آہ ہماری تہذیب ( آمنہ آفاق)

موسم سرما کے شروع ہوتے ہی گرم کپڑوں کی جیسے قلت ہی پڑ گئی ہو اسی سلسلے میں مارکیٹ جانے کا اتفاق ہوا کہ بچیوں کے لیے اور اپنے لئے کچھ ریڈی میڈ سردیوں کے لحاظ سے خرید لیا جائے لیکن ہر دکان میں ایسا لگ رہا تھا کہ یہ گھٹنوں سے بھی اونچی اونچی کرتیوں کا رواج عام ہوگیا ہے اور ساتھ میں بے شرمی کے سارے ریکارڈ توڑنے والے تنگ ٹائٹس جن کو یوں عام طور پر بازار میں فروخت ہوتا دیکھ کر میں تو کم ازکم شرم سے پانی پانی ہو گئی

”باجی یہ خریدیں، دیکھیں کتنا جچے کا گڑیا پر “
ایک دکاندار نے میری توجہ اپنی دکان میں سجی ڈمی پر کراٸی جو کہ ایک چھوٹی سی کرتی اور انتہاٸی تنگ پاجامہ میں ملبوس تھی تو میں غصہ سے سیخ پا ہو گٸ ۔ اور اس کو کچھ کہنے کے بجائے اپنی بچیوں کے ہاتھ پکڑے اور مارکیٹ سے ہی نکل گئی ا، ”ماما کیا ہوگیا ہے آپ کو، جب آپ کو کچھ لینا ہی نہیں ہوتا تو مارکیٹ جاتی ہی کیوں ہیں ؟؟“
13سالہ ماہا نے میری اس حرکت پر خفاخفا انداز میں کہا تو میں فوری طور پر کوئی جواب نہ دے پائی کہ میری نو سالہ بیٹی حیا نے کہا ”کتنا اچھا لگ رہا تھا نا آپی وہ سوٹ ،جو انکل دکھا رہے تھے پتہ نہیں کیوں نہیں لیا ماما نے“
” خاموش ہو کر نہیں بیٹھ سکتیں تم لوگ ،“

ضبط کرنا اب برداشت سے باہر تھا میں نے کھڑکی سے باہر کی جانب دیکھنا شروع کر دیا ”اف توبہ ہر لڑکی چاہے وہ آنٹی ہی کیوں نہ ہو اس قسم کے بے ہودہ ڈریسنگ میں ملبوس،
اُف اللہ میں نے اپنا سر پکڑ لیا آخر کیسے بچاؤں گی میں اپنی بچیوں کو اس بے حیائی کو فروغ دینے والے معاشرے سے ، لوگ تو اپنی قیمتی چیزوں یعنی زیورات وغیرہ چوری ہونے کا رونا روتے ہیں مگر یہاں تو ہماری اقدار ،تہدیب ہماری اخلاقیات سب چوری ہو چکے ہیں مگر کوئی رونا نہیں، خوشی خوشی سب قبول کیا جا چکا ہے بے شرمی کے سارے ریکارڈ توڑ کر ہیں تو ہمیں ترقی یافتہ ممالک کے شہری ہونے کا سرٹیفیکیٹ ملے گا ،کتنی گھناؤنی سوچ ہو چکی ہے ہماری ، توبہ میں نے سر جھٹکا گھر آ چکا تھا بچیاں اب تک خفا تھیں بچیوں کی ناراضگی قبول ہے مگر انہیں دلدل میں گرانا قبول نہیں میں نے دل میں سوچا اور پھولے پھولے چہرے دیکھ کر کچن کی جانب چل دی ”آپ لوگ کے لٸے چپس بنا رہی ہوں آپ لوگ فریش ہو جاٶ “

ماہا ٹی وی آن کر چکی تھی میں بھی چاۓ اور اسنیکس لے کر بچوں کے ساتھ ہی بیٹھ گٸی مگر یہ کیا ٹی وی پر پہلی نظر پڑتے ہی مجھے وہ چور اور لٹیرے مل گٸے جو ہماری تہذیب ،اقدار، شرم وحیا سب چوری کر گٸے ہیں، ہاں یہی لوگ ہیں ، ہر کمرشل ہر چینل سے آنے والی ماڈل دوپٹے سے بےنیاز سلیولیس کرتی اور تنگ ٹائٹس میں ملبوس ہماری آنے والی نسلوں کے دل و دماغ پر بڑے ہیں گھناؤنے اثرات مرتب کر رہی تھی تب ہی تو ہمارے معاشرے کو بے حیائی بے حیائی نہیں لگ رہی ہے
آج نظروں کا زاویہ ہی تبدیل ہو گیا تھا تب ہی تو اپنے بچوں کو مزے سے ٹی وی میں مگن دیکھ کر پہلی بار دل کو بہت زیادہ چوٹ سی محسوس ہوئی

”ماہایا ٹی وی بند کرو اور میرے ساتھ چلو باہر لان میں چل کرچاۓ پیتے ہیں “
میں نے غصے پر بے انتہا قابو پاتے ہوئے اپنی بچیوں کو ہدایت دی ،بچیاں میرے اتارچڑھاؤ والے انداز سے بڑی جذبز ہوچکیں تھیں، ”کیا ہوگیا ہے مما آپ کو میں اپنا فیورٹ شو دیکھ رہی تھی اور آپ نے باہر بلا لیا “ دونوں کا معصوم چہرہ پھر سے پھول گیا ،میری معصوم بچیاں کس قدر میری رہنمائی کی ضرورت مند ہیں اس کا آج مجھے شدت سے احساس ہوا، موجودہ معاشرے میں تقریبا ہر بچی کو ہی اپنی ماں کی رہنمائی کی ضرورت ہے،

” بیٹا میں آپ لوگوں کو ایک بات بتاٶں“ میں نے بات کا آغاز کیا ، بیٹا ، ہم مسلمان ہیں اور ہمارا دین اسلام ہمیں ان طرح کے ملبوسات پہننے کی اجازت نہیں دیتا جیسا کہ یہ ٹی وی میں دکھاتے ہیں یا پھر دکانوں میں جس طرح کے کپڑے فیشن کے نام پر فروخت کیے جاتے ہیں دیکھنے میں اچھے لگنے کے ساتھ ساتھ ضروری ہے کہ ہماری ستر پوشی بہترین طریقے سے ہو
”مگر ماما ردا عاپی اور بڑی آنٹی کی بیٹیاں بھی تو ایسے ہی ڈریسنگ کرتی ہیں تو پھر ہمارا بھی دل کرتا ہے کہ ہم بھی ایسے کپڑے پہنے سب لوگ ان کی تعریف کرتے ہیں کہ کتنی پیاری ہیں اور ہم کو تو کوئی سراہتا ہی نہیں “

ماہا نے بے چارگی سے کہا تو ایک بار پھر مجھے اپنی ہمت جمع کرنا پڑی، دل ہی دل میں اپنے رب سے اپنی بیٹی اور بھانجیوں کی ہدایت کے لئے دعا مانگی اور گویا ہوئی ، دکھنے میں پرکشش اور خوبصورت لگنا ضروری نہیں زندگی کا مقصد تلاش کرکے اس پر نظم و ضبط اور مستقل مزاجی کے ساتھ عمل پیرا ہونا ہے یہ ہماری زندگی کا مقصد ہونا چاہیے کہ جہاں برائی نظر آئے بجائے اس کے کہ خود بھی اس میں شامل ہوجائیں بلکہ اس میں شامل افراد کو نکالنا بھی ہماری ذمہ داری ہے میری جان میں آپ کو ایک حدیث سناتی ہو کہ ”وہ عورت جنت کی خوشبو سے بھی محروم رہے گی جو لباس میں ہونے کے باوجود بے لباس نظر آۓ “

اب تجزیہ کرو کہ ہم کہاں کھڑے ہیں ،قرآن پاک میں جگہ جگہ جنت کی بشارتیں ہمارے لئے ہی تو ہیں، تو پھر ہم صرف چند ستائشی کلمات کی خاطر ابدی مزے کو کیسے ٹھکرا سکتے ہیں، یہ تو سراسر بڑا ہی گھاٹے کا سودا ہوا ، جنت کی خوشبو تک سے محروم ہو جانا بڑی ہی بد نصیبی کی بات ہے میری جان ،“
”جی ماما یہ واقعی بڑے نقصان والی بات ہے “

میری دونوں پریاں نظریں جھکائیں ہوئیں تھیں
” ماما جیسے آپ نے ہمیں سمجھایا ہے ایسے آپ ہماری باقی کزنز کو بھی سمجھائیں ناں “ حیا کے معصومانہ انداز سے کہی گٸی بات نے مجھے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا ،واقعی غلطی میری ہی ہے اپنی ینگ نسل کو گمراہیوں میں جانے سے روکنا بھی میری ہی ذمہ داری ہے، مگر میں تو صرف اپنے ہی گھر تک اپنی بیٹیوں تک ہی سوچ پاٸی، اگر ہماری تہذیب سے ہم اپنی نئی نسل کو آشنا نہیں کروائیں گے تو واقعی یہ حالات کے دھارے میں بہہ جائیں گے ،یہ لوگ ہماری رہنمائی کے مستحق ہیں ”کیا ہوا ماما “

مجھے خاموش دیکھ کر ماہا نے میرا کندھا ہلایا تو میں سوچوں سے باہر آگئی
”کچھ نہیں میری جان، ان شاء اللہ اب ہم سب مل کر کوشش کریں گے کہ اپنے اخلاق و کردار سے بقیہ لوگوں کی بھی رہنمائی کر سکیں “ میں نے مسکرا کر کہا تو میری دونوں پرنسز مسکرا کر میرے گلے لگ گئی اب میں مطمئن تھی کہ میں نے اپنی زندگی کا لائحہ عمل طے کرلیا تھا میری مانیں تو آپ بھی یہ لاٸحہ عمل تیار کرلیں اور اپنی نٸی نسل کو گمراہیوں سے بچانے میں میرا ساتھ دیں ۔

Share:

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on pinterest
Share on linkedin
Share on email
Share on telegram
Share on skype

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Related Posts

error

Enjoy this blog? Please spread the word :)