پاکستان کا رجب طیب اردوگان – محمد طارق

پاکستانی عوام اکثر یہ گلہ کرتی رہتی ہے کہ پاکستان میں لیڈرشپ کا فقدان ہے اور یہاں ترکی کے اردگان کی طرح کوئی لیڈر نہیں ہے کہ وہ قوم کو لیڈ کرسکے .

مگر آج میں یہی سوال اسی پاکستانی قوم سے کرنا چاہتا ہوں کہ پاکستان میں ترکی کے اردوگان کی صورت سراج الحق صاحب اور جماعت اسلامی کی قیادت موجود ہے مگر آفسوس کہ پاکستان میں ترکی کے عوام کی طرح سیاسی شعور رکھنے والے عوام نہیں ہے یہاں اناپرستی، فرقہ پرستی، مسلک پرستی، قوم پرستی کی بنیاد پر تقسیم شدہ عوام کا ایک ہجوم ہے جن کو ان سیاسی اداکاروں نے اپنی ذاتی مفادات کی سیاست میں الجھا کر رکھ دیا ہے . ان حالات میں بھی جہاں ساری سیاسی لیڈرشپ بشمول حکمران جماعت کے حکومتی ذمہ داران روپوش ہوگئے ہیں وہاں سراج الحق اور جماعت اسلامی کی قیادت مشکل کی اس گھڑی میں ہر جگہ عوام کی خدمت کرنے پہنچ رہی ہے اس کے باوجود کافی تعداد میں دوسرے پارٹیوں کے معتصبین نے جماعت اسلامی کی قیادت کے اوپر اپنی معتصبانہ اعتراضات اور الزامات کا بازار گرم کیا ہوا ہے .

اس لئے پاکستانی عوام سے گزارش ہیکہ قیادت کے فقدان کے قصے بیان کرنے کے بجائے اپنے گریبان میں جھانک کر اپنے طرز عمل اور رویوں پر غور کیجئے اور انکو درست کرنے کی کوشش کیجئے .جماعت اسلامی پر اور جماعت اسلامی کی قیادت پر اعتماد کیجئے انشاءاللہ جماعت اسلامی کی قیادت پاکستانی عوام کو کبھی بھی مایوس نہیں کریگی.مندرجہ ذیل خبر کو بھی پڑھ لیجئے اور اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتادیجئے کہ پاکستان میں قیادت کا فقدان ہے یا ہم عوام کا قیادت کے تولنے کے پیمانے کچھ اور طرح کے ہیں. جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق پشاور میں پولیس ہسپتال کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کر رہے ہیں. آج میدان میں ایک ھی سپہ سالار مرد مومن مرد حق سراج الحق موجود ہے باقی تمام لیڈران کا پتہ ھی نہیں کہاں چھپ گئے ہیں یہ سپہ سالار اس آزمائش میں عوام کے لئے کبھی کہیں کبھی کہیں……

اللہ تعالٰی سراج الحق صاحب کی حفاظت کرے ….آمین ثم آمین.

Share:

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on pinterest
Share on linkedin
Share on email
Share on telegram
Share on skype

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Related Posts

error

Enjoy this blog? Please spread the word :)