ہیں. اور مزید یہ کہ سب أعمال کرنے کے ساتھ ہم استغفار بهی کرتے رہتے ہیں. یقیناً یہ سب ایک مسلمان کی صفات ہیں اور جنت ایسے مسلمان کے لئے واجب ہے……. دراصل فکر کرنے کی بات یہ ہے کہ کیا ہم حقوق الله،حقوق العباد کی ادائگی میں معیار کا بهی خیال رکھتے ہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم نیکی کے معاملے میں کمتر معیار پہ راضی ہونے کی عادت میں مبتلا ہیں اور دنیا کی خواہشات کے لئے معیار اعلیٰ ترین ہے؟ نیکی میں اپنے سے کم معیار کے لوگوں میں میل جول رکھنے کی وجہ سے اپنی معمولی نیکیاں اور کم تر عبادتیں بھی بہت اعلی لگتی ہیں۔ اور ہم متقی ہو جانے کی خوش فریبی میں مبتلا ہو جاتے ہیں ۔

فلا تزکوا انفسکم ھو اعلم بمن اتقی ۔(۔ النجم 32)……اپنے آپ کو خود ہی تقوی کے زعم میں مبتلا نہ کرو وہ رب ہی بہتر جانتا ہے تم میں سے زیادہ متقی کون ہے؟ (کس کی نیکیاں اللہ کی نظر میں زیادہ معیاری ہیں)…… میزان اسی لئے تو رکھی جائے گی کہ دنیا کی چاہت کے پلڑے میں وزن زیادہ ہے یا پهر آخرت کی چاہت میں وزن زیادہ ہے..دل کی سچی اور کهری چاہت اور نیت پہ ہی اعمال کی درجہ بندی کی جائے گی. الله تعالى نے مومنوں کو تلقین کی…….. (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُون [الحشر18)
اے مومنو، الله کا تقویٰ اختیار کرو اور ہر نفس یہ جائزہ لیتا رہے کہ وہ اپنی کل (آخرت )کے لئے کیا جمع کر رہا ہے،بے شک الله تمہارے ہر عمل کی خبر رکھتا ہے (کہ وہ عمل کتنا معیاری ہے)…….اور اگر مومن اس معیار کا جائزہ لینے سے غافل ہوتا ہے تو نتیجتاً یہ معاملہ سامنے آتا ہے….. (وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ نَسُوا اللَّهَ فَأَنْسَاهُمْ أَنْفُسَهُمْ ۚ أُولَٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ( 19) …… اور تم ان لوگوں میں شامل نہ ہو جانا جنہوں نے اپنے اللہ کو(اس کی عظمت کو) بھلا دیا تو اللہ نے ان کو ان کا اپنا آپ بھلا دیا۔۔(اپنی قدروقیمت سے غافل ہوگئے) . اللہ تعالی کا اٹل فیصلہ ہے کہ (لَا يَسْتَوِي أَصْحَابُ النَّارِ وَأَصْحَابُ الْجَنَّةِ ۚ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَائِزُونَ) [20]……. اہل جہنم اور اہل جنت کبھی برابر نہیں ہو سکتے انجام کار اہل جنت ہی کامیاب لوگ ہیں۔

جنتوں کے بھی معیار ہیں ہمارے اعمال ہی فیصلہ کریں گے کہ کس معیار کے جنتی لوگوں کے ساتھ رہنا ہے……..اہل جنت میں شامل ہونے کے لئے آج اور ابهی اپنا احتساب بے لاگ کرنا ہوگا اور اپنی کل کے لئے معیاری نیکیاں جمع کرنی ہوں گی. اور نیکی کا معیار بھی بلند رکھنا ہوگا تاکہ انبیاء کے ساتھ رہنا نصیب ہو۔۔ اے اللہ،ہم نیک نیتی سے ایمان اور احتساب کے ساتھ رمضان المبارک گزارنے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔

آپ سے استعانت کے طلب گار ہیں ۔ ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذ ھدیتنا و ھب لنا من لدنک ر حمہ انک انت الوھاب آمین….
(جاری ہے)

Share:

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on pinterest
Share on linkedin
Share on email
Share on telegram
Share on skype

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Related Posts

error

Enjoy this blog? Please spread the word :)