زیور یا زنجیر ۔ نویرہ عمر

*زیور یا زنجیر*

حیا عورت کا زیور ہے اور اس زیور کو گلے کی زنجیر سمجھتے ہوے عورت نے اتار پھینکا ہے۔ کچھ تو عورتوں کے فضول نعرے ” میراجسم میری مرضی ” نے بگاڑ پیدا کیا تھا کچھ موجودہ دور کے ڈراموں نے کردیا۔

ایک ڈرامے پر بھی قلم اٹھایا جاے تو شاید سیاہی کم پڑ جاے مگر الفاظ ختم نہ ہوں جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ ان گنت ڈرامے ایسے دیکھاے جارہے جسمیں عورت کا کردار ہی مشکوک کردیا۔
وہ عورت جسے اسلام نے عزت دی، احترام دیا،گھر کی رانی بنایا وہ آج چند ٹکوں کی خاطر خوار ہوتی پھر رہی ہے۔ مشرقی عورت آج مغربی عورت سے متاثر ہے جبکہ مغربی عورت جو اپنے معاشرے اور لوگوں کی ستائی ہوئی ہے وہ اسلام کی آغوش میں پناہ لے رہی ہے۔
اب بات ڈراموں کی ہو یا اشتہاروں کی کچھ بھی عورت کے بغیر مکمل نہیں ہے۔ حد تو یہ ہے کہ شیونگ کریم کے اشتہار تک میں عورت کو لازمی دیکھایا جارہا ہے۔ اسی طرح سینٹری پیڈز کے اشتہارات دیکھانے سے عورت کی حیا پر کھلی ضرب پڑ رہی ہے۔

ڈراموں کی بات کی جاے تو ہر جگہ عورت ہی کا کردار منفی دیکھایا جارہا ہے اگر بیوی ہے تو بے وفا ،ساس ہے تو بہو پر ظلم کے پہاڑ توڑنے والی ،نند ہے تو بھابی کی زندگی میں زہر گھولتی ہے،بہن کے روپ میں اپنی ہی بہن کا گھر برباد کرنے والی اور اگر بہو ہے تو ظالم جو کے گھر والوں کا جینا حرام کر کے رکھتی ہے۔
غرض یہ کہ ہر جگہ عورت کے کردار کو ہی منفی دیکھایا جارہا ہے جس کا اثر ایک عام گھریلو عورت کی زندگی پر پڑتا ہے۔ یہ تو تصویر کا ایک رخ ہے جو معاشرے نے پیش کیا

جبکہ حقیقت اس کے بر عکس ہیں تصویر کا دوسرا رخ وہ ہے جو اسلام پیش کرتا ہے۔ جس نے عورت کو ہر روپ میں عزت دی ہے۔ اگر ماں ہے تو اس کے قدموں تلے جنت ہے، اگر بہن ہے تو بھائی کے لیے مان اور عزت ہے، بیٹی جو اپنے باپ کےلیے رحمت اور جنت کی ضمانت ہے اور اگر بیوی ہے تو اپنے شوھر کا نصف ایمان مکمل کرتی ہے۔
لیکن افسوس کا مقام ہے کہ اج کے ڈرامائی کرداروں اور اس مادی دور میں اسلام کی بتائی ہوئی عورت ناپید ہوچکی ہے اور صرف اپنی زمہ داریوں اور فرائض سے متنفر عورت ہی نظر اتی ہے جو مغرب سے متاثر ہوکر گھر اور خاندانی ذمہ داریوں سے ازادی چاہتی ہے جو کہ حقیقت میں بربادی ہی ہے۔

کیوں عورت نے اپنے اپ کو اتنا سستا اور رسائ کے قابل بنادیا کہ پکے ہوے پھل کی طرح کسی کی بھی جھولی میں جا گرے۔ اتنی اسان رسائ پر تو معاشرے کے بھڑیے کیوں حملہ نہ کریں اب چاہے وہ میڈیا والے ہوں یا کسی اور ادارے سے تعلق رکھنے والے جن کے سامنے عورت نے اپنا اپ پیش کردیا جیسے چاہو استعمال کرلو۔
اگر اسی طرح عورت حیا کو گلے کی زنجیر سمجھتے ہوے اتار کر پھینکتی رہی تو وہ وقت دور نہیں کہ جب دنیا میں عورت کی بچی کچھی عزت بھی نہ رہے گی اور جب نسلوں کو پروان چڑھانے والی عورت ہی عزت نہ رہے تو کیسے اچھی نسل پروان چڑھے گی اور نتیجہ یہ ہوگا کہ معاشرے میں بے راہ روی، انتشار،نفرت، لڑائ جھگڑے ہی نظر ائنگے۔

اب فکر کا مقام یہ ہے اب بھی وقت ہے اگر عورت سنبھل جاے اور اپنی ذمہ داریوں اور فرائض سے منہ موڑنے کے بجاے انہیں دل سے نبھانے کی فکر کرے تو معاشرہ دلدل میں گرنے سے بچ سکتا ہے کیوں کہ ایک عورت کی بربادی در حقیقت ایک معاشرے کی بربادی ہے جسکا ازالہ ممکن نہیں ہے۔

نویرہ عمر

Leave a Reply

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: