دستک ۔ ام فرحان

*دستک*
نمرہ کی چالبازیاں دیکھ کر حبیبہ آج بھی آگ بگولہ ہوگئ۔ بلآخر آج بھی برداشت اور صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا اور بڑی بھابھی سے دل کا حال کہہ سنایا۔

چونکہ بڑی بھابھی بھی نمرہ سے ستائیں ہوئی تھیں اس لیے حبیبہ اور انکی خوب جمتی۔دونوں گھنٹوں بیٹھ کر دل کی بھڑاس نکال کر ضمیر کی چھبن بھی محسوس کرتیں۔ آج جب رات کی تنہائی میں حبیبہ نے رسالہ اٹھایا تو اسکی نظر شیخ عبدالقادر جیلانی رحمت اللہ علیہ کے قول پر پڑی انہوں نے فرمایا:۔ ” تم بےکار کی باتوں اور بہت گپیں مارنے سے گریز کرو۔بلاوجہ دوستوں، ہمسایوں اور رشتہ داروں کے ساتھ بہت زیادہ وقت مت گزارو کیونکہ یہ بے وقوفی ہے۔جب بھی دو لوگ ملتے ہیں انکا زیادہ وقت جھوٹ اور غیبت میں گزرتاہے۔”

یہ پڑھ کر حبیبہ کے دل پر زور دار دستک ہوئی اور وہ اپنا محاسبہ کرنے لگی تو اسے یہ احساس ہوا کہ میں نےتو تقریبا ہر روز جانے انجانے میں اپنی نیکیاں غیبت سے دھو ڈالی ۔غیبت ایک ایسا گناہ ہے جو ہماری نیکیوں کو کھا جاتا ہے۔ شیطان بڑی ہی چالاکی سے ہم سے ہماری نیکیاں ضائع کروا دیتا ہے کبھی غیبت کروا کر تو کبھی ریاکاری کروا کر۔

جب بھی دو لوگ آپس میں ملتے ہیں تو زیادہ وقت دوسروں پر نقطہ چینی اور نقص نکالنے میں ہی گزرتا ہے۔ دوسروں کے عیب تلاش کرنے کے بجائے اگر ہم اپنا آپ سدھارنے کی کوشش کریں تو روز آخرت ہمارا دامن خالی نہ رہے کوئی تو ایسا کام کریں جو آخرت میں کامیابی کا سبب بن جائے ۔

حبیبہ خود کو کوستی جارہی تھی اور اسکی آنکھوں سے ندامت کے آنسو بہتے جارہے تھے۔ کبھی کبھی نظروں سے گزری بات یا کسی کے چند جملے سوچنے پر مجبور کر دیتے ہیں دل پر دستک سی دے جاتے ہیں سوئے ہوئے ضمیر کو جھنجوڑ جاتے ہیں۔نادانی میں ہمیں اپنی غلطیوں، کوتاہیوں اور گناہوں کااحساس بھی نہیں ہوتا۔اکثر اپنے مزاج کی تلخیوں سے کسی کی دل آزاری کردیتے ہیں تو کبھی ہنسی مذاق میں ہی غیر دانستہ طور پر اپنے دامن کو گناہوں سے بھر لیتے ہیں۔

درحقیقت خاموشی ایک عبادت ہے۔ حبیبہ کے دل میں ایک تہلکہ سا مچا تھا کہ کاش میں صبر کرلیتی کسی سے کچھ نہ کہتی بے شک اللہ تعالی تو ہماری سوچ سے بھی زیادہ بڑھ کر اجر دینے والا ہے۔حبیبہ روئے جا رہی تھی اور اپنے رب سے معافی کی التجا کر رہی تھی اے اللہ درگزر کرنا سیکھا دیں۔ آپ تو میرے پیارے اللہ ہیں نہ معاف کر دیں۔جہنم کے عذاب سے بچالیں۔جہنم کا عذاب بہت شدید ہے۔
*اللھم اجرنی من النار* “وہ مان جاتا ہےیہ اللہ پاک کی ایک خوبصورت صفت ہے۔ہم مجبور ہو کر بھی اسکی نہیں مانتےاور وہ بااختیار ہو کر بھی ہم سے مان جاتا ہے۔”
بے شک میرا رب بڑا غفوررحیم ہے۔اللہ ہمیں اپنے فضل و کرم اور احسان عظیم کے صدقے برائیوں گناہوں اور جہنم سے محفوظ اور مامون فرمائے ۔ آمین

(امم فرحان )

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: