رونے کی بات تو یہ ہے۔ احمد

“رونے کی بات تو یہ ہے ۔۔۔”

کچھ دنوں سے پوری قوم کو ایک ڈرامے کے بخار میں مبتلا دیکھ کر بہت افسوس ہوا .
یوں تو ہم روتے رہتے ہیں کہ

ہم بھت پریشان ہیں ۔۔۔۔ بھت مہنگائ ھے ،بےروزگاری ہے،کاروبار نہیں چلتا،کبھی گیس نہیں کبھی بجلی نہیں ،لوٹ مار ھے وغیرہ وغیرہ لیکن ساری قوم کے پاس اسکرین سے منسلک تفریحات کے لئے بہت کھل کر وقت ھے۔
آنگینت مسائل نےمیرے پیارے پاکستان کا بہت ہی برا حال کر دیا ہے۔ الفاظ نہیں شرمندگی ہوتی ہے کہ میرے بزرگوں کی دی گئی قربانیوں کے بعد میرے ملک کی کیا حالت بنا دی گئ ھے ۔یہ حالت کوئی ایک دن اچانک نہیں ھو گئ ھے ۔ھم بھول گئے کہ ہم نے ایک نظریے کی خاطر یہ ملک حاصل کیا تھا مسائل اور تفریحات میں الجھا کر ہم سے ھمارانظریہ کہ یہ ملک دین اسلام کا نمائندہ ملک ھو گا چھینا جا رہا ھے اور پوری قوم مدہوش ھے اپنے نقصان سے بے خبر ھے۔

*ارشاد باری تعالیٰ ہے
*جیسے تم ہو گےویسے ہی تم پر حکمران مسلط کیئے جائیں گے۔*
ذرا ٹھہریے!!! یہ پوری قوم کا ایک ڈرامے کے کردار کے مر جانے پر سوگوار ہو جانا یہاں تک کہ کمزور دلوں کاانسو بہانا کیا یہ اپنے مسائل سے فرار نہیں ؟
شاعر کہتے ہیں
*اس دو رنگی کے سائے سے بھی اللہ بچائے
رابطہ اسلام سے ہے اور کفر سے بھی یاری ہے*
مقام فکر ھے کہ

جس کو قرآن مجید کی تلاوت نہ رلا سکی ،
قرآن میں مذکور عذاب جہنم نہ رلا سکا ۔
جس قوم کو کشمیر کی چیخیں نہ رلا سکیں،
برما،فلسطین،سنکیانگاور اراکان اور دیگر مسلم ممالک میں ہونے والاظلم نہ رلا سکا،
ممتاز قادری کا عدالتی قتل نہ رلا سکا،
غربت کے مارے خاندانوں کی خودکشی نہ رلا سکی،
معصوم بچوں کے ساتھ اذیتوں بھرےواقعات نہ رلا سکے اور پھر ۔۔۔۔۔
*وہ ایک نوٹنکی کے ڈرامے بازی پر رو پڑی*
*وہ اداس موسیقی پر رو پڑی *
تو کیا یہ ایک المیہ نہیں ۔ انتہائی افسوس کا مقام ہےکہ ھمارے چینلز قوم کو سحر انگیز نشریات میں الجھا کر ذہنی طور پر مفلوج کر رہے ہیں ۔ ایسی قوم صرف تقلید کر سکتی ہے تعمیر نہیں اورتقلید غلامی ہی کی ایک شکل ہے ۔

تھکے اعصاب کو تازہ دم کرنے کے لئے تفریحات بھی ضروری ہیں مگر یہ کیسی تفریحات چوبیس گھنٹے قوم پر مسلط ھیں جو غیر قوموں کی تہذیب و ثقافت پر مبنی ہیں یہ تو ہمیں یہودو نصاریٰ کی تقلید کا عادی بناکر دوبارہ غلامی کے اندھیروں میں دھکیل دیں گی ۔
ہمیں اپنی سوچ بدلنی ہو گی ۔اپنے دشمن کو پہچاننا ھو گا
ہمیں مل کر ان سب کے خلاف آواز اٹھانی پڑے گی جو ہم سے ھماری مسلم شناخت چھین لینا چاہتےہیں۔

ہمیں ہر اس آواز کا ساتھ دینا ہوگا جو قوم کو صحیح راہ دکھانے کے لئےبلند ہو ۔اس محب دین و ملت کی پکار پر لبیک کہنا ھے جو عوام کی مشکلات اور حقوق کے لئے ہر وقت میدان عمل میں موجود ہوتے ہیں ۔ عوامی مشکلات کے لئے بھی آواز اٹھاتے ہیں اور بندوں کو اپنے رب سے بھی جوڑتے ہیں ۔
دعا ہے اللہ تعالی ہم سب کو ہدایت دے ۔ تاکہ ہم صحیح کو صحیح اور غلط کو غلط سمجھ سکیں۔
آمین یا رب العالمین

Ahmed

Leave a Reply

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: