کھانے پینے کی قلت ہوئی تو افراتفری پھیل سکتی ہے: وزیراعظم

وفاقی حکومت نے ملک میں اشیائے خورونوش کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے گڈز ٹرانسپورٹ پر پابندی ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

اسلام آباد میں سینئر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ‘کورونا وائرس کے باعث ملک میں کھانے پینے کی اشیا کی قلت نہیں ہونی چاہیے، کھانے پینے کی اشیا کی قلت ہوئی تو افراتفری ہوسکتی ہے اس لیے رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ کسی مال بردار گاڑی کو نہیں روکا جائے گا اور سامان کی نقل و حرکت کے لیے ٹرانسپورٹ چلانے کی اجازت ہوگی۔’

انہوں نے کہا کہ ‘پاکستان کی ٹیکس سے حاصل ہونے والی کُل آمدنی 45 ارب ڈالر ہے اور امریکا نے صرف ریلیف پیکج 2 ہزار ارب ڈالر کا دیا ہے، اس کے باوجود وہاں وفاق کچھ کر رہا ہے اور ریاستیں کچھ کر رہی ہیں کیونکہ موجودہ صوتحال اتنی آسان نہیں ہے، کورونا وائرس کی وبا سب کے لیے نئی ہے۔’

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہمارے ملک میں بھی کورونا وائرس آیا جو مختلف ردعمل آنا شروع ہوئے، صوبوں پر دباؤ بڑھا اور انہوں نے اس کے مطابق اقدامات اٹھائے لیکن بظاہر ایسا تاثر ملا کہ حکومت کو سمجھ نہیں آرہی کہ کیا ہورہا ہے، درحقیقت ایسا نہیں تھا، پاکستان کو ایسی صورتحال کا تجربہ نہیں تھا۔’

عمران خان نے کہا کہ ‘میں لوگوں کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ دو ہفتے قبل قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد ہم نے لاک ڈاؤن شروع کردیا، پی ایس ایل سمیت کھیلوں کے تمام مقابلے ختم کر دیے لیکن اس کے بعد جس بات کا مجھے خدشہ تھا کہ جب ہم لاک ڈاؤن کی بات کرتے ہیں تو ہمیں بہت سوچ سمجھ کر قدم اٹھانے چاہیے کیونکہ ہم جو بھی قدم اٹھاتے ہیں اس کا ردعمل اور اثرات آتے ہیں۔’

انہوں نے کہا کہ ‘مجھے خدشہ تھا کہ اگر ہم لاک ڈاؤن کے سیدھے پانچویں گیئر میں چلے گئے تو غریب طبقے اور دیہاڑی دار مزدور کے لیے بہت مشکلات پیدا ہوں گی اس لیے میرا خیال تھا کہ جب تک اس طبقے کے لیے کوئی اسٹرکچر نہیں بنتا ہمیں آہستہ آہستہ اقدامات اٹھانے چاہیے۔’

ان کا کہنا تھا کہ ‘گڈز ٹرانسپورٹ پر پابندی ختم کرنے کے علاوہ یہ فیصلہ بھی کیا ہے کہ کھانے پینے کی اشیا بنانے والی اور اس سے منسلک صنعتوں کو بھی کام کرنے کی اجازت ہوگی اور چاروں صوبے مل کر اس کا طریقہ کار بنائیں گے۔’

وزیر اعظم نے کہا کہ ‘اللہ کا خاص کرم ہے کہ ہمارے ملک میں کورونا وائرس اب تک ویسے نہیں پھیلا جیسے دوسرے ممالک میں پھیلا ہے، لیکن کوئی گارنٹی نہیں اور ہوسکتا ہے کہ دو ہفتے بعد کیسز ایک دم زیادہ ہوجائیں لہٰذا قوم کو تیار رہنا چاہیے اور ہمیں انتہائی بُرے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیاری کرنی چاہیے۔’

نوجوانوں کی فورس بنانے کا فیصلہ

انہوں نے کہا کہ ‘اس لیے ہم نوجوانوں کی ایک خصوصی فورس بنا رہے ہیں اور وزیر اعظم ہاؤس کے سٹیزن پورٹل کے ذریعے اس کی ممبرشپ کریں گے، 31 مارچ سے فورس کے لیے رجسٹریشن شروع ہوگی، اس فورس کے اہلکاروں کو ملک بھر میں بھیجا جائے گا اور اگر کسی علاقے سے اچانک کیسز سامنے آتے ہیں تو اس علاقے کے لوگوں کے گھروں میں ان کے ذریعے کھانا پہنچایا جائے گا۔

عمران خان نے کہا کہ ‘اگلے ہفتے کورونا فنڈ کا اعلان کیا جائے گا اور جو بھی عطیات دینا چاہے وہ اس فنڈ میں دے گا، غریب طبقے کی ایک طرف احساس پروگرام کے ذریعے مالی مدد کی جائے گی دوسری طرف کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال کی وجہ سے بیروزگار ہونے والوں اور چھابڑی والوں کی اس فنڈ سے مدد کی جائے گی، جبکہ مالی مدد کرنے والوں کی رجسٹریشن کی جائے گی اور ان کے لیے منظم نظام بنایا جائے گا۔’

انہوں نے کہا کہ ‘کیونکہ کورونا کی وجہ سے ہماری تجارت متاثر ہورہی ہے اور برآمدات گر رہی ہیں، ہمیں ڈر ہے کہ اس صورتحال کی وجہ سے ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر کم ہوں گے اور روپے پر دباؤ بڑھے گا، اس لیے میں اس کی بھی تیاری کر رہا ہوں اور اسٹیٹ بینک میں اکاؤنٹ کھولوں گا۔’

ان کا کہنا تھا کہ ‘میں ہمارے اوورسیز پاکستانیوں سے درخواست کروں گا وہ اس اکاؤنٹ میں پیسے جمع کروائیں تاکہ روپے پر دباؤ ختم ہو۔’

اس موقع پر وزیر فوڈ سیکیورٹی خسرو بختیار نے گندم اور آٹے کی قلت کو وقتی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ‘اس وقت صرف پبلک سیکٹر میں 16 لاکھ ٹن گندم موجود ہے جو نئے سیزن کی کاشت تک کافی ہے۔’

انہوں نے کہا کہ ‘کورونا وائرس کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال کے بعد لوگوں نے گھبرا کر آٹے کی زیادہ خریداری کی، تاہم صوبے فلور ملز کی نگرانی کر رہے ہیں اور امید ہے کہ ایک دو روز میں نا صرف آٹے کی قیمتیں کم ہوں گی بلکہ سپلائی چین بھی بہتر ہوجائے گی۔’

قبل ازیں وزیر اعظم کی زیر صدارت کورونا سے متعلق قومی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال اور اقدامات پر غور کیا گیا۔

اجلاس میں ویڈیو لنک کے ذریعے چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور دیگر حکام نے شرکت کی۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: