پاکستان کی شہہ رگ کشمیر۔ عالیہ عثمان

پاکستان کی شہ رگ کشمیر

5 فروری پاکستان سمیت پوری دنیا میں مظلوم کشمیریوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے دن کے طور پر منایا جاتا ہےپوری دنیا کے درد دل رکھنے والے لوگ اس دن جلسے جلوس اور ریلیاں نکال کر جبر و ستم کے ستائے ہوئے کشمیریوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں

۱۹۸۷کے ریاستی انتخابات میں بدترین دھاندلی کے بعد کشمیریوں کا اعتماد جعلی انتخابات اور پارلیمانی سیاست سے اٹھ گیا۱۹۸۹میں جب دوبارہ انتخابات ہوئے تو کشمیریوں نے ان کا بھرپور بائیکاٹ کرتے ہوئے آزادی کی تحریک کو نئے سرے سے زندہ کیا جوابا دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بھارت نے ان پر جبر و ستم کے پہاڑ ڈھا دیےاس صورتحال میں ۵ فروری۱۹۹۰کو پہلی دفعہ یہ دن کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے طور پر منایا گیا اور یہ روایت اب تک برقرار ہے اس دن سرینگر سمیت پورے کشمیر میں بھی جلسے جلوس ہوتے ہیں اور پوری پا کستانی قوم کشمیریوں کے ساتھ کھڑی ہو جاتی ہے

یوم یکجہتی کشمیر کے اس موقع پر ہم تحریک آزادی کشمیر کے ساتھ یکجہتی کے حقیقی تقاضوں کا ذکر کرتے ہیں تاکہ قوم باشمول حکومت ان تقاضوں کا صحیح ادراک بھی کرسکے اور ان پر عمل درآمد کو یقینی بنائے اس وقت مقبوضہ کشمیر میں آزادی اور حق خوداردیت کی تحریک ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی تکمیل اور بقا کی تحریک بھی ہے اور ہمارے مقبوضہ کشمیر کے بھائی گزشتہ 30 سال کے عرصے میں کشمیر کی آزادی اور پاکستان کی بقا کی اس تحریک کے دوران دو لاکھ سے زیادہ شہداء کے مقدس لہو کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں جن میں مرد عورت بچے اور بوڑھے سبھی شامل ہیں اس کے علاوہ اس عرصے کے دوران لاکھوں کی تعداد میں کشمیری مسلمان مرد عورتیں بچے اور بوڑھے زخمی اور اپاہج ہو چکے ہیں چنانچہ آج مقبوضہ کشمیر میں کوئی گھر ایسا نہیں ہے جس کا کوئی نہ کوئی مرد شہید یا زخمی نہ ہوا ہو یا جس کی کسی ماں بہن یا بیٹی کی عصمت نہ لوٹی ہو اسی طرح آج مقبوضہ کشمیر میں بستیوں کی بستیاں ویرانوں میں تبدیل ہو چکی ہیں مقبوضہ کشمیر کا کوئی شہر یا گاؤں ایسا نہیں ہوگا جہاں
شہد ائے کرام کے مزار نہ ہوں

یوں وہ کشمیر جو اپنی قدرتی خوبصورتی اور رعنائی کی وجہ سے جنت اراضی کہلاتا تھا بھارت کی سرکاری دہشتگردی کی وجہ سےموت کی وادی میں تبدیل ہوچکا ہے اور کشمیری عوام نے یہ ساری قربانیاں اپنے خود ارادیت اور پاکستان کی تکمیل اور بقا کے لیے دی ہیں ماؤں نے اپنے جگر گوشے بہنوں نے اپنے بھائی اور بیویوں نے اپنے سہاگ اس عظیم مقصد کے لئے پیش کئے ہیں اگر کوئی شخص اہل کشمیر کی اتنی عظیم قربانیوں کے بعد مسئلہ کشمیر کے حل پر بھارت کی آمادگی کے بغیر اس کے ساتھ تعلقات کی بحالی اور تجارت کی بات کرتا ہےتو وہ دراصل کشمیری ماؤں بہنوں اور بیٹیوں کے زخموں پر نمک پاشی کرتا ہے اور وہ شخص تو کسی صورت بھی قابل معافی نہیں ہےجو ۵ فروری کو تحریک آزادی کشمیر کے ساتھ یکجہتی کا اظہار اور اعلان کرنے کے بعدتحریک آزادی کشمیر کے خلاف کی جانے والی سازشوں میں بھی حصہ لیتا ہےکشمیریوں کو حق خود ارادیت دیئے بغیر انصاف کے تقاضے پورے نہیں کیے جاسکتے ،یہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ اقوام متحدہ اپنی ہی منظور شدہ قرارداد پر کشمیریوں کو ان کی منشا کے مطابق حق خودارادیت دینے سے قاصر ہے ہم کشمیر کی آزادیکی جدوجہد نے اپنے کشمیری بھائیوں کے شانہ بشانہ ہیں انشااللہ مسئلہ کشمیر کشمیری عوام کی خواہشات اور امنگوں کے مطابق حل ہو گا

شہ رگ کی آزادی کے لیے نعروں کی نہیں اقدامات کی ضرورت ہےکشمیر کو غاصبانہ قبضہ سے آزادی دلا ے بغیر جنوبی ایشیا میں امن قائم نہیں ہوسکتا کشمیریوں کی قربانیاں ضائع نہیں ہونگی بھارت اس خطے کی تباہی کا سب سے بڑا ذمہ دار ہےجو مظلوم کشمیریوں پر ظلم و بربریت میں مصروف ہے۔ لیکن عالمی امن و حقوق کے ٹھیکیداروں نے بھارت کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہےپاکستان کی شہ رگ کشمیر آج بھی ہم سب کے دلوں کی دھڑکن ہے اور کشمیر کے رہنے والے آج بھی پاکستان کو اپنی منزل سمجھتے ہیں وطن کی عزت و آبرو پر جان دینے والے ہمارے کشمیری بھائی ہمارے لیےحسرت و یاس کی تصویر نہیں بلکہ عزم و استقلال کا پیکر ہیں

آج کشمیری چھ ماہ سےزائد عرصہ سے دنیا کی سب سے بڑی جیل میں قید ہیں ، یہ وہ واحد جیل ہے جس میں کرفیو کی وجہ سے ایک دن کے شیرخوار بچے سے لے کر 80 سال تک کے بزرگ تک قید میں ہیں ان کا جرم صرف آزادی کا مطالبہ اور مسلمان ہونا ہےآج عالم کفر مسلمانوں پر اس طرح ٹوٹ پڑا ہے جیسے بھوکے دسترخوان پر ٹوٹ پڑتے ہیں مسلمان حکمران کی بے حسی انتہا پر ہے وہ یہی خیال کر رہے ہیں کہ آگ اس کے گھر میں لگی ہے ہم تو محفوظ ہیں ۔پاکستان کے حکمرانوں نے تقریریں تو اچھی کی ہیں مگر عملی کام کچھ نہیں کیا

مقبوضہ جموں کشمیرکی عورتیں مسلسل کرفیو کے دوران ہر صبح اپنے گھروں کے دروازے کھول کر باہر جھانکتی ہیں کہ شاید آج پاکستانی فوج پہنچ چکی ہو لیکن باہر بھارتی فوج کے سپاہی دیکھ کر نفرت سے دروازے بند کر لیتی ہیں وہ لوگ بہتر سال سے پاکستانی فوجیوں کا انتظار کر رہے ہیں مقبوضہ کشمیر میں مظالم کی حد ہو گئی ہے لیکن کشمیری مسلمانوں کا صبر اور حوصلہ مثالی ہےبھارتی آخرکار شکست سے دوچار ہونگے اور انشاءاللہ کشمیریوں کی جیت ہوگی جمہوریت کا دعویدار بھارت طاقت کے زور پر کشمیر پر قابض ہے قائداعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ کہا آج بھارت نے پاکستان کی شہ رگ پر ہاتھ رکھ دیا ہے کوئی غیرت مند قوم اپنی شہ رگ دشمن کے قبضے میں ہرگز برداشت نہیں کرسکتی۔

ستم شعار
سے تجھ کو چھڑائیں گے اک دن
میرے وطن تیری جنت میں آئیں گے اک دن۔

عالیه عثمان

Share:

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on pinterest
Share on linkedin
Share on email
Share on telegram
Share on skype

1 Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Related Posts

error

Enjoy this blog? Please spread the word :)