بے نام شہید،گمنام غازی – عالیہ زاہد بھٹی

“شہنشاہ کے محل کے سامنے غریبِ شہر کی بے بسی”……..ہاں ادھ جلی،نیم جان ونیم مردہ سی وہ لاش جس میں زندگی اپنی بے بسی کا آخری نوحہ پڑھ کر بڑی ہی دلشکستگی سے رخصت ہو رہی تھی ،وہ لاش غریب شہر کی تھی کہ جس کا قصور یہ تھا کہ اس نے اپنے بھرے ہوئے پیٹ والے زمانے میں اک”مہاراجہ” کی رفتار اور گفتار سے متاثر ہو کر اسے اپنا راہ نما چن لیا.

وہ نہیں جانتا تھا کہ اس”بالر”کی رفتار ہر دوسرے دن ایک جوان خون کی بھینٹ مانگتی ہے،اسے نہیں پتہ تھا کہ اس نوسرباز کی چرب زبانی…… گھروں کے “تیل” اور راشن کی قربانی مانگتی ہے،اور اسے یہ بھی نہیں پتہ تھا کہ جس شخص کو اس نے راہ نما چن لیا ہے وہی اس کی زندگی کی ہر راہ مسدود کرکے اسے موت کی راہ دکھلادے گا……..وہ سوختہ لاش جس کے بدن کی بےبس برہنگی چھپانے کے لئے سرِ راہ چلنے والوں نے راہداری کی گھاس اس کے تن پر ڈال دی تھی، راہداری کی گھاس اوڑھ کر اس نیم مردہ جاتی ہوئی جان کو وہ راہداری بہت شدت سے یاد آئی ہوگی کہ جس “راہ داری” کو کھولنے کے لئے اس کے “راہنما” نے وہ پیسہ لگایا تھا کہ جس پیسے کی صرف جھلک ہی یہ غریب جاں بلب دیکھ لیتا تو اس کی زندگی کے مسائل حل ہو جاتے ………اس کا بیمار عزیز فل پروٹوکول کے ساتھ علاج کی سہولیات سے فائدہ اٹھا لیتا اور اس کے گھر میں “کورونا” کی چھٹیوں میں راشن بھی ڈل جاتا……اسے وہ “نمانی” سی آسیہ مسیح بھی یاد آئی ہوگی کہ سنا ہے شیطان موت کے وقت بڑی گھات لگاتا ہےایمان کو لوٹنے کی اور جہاں ایمان ہی خالق پر نہ ہو بلکہ”راہ نما”پر ہو،جہاں خالق کے”پیغام بر” کی سنت بھی یاد نہ ہو اس پر عمل کرنا تو دور.!

تو اسے وہ آسیہ مسیح بھی شیطان نے یاد کرائی ہوگی کہ تم سے یہ آدھی ادھوری محبت تمہارے”راہ نما”نے نہیں مانگی تھی بلکہ اس نے تو کہا تھا کہ” مجھے اس قدر چاہا جائے یہاں تک کہ یا تو تم وقت کے “شداد” اسرائیلی گماشتوں کی حمایت میں اپنے خالق کے” پیغام بر”کی توہین کرکے “شداد”کی جنت یورپ و کینیڈا میں چلے جاؤ یا یہاں رہ کر مجھ پر ہی تمہارا دم نکل جائے” …..اس سوختہ نے اپنی سوختگی سے پہلے جب یہ کہا تھا کہ”میرا جرم یہ تھا کہ میں نے”بےانصاف” کو ووٹ دیا”….! اس وقت بھی کہیں اس کے رب کے دین کے”خدام” اپنی “خدمات” لیکر اس کے دروازے پر آئے ہوں گے ضرور آئے ہوں گے کہ رب کے دین کی اجتماعیت کے یہ “خدّام” تو کراچی کی لہو رنگ سڑکوں پر اس وقت بھی موجود ہوتے تھے جب ان کی خدمات کے عوض ان کی بوری بند لاشوں کا تحفہ ان کے گھر بھجوایا جاتا تھا یہ”خدّام” تو اپنے گھروں کو چھوڑ کر زلزلوں کے ستائے لوگوں کے بیچ میں گھر بناکر رہنے لگ جاتے ہیں کہ”خدمت”ان کا وصف ہے،قوم جاں مانگتی ہے جاں نثار کرتے ہیں،قوم دل مانگتی ہے دل وار دیتے ہیں،قوم خون مانگتی ہے تو تھیلےسیمیا کے مریضوں سے لیکر سرحدوں کی باڑوں تک خون سے چمن کی آبیاری کرتے ہیں ،بجلی،پانی،گیس ہو یا بحریہ ٹاؤن کے “جن” کو قابو کرنا۔

یہ”خدّام” تو کسی کے کہے بغیر ہر مشکل میں اپنے رب کے اذن سے اسے راضی کرنے کو ہر محاذ پر ٹپک پڑتے ہیں جوتے کھاتے ہیں،باتیں سنتے ہیں،مذاق اڑواتے ہیں مگر ایسے ڈھیٹ ہیں پھر بھی پلٹ پلٹ کر انہی راستوں پر انہی سنگباروں پر گلپاشی کرتے ہیں،ایسا ہو نہیں سکتا کہ یہ پاگل”خدّام” اس نیم مردہ سوختہ بدن تک نہ پہنچے ہوں ، پہنچے ہوں گے مگر اس نے بھی اپنے دیگر ساتھیوں کی طرح اپنی صحت کی حالت میں انہیں ٹھکرا دیا ہوگا کہا ہوگا……..”آئی کے” ہے ناں ہر درد کی دوا”اسے اصل میں اپنی وہ ہٹ دھرمی رلا رہی ہوگی ،سنا ہے دنیا کےسفر سے واپسی پر وہاں کا ہر منظر عیاں ہو جاتا ہے اس کے سامنے سے بھی پردہ ہٹ گیا ہوگا ، اسے بھی وہاں افق کے اس پار سے دین کے کچھ”خدّام”جو وہاں جاچکے نظر آرہے ہوں گے،اسے پکار رہے ہوں گے کہ “سنو!شیطان کے جھانسے میں نہ آنا تم نے زندگی میں تو ہماری نہیں مانی اب آتے ہوئے ہی اپنی آخری گواہی دیتے ہوئے آنا کہ”نہیں کوئی معبود سوائے اللہ کے،وہ اکیلا ہے،اس کا کوئی شریک نہیں،اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں”

اور اس اللہ کی گواہی دینے والے اس کے”خدّام”اور ان کی اجتماعیت صرف اللہ ہی کے لئے جیتے ہیں،اللہ ہی کے لئے مرتے ہیں،اللہ ہی کے لئے کرتے ہیں،اللہ ہی کے لئے رکتے اور روکتے ہیں،اللہ ہی کے لئے پیار کرتے ہیں اور اللہ ہی کے لئے کراہت کرتے ہیں،جسے اللہ حکم دیتا ہے اختیار کر لیتے ہیں اور جس کا اللہ حکم دیتا ہے انکار کردیتے ہیں یہ اللہ والے ہیں،یہ مر جائیں تو شہید،جی لیں تو غازی ہیں، میں آنکھوں میں آنسو لئے اس سوختہ جان کو سوچ رہی ہوں کہ اے اپنے”راہ نما”پر مر مٹنے والے سوختہ بدن تو کس کے لئے جیا اور کس کی خاطر مرا…..اور جی رہنے والے سب جان والوں کو سمجھانا ہے کہ

یہ جان تو آنی جانی ہے
اس جان کو روتے کیوں ہو
رولو اپنے اعمالوں کو
درست کرو عمّالوں کو
سب کچھ سچ ہوجائے گا
جب نام پہ رب کے آؤ گے
ناں جھگڑو سود خسارے پر
یہ کام نہیں بنجارے کا
سب سونا روپا دے جاؤ
سب دنیا یہیں پہ دے جاؤ
آجاؤ “خدمت” کی جانب
یہ ہی کام ہے بس انسانوں کا……..!

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: