بچالو خود کو اور اپنی اولاد کو- مدیحہ صدیقی

تو ثابت ہوا …….. سب سے اہم جان ہے .سب چھوڑو جان بچاؤ…. اپنی جان بچاؤ اپنے گھر والوں کی جان بچاو…….ہمیں یہی بات اللہ کہتا ہے تو سمجھ نہیں آتی بچاؤ اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو…

آج دنیا نے پکارا ہے تو سب چھوڑ کر گھر میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے ….. کہاں گئے وہ کاروبار حیات جس کے لیئے دن رات ایک کیئے ہوئے تھے …؟ جن کے ماند پڑجانے کا ڈر تھا.کہاں گئی وہ مال و اسباب کی دوڑ جس میں حرام بھی جائز تھا…؟کہاں گئے وہ بنگلے اور گاڑیاں جس کی شان کی دوڑ لگی ہوئی تھی….. بچالو اپنے آپ کو اور اپنی اولاد کو اس آزمائش سے جو تصور سے ذیادہ ہولناک نکلی…….. جو تمام ذرائع وسائل ، تمام جدید آلات اور ترقی یافتہ مشینوں سے ذیادہ طاقتور ہے……تمام ہتھیار و ایٹم بم بے بس ہیں کسی کی پہنچ میں نہیں کسی کے قابو میں نہیں…… انہونی سی نظر سے پوشیدہ لمس سے آذاد ،رنگ و بو اور ذائقے سے بے نیاذ چپکے چپکے سرائیت کر رہی ہے. مُلکوں مُلکوں,شہروں شہروں,محّلوں ،گھروں میں خاموشی سے داخل ہورہی ہے …….

سانس رُکنے لگی ہے آنکھیں پتھرا رہیں ہیں …… انسانوں کو چاٹے چلی جارہی ہے ….. انسان بس انسان اس کا شکار ہیں اکڑتا نافرمان انسان,عریانی و فحاشی پھیلاتا انسان ,گناہوں میں دلیر انسان سمٹ چکا ہے ،لوٹایا جارہا ہے …… انسان اپنے آپ کی طرف لوٹایا جارہا ہے،کیا تھا جو سمجھانے پر مان جاتا ,کیا تھا جو اسجدو پر سجدے میں گر جاتا …….!کیا تھا جو رب کی پکار پر لبیک کہ دیتا ! بھول ہوگئی بہت بڑی بھول ہوگئی……. کہیں ابابیل آئے تھے تو کہیں طوفان آیا …….کہیں زمین میں دھنسادیئے گئے. ہم نہیں سمجھے مالک نے بہت سمجھایا ذمین ہلی دل نہیں ہلے ,کبھی بیماری کبھی ڈینگی کسی نے نہیں چونّکایا ! اوہ بڑا زعم ہے,بڑی اتراہٹ ہے…….

ٹھہرو تو ……تم ہو کیا اے انسان تمہاری حقیقت کیا ہے کس بات کا شور ہے…… یوں ہی کچھ نہیں سے قابل ذکر بنا کر اللّہ نے تمھیں کھڑا کردیا گمراہ ہونے سے بچانے کو ہاتھ تھاما …… اپنی محبت و توجہ دی……. اپنی قربت دی اپنے عزیز بندے بھیجے رہنمائی کو,زمین و آسمان اور کائنات جیسے شاہکار عطا کیئے ….! چشموں سے سیراب کیا,مال و اسبابو اولاد دیئے ,خوشیاں و مسکان دیں ,ہم نے کیا کیا ہم نے کہا، میری مرضی…..! اب لو اپنی مرضی کا انجام,فرار ہوکر تو دکھاوُ نکل بھاگنے کی ہر تدبیر کرلو ,بچالو جو بچاسکتے ہو ,لگادو جو لگاسکتے ہو…… کچھ اندازہ ہے کس کی ناراضگی مول لی ہے,ہاں بس میں نہیں نا بے شک وہ رب العالمین ہے اس کی پکڑ تو شدید ہے بڑی شدید ,ہم اس کے آگے بے بس ہیں ,اس کو مانا ہے تو اس کی ماننی بھی ہوگی , ٹھہرو ٹھہرو !مایوس ہوگئے ,نہیں وہ اب بھی اوپر سے دیکھ رہا ہے وہ غفار بھی ہے ستار بھی ہے وہ رحمٰن و رحیم بھی ہے …….. گو کہ ہم اس کی طرف لوٹتے ہی جب ہیں جب بیچ سمندر کشتی ڈولتی ہے ,چلو پلٹیں تو , لوٹیں تو واپس ہوجائیں وہ اب بھی پکار رہا ہے .

سجدوں میں قربت کی آس اب بھی ہے ……..ہم پیشانی ٹکائیں وہ رگ جاں سے قریب ہے ہم مان جائیں ,اقرار کرلیں سدُھرنے کے لیئے,بدلنے کے لیئے نافرمان کا لیبل ہٹا کر اطاعت گزار بن جانے کے لیئے رب تو بڑا رووُف و رحیم ہے ……. وہ تو کریم ہے مان جائے گا ,راضی ہوجائے گا ……. آوُ آج کہیں پناہ نہیں اسی کے دامن میں پناہ لے لیں آوُ بچا لیں…… اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے جسکا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے…..آوُ توبہ کرلیں آوُ واپس ہوجائیں….. اس سے پہلے کہ اس کا در بند ہوجائے.

اے اللہ ہم نے اپنی جانوں پر بڑا ظلم کیا ہے ہم سے خطا ہوگئی…… ہمیں اپنے غضب سے ہلاک مت کیجئے گا ہم بہک گئے تھے. ہم نادم ہیں,ہم واپس آنا چاہتے ہیں ہمیں معاف کردے اے اللہ ہمیں معاف کردے!

One thought on “بچالو خود کو اور اپنی اولاد کو- مدیحہ صدیقی

  • April 2, 2020 at 10:44 AM
    Permalink

    ماشااللہ ۔۔۔بہت اچھی دلائ

    Reply

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: