الزام نہ دو – شہلا خضر

خدارا بس کر دیں۔–۔۔۔ آپ منصف نہیں ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ آپ کو کس نے حق دیا کہ آپ دوسروں کو ملعون اور مغضوب قوم قرار دیں ؟؟

آج ہمارے سوشل میڈیا پر چین ،امریکہ اور یورپ پر دل کھول کر اللہ کے مجرم ، گناہگار اور عزاب کے مستحق ہونے کے فتوے دیۓ جا رہے ہیں ——- ہر کوئی بڑھ چڑھ کر دل کی بھڑاس نکال رہا ہے ۔۔۔ کیا ہم دنیا کے اخلاق اور ایمان کے تھانیدار ہیں ؟؟ کیا بحیثیت مجموعی” امت مسلہ “ ہونے کے ناتے ہم نے اپنے کرتوتوں پر نظر ڈالنے کی جسارت کی ہے ؟؟ چین میں ایغور مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ ہوا ، کیا ہمُ نے اسے روکنے کے لیۓ کوئی ٹھوس اقدامُ ٹھاۓ ؟؟ کیا ہم نے اس مسلۂ کو انٹرنیشنل فورم پر موئثر طریقے سے پیش کیا ؟ ہمیں ووہان کی مردار خور جنگلی جانوروں کی خوراک سے تو کراہیت آتی ہے ……… پر کیا ہمیں اپنے مسلمان بھائیوں کو گدھے ، کتے اور سور کا گوشت کھلاتے ہوۓ رتی برابر بھی شرم آتی ہے ؟؟؟

فرانس ، جرمنی اور ناروے تو لادینی ملک ہیں….. وہاں پر حجاب پر پابندی ہو تی ہے تو ہمیں بہت دکھ پہنچتا ہے ، پر جب ہمارے اسلامی ملک میں عورتیں بے حجاب اور بے پردہ نظر آتی ہیں تو اس وقت ہماری غیرت ایمانی کہاں مر جاتی ہے ؟؟ ہمارے ملک میں تو حجاب پر کوئی پابندی نہیں ، پھر ایمانداری سے آپ یہ بتائیں کہ ہمارے ملک کی کتنی فیصد خواتین پردہ کرتی ہیں ؟؟ ٹیلی وژن پر دن رات چلتے بے ہودہ اشتہارات جن میں نیم عریاں لباس میں ملبوس ………. ماڈل ہماری نوجوان نسل کو یہ سبق پڑھاتی ہے کہ “ لوگوں کا کام تو ہے باتیں بنانا ،لوگوں کی پرواہ نہ کرو ، جو چاہے کرو “ اس نوعیت کے اشتہار دیکھ کر ہمارے باشعوراور دیندار افراد کیوںُ نہیں احتجاج کرتے ؟؟؟؟؟تنخواہ نہ ملے تو احتجاج ، الائونس نہ ملے تو احتجاج ، پانی نہ ملے تو احتجاج ،بجلی نہ ہو تو احتجاج غرض ہر تکلیف رفع کرنے کے لیۓ احتجاج ہی کیا جاتا ہے ، پر میڈیا کی بے حیائ سے یہاں کسی کو کوئ تکلیف ہی نہی تو احتجاج کیسا؟؟؟؟؟؟

مغربی ممالک تو امت محمدیہ ؐ میں شامل نہیں ،نہ ہی ان کے پاس قرآن پاک ہے نہ ہی وہ سنت رسول ؐ کے وارث ہیں ۔۔۔۔۔۔ روز محشر ہم آقاۓ دوجہان کو کیا منہ دکھائیں گے ، جن کی محبت اوراطاعت ایمان کا لازمی جزو ہے ،ہم کس طرح کی اطاعت کے دعویدارہیں؟؟؟؟ ارشاد پاک ؐہے “مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں ، اگر ایکُ عضو کو کوئ بیماری ہوتی ہے ،تو جسم کے بقیہ اعضاء بے خوابی اور بخار کے ساتھ اس کا ساتھ دیتے ہیں…….” اس حدیث کی روشنی میں اگر اپنا جائزہ لیں تو سواۓ ندامت و شرمندگی کے کچھ نہ ملے گا ۔۔۔۔۔۔ شام ، یمن ، فلسطین اور کشمیر جدھر نظر دوڑائیں مظلوم وبے کس مسلم بھائی بہن حسرت ویاس کی تصویر بنے …… سالہا سال سے جبروظلمُ کا نشانہ بن رہے ہیں – ہم درد سے تڑپتے سسکتے معصوم بچوں کی التجائیں سنتے ہیں ، درندگی کا شکارعفت مآب بہنوں اور بیٹیوں کے خون بھرے آنسو دیکھتے ہیں ، جوان بیٹوں کے لاشے اٹھاۓ بوڑھے ماں باپ کو دیکھتے ہیں ، اجڑے گھر ، ویران گلیاں ، کھنڈر بنی بستیوں کو دیکھتے ہیں ، پر ہماری غیرت ایمانی جوش میں نہی آتی……….ہم نہایت سرد مہری اور سفاکی کا مظاہرہ کرتے ہوۓ کہتے ہیں کہ پہلے پاکستان، پھر کچھ اور ۔۔۔۔۔

دنیا بھر کے مسلمان واحد” ایٹمی قوت پاکستان “ کو اسلام کا قلعہ سمجھتے ہیں ۔ کیا ہم اس زمہ داری کو محسوس کرکے اپنے وطن کو سنجیدگی سے “ ریاست مدینہ” بنانے کے لۓ عملی اقدام کریں گے یا صرف ذبانی کلامی دعوے ہی کرتے کرتے فنا ہو جائیں گے ؟؟ آج اپنے معاشرے میں سرائیت اخلاقی برائیوں کا جائزہ لیں تو شرمسار ہی ہوں گے ۔۔سود خوری جونک کی طرح ہمیں چمٹ چکی ہے ، ملک کی پوری معیشت تو پہلے ہی سود پر چل رہی تھی اب عوام کو سود کی آسان قسطوں پر روزمرہ کی اشیاۓ صرف مہیاء کر کے ہمیں اس دلدل میں گردن تک دھنسا دیا گیا ہے ۔۔۔ میڈیا بے حیائ کا اشتہار بن چکا ہے ، اخلاق باختہ خواتین کو” تمغۂ حسن کارکردگی “ سے نوازہ جا رہا ہے …….موبائل پر فری ۳جی اور ۴ جی انٹر نیٹ پیکجز کی بھر مار ہے …… جس کا نتیجہ بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں ہوش ربا اضافے اور اسلامی شعائر سے بیزار نسل کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔۔۔۔۔ رشوت ستانی عام ہے ، کوئی جائز کام بھی بغیر رشوت دیۓ ممکن نہیں ۔ اس کے علاوہ بھی بے شمار اخلاقی برائیاں جن میں زخیرہ اندوزی ، بے ایمانی ، جھوٹ ، غیبت اور بد نظری شامل ہیں دیمک کی طرح ہماری روح کو کھوکھلا کر رہی ہیں ۔ ہم نے تو وہ عینک لگا رکھی ہے کہ جس میں ہمیں چین فرانس جرمنی اور امریکہ کے گناہ تو نظر آرہے ہیں،پر ہمیں اپنے مکروہ چہرے نہی دکھائی دیتے ۔۔۔

جنت کی بشارتیں پانے والے جلیل القدر صحابہ اکرام ؓ ، حضرت عمر ؓاور حضرت ابوبکرؓ آخرت کے کڑے معاملات اور حساب کتاب کو یاد کر کے اپنے پاکیزہ اشکوں سے ریش مبارک کو تر کر دیا کرتے تھے ،،، اور دوسری طرف ہم اپنا حال دیکھیں کہ ہم اپنے کن اعمال پر تکیۂ کیۓ ہوۓ ہیں ؟؟ یہ کیسی ناعاقبت اندیشی ہے کہ اعمال تو سب رب کریم کی ناراضگی حاصل کرنے والے ہیں اور توقعات تو نعوز با للہ صحابۂ کرام ؓ سے بھی زیادہ باندھ رکھی ہیں ،۔۔۔۔۔ وقت آگیا ہے کہ اپنے اعمالُ کا جائزہ لیا جاۓ ۔صرف قانونی مسلمان نہی بلکہ شعوری مسلمان بنُ کر دکھائیں ،۔۔۔ملک میں اسلامی قوانین نافز کیۓ جائیں ۔ پردہ اور نماز کو لازمی قرار دیا جاۓ ، میڈیا کے شتر بے مہار کو سخت قوانین کے زریعے لگام ڈالی جاۓ ۔ وراثت کی تقسیم اسلامی قوانین کی روشنی میں یقینی بنائ جاۓ ،جہیزکی لعنت کو سزائوں کے زریعے روکا جاۓ ۔۔شادی بیاہ کو نکاح اورولیمہ تک محدود کیا جاۓ ،واہیات ہندوانہ رسم ورواج کو قابل سزا جرم قرار دیا جاۓ آج ایک ادنا جرثومے کے ڈر سے ہم سب کے کاروبار زندگی روک دیۓ گۓ ہیں ،وبا کے خوف سے جیسا کہا جا رہا ہے ویسا ہی کر رہے ہیں ، کسی کی جرائت نہی کہ وہ قانون توڑ کر من مانی کرے ۔۔۔۔ کیا ہمیں ہولناک قیامت والے دن کی بھی کوئ فکر ہے ؟؟؟؟ کیا آخرت کے کڑے دن کے ڈر سے ہم نے گناہ کرنے چھوڑ دیۓ ہیں ؟؟؟؟

نبی پاک ؐ سے کسی نے قیامت کے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرمایا کہ “ جو مر گیا اس کے لیۓ قیامت ہی ہے ……اس سے آپ اندازہ لگا لیں کہ ہر شخص قیامت کے دہانے کھڑا ہے ، جنگیں ، زلزلے ، طوفان ، سیلاب ، اور وبائی امراض الغرض ہر طرح کے فتنوں کا ظہور ہے ۔۔۔ ہمیں جو وقت ملا ہے اسے دوسروں کی عیب جوئ کرنے میں ضائع نہ کریں بلکہ اپنے عیب تلاش کریں اور انُہیں دور کرنے کی کوشش کریں.
یہ وقت بھی ہاتھ سے نکل گیا تو پھر خدانخواستہ پچھتاوے کے سوا کچھ باقی نہ بچے گا۔۔۔۔

Share:

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on pinterest
Share on linkedin
Share on email
Share on telegram
Share on skype

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Related Posts

error

Enjoy this blog? Please spread the word :)