یہ کہا ں جا کر ٹھہرے گا کچھ کرو نا – عالیہ عثمان

فون کی مسلسل بجتی بیل نے سوچوں کے تانے بانے مزید الجھا دیے- بعض وقت فون کی بیل بہت پریشان کردیتی ہے۔ جی اسلام علیکم فرمایئے……..

وعلیکم السلام ….. باجی دراصل بات یہ ہے کہ حریمہ کی بارات 23مارچ کو ہے تو اب شادی حال پر پابندی کی وجہ سے کافی پریشانی ہو رہی ہے – کارڈ وغیرہ تقسیم ہوچکے ہیں ، کیا کرنا چاہیے .تاریخ بڑھا دیں کیا ؟ ہم نے بھائی کو اپنے نادر خیالات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلام نے تو ویسے ہی سادگی سے شادی کا حکم دیا ہے- حریمہ کے سسرال والوں سے کہو کہ آپ آکر اپنی امانت لے جائیں …..اللہ اللہ خیر سلا اللہ ۔ یہ کرونا وائرس کہاں جا کے ٹھہرے گا پوری دنیا کےسروے پر نکلا ہوا ہے – کتنے لوگوں کو گھائل کرے گا ، ہمارے خیالات کے تانے بانے پھرسرے ڈھونڈنے لگے-

یہ وائرس سب سے پہلے چین کے شہر ووہان میں دسمبر کو وارد ہوا- ہزاروں افراد اس وائرس سے لقمہ اجل بن گئے …… لاکھوں متاثر ہوئے. یہ وائرس ایک سو پچھتر ممالک میں پہنچ چکا ہے- یہ قدرتی آفت ہے اس کا اتنا ڈر خوف ہے کہ پوری دنیا کے ممالک ہر طرح سے اپنے بچاؤ کا انتظام کر رہے ہیں ۔ سعودی حکومت میں کرونا وائرس کی وبا کے پھیلاؤ سے بچنے کے لئے عارضی طور پر بیت اللہ شریف کے نزدیک عارضی رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں …… مسجد نبوی اور حرم شریف نماز سے کچھ دیر پہلے کھلتا ہے اور آدھے گھنٹے بعد بند ہوجاتا ہے-عالمی ادارہ صحت نے تمام متاثرہ اور غیر متاثرہ ممالک کی حکومتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کو ہائی الرٹ کریں۔
ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کریں اور کرونا وائرس سے متاثر مالک سے فضائی رابطےمنقطع کریں –

اس لیے یورپ سمیت تمام مشرقی ممالک نیز عرب دنیا میں بھی ایئرپورٹس، ہوٹلوں ،سٹاک ایکسچینج مارکیٹوں میں مندی کا رجحان ہونے کی وجہ سے کھربوں ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے- پاکستان میں پہلی دفعہ ،وائرس ایران سے واپس آنے والےدوزائرین میں اس وائرس کی دو فروری کو نشاندھی ہوئی اور چند روز میں پانچ سو سے تجاوز کر چکی ہے -احتیاطی تدابیر اور اقدامات کے حوالے سے حکومت متحرک تو نظر آرہی ہے- تمام تعلیمی ادارے بند ہوچکے ہیں اور امتحانات کے التوا کے نوٹیفیکیشن جاری ہوگئے ہیں….ہفتہ بھر پہلے تمام شادی ہال، پارک، شاپنگ مالز اور سرکاری اداروں میں پندرہ دن کی چھٹی کا اعلان ہوچکا ہے جو حکومت کا اچھا اقدام ہے لیکن لوگ کرو نا سے متاثر ہوں یا نہ ہوں بھوک اور افلاس سے لوگ ضرور مر جائیں گے –

روز کا کمانے والا ……. وہ کیا کرے .؟ عام آدمی شدید متاثر ہوگا گھر میں کام کرنے والی ماسیاں وغیرہ بھی غیر محفوظ ہیں- بطور ان کی مدد….. ہم ان کی تنخواہ کے ساتھ انہیں گھروں کو بھیجیں تاکہ وہ بھی محفوظ ہو سکیں ۔اب تو لاک ڈاؤن ہونے کا اعلان ہوگیا جو رات بارہ بجے سے لاگو ہوا کتنی عجیب بات ہے کہ جب قوم کسی حادثے کا شکار ہو خوف و ہراس میں ہو، تب اس سے کہا جائے کہ تم اسے اپنے حق میں شر نا سمجھواس میں بھی تمہارے لئے خیر ہے لیکن غور کیا جائے تو یہ کوئی عجیب بات نہیں بلکہ یہ زندہ وتابندہ حقیقت ہے۔

اللہ کی پکڑ آتی ہے تو انسان بوکھلا جاتا ہے مصیبت وہاں سے آتی ہے کہ انسان سوچ بھی نہیں سکتا- ظلم اس زمین پر اس قدر بڑھ گیا ہے کہ اللہ تعالی کا قہر نازل ہو گیا۔ اللہ تعالی لوگوں کو ڈھیل دیتا ہےلیکن ان کی رسی یکایک کھینچتا ہے- اللہ تعالی ناراض ہے…… وہ بندوں کو آزمائشں میں ڈالتا ہے کہ انسان رجوع الی اللہ کرے. کرنے کا کام یہ ہے کہ سب اپنے گناہوں سے توبہ کریں …ہم سب قصوروار ہیں۔ ایک واقعہ ہے کہ ایک بستی پر عذاب بھیجا تو فرشتے نے کہا اللہ تعالی ان میں ایک نیک شخص بھی ہے اللہ تعالی نے فرمایا پہلے اس کے گھر سے عذاب شروع کرو کیوں کہ وہ برائی ہوتے دیکھتا تھا اور پھر بھی خاموش رہا۔

ہم استغفار پڑھیں صبح شام کے ذکر اذکار ہیں اور مختلف قرآنی دعائیں ہیں ان کا ورد کریں۔ صحابہ اور اسلاف کے زمانے میں کوئی ایسی نظیر نہیں ملتی کہ انہوں نے وباء والے علاقوں میں نماز باجماعت ترک کی ہو یا مساجد بند کی ہوں…… بلکہ اور زیادہ عبادات کا اہتمام بڑھ جاتا تھا۔
اے ہمارے پیارے اللہ تعالی ہم سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھ ہمارے گناہوں کو معاف فرما دے ہم توبہ کرتے ہیں کچھ مہلت زندگی دے دے ،اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔ آمین

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: