گیس کی لوڈشیڈنگ ـ اسماءاشفاق

گیس کی لوڈشیڈنگ ـاسماء اشفاق

موسم سرما کیا آتا آپا حمیدہ کے باورچی خانے میں بڑا دیگچہ چولھے سے اترنے کا نام نہی لیتا تھا ایک پہ ایک فرد نہانے کی غرض سے اتنا بڑا صحن کراس کرکے بنائے گئے غسل خانے کو رونق بخشنے آن پہنچتا

تو کبھی ماسی جی کے برتن دھلتے دھلتے ختم ہونے کا نام نہیں لیتے ۔آخر تو اتنا بڑا خاندان بستا تھا تایا امجد کے چار بیٹے اور تین بیٹیاں۔منجھلے چچا عزیز کی فیملی جس میں انکے دو بیٹے اور ایک بیٹی تھیں۔چھوٹے چچا کی شادی کی تقریب میں خاندان بھر سے آئے مہمان واہ کیا رونق ہوا کرتی تھی کھانا پکانے کے لیے جو کچن کا رخ ہوتا تو سب کزنز کی آپس کی باتیں اور اس پر دادی اماں کی باتیں ارے کچھ کام بھی کررہی ہو یا بس باتیں بنانے ہی جمع ہوئی ہوں۔ کیا دن تھے ہمارے بچپن کے موسموں کے

اورکیا بتاؤ ایک یہ دن ہوئے آج کی تقریبات توبہ توبہ گھروں میں گیس کے ہیٹر مگر گیس غائب۔ آج کی تقریبات کھانے کا وقت آن پہنچتا ہے مگر گیس بد ستور غائب ہوتی ہے۔ بےچارے مرد حضرات جنہیں عرف عام میں خواتین ظالم ہونے کا لقب دیتے نہی تھکتیں وہی اپنی دن رات کی محنت کی کمائی دولت لٹانے صبح و شام ہوٹلوں کو رونق بخشنے موجود ہوتے ہیں اور لمبی لمبی قطاروں میں انتظار کی زحمت بھی سہتے ہیں ۔

کئی سگڑ بیگمات ارے ہم بنالینگے لکڑیاں سلگاکر کی آوازیں ہی لگاتی رہ جاتی ہیں مگر اکثر گھروں کی بیگمات یہ حکم سناتی بھی دیکھی جاتی ہیں کہ بھئی گیس تو آنہی رہی باہر سے ہی منگوانا پڑے گا گویا انکے تو من کی مراد پوری ہوگئی اور نہی تو کیا جتنی پھرتیلی دکھتی ہیں اپنے فرائض بجا لانے میں تو حرج بھی کیا ہے ایسا خیال آنے میں اور مرد جی حضور کا کلمہ ہی کہہ پاتے ہیں.

اب ایک تقریب کا حال یہ کہ کپڑے نکالے کہ استری ہی کرکے رکھ دی جائے تو لائٹ بھی ٹاٹا بائے بائے کہہ چکی تھیں میاں جی نے دوکان کا رخ کیا کہ آخر پہنچنا بھی تو تھا دعوتِ احباب میں ۔ہائے رے لوڈ شیڈنگ کہیں کا نہ چھوڑا۔

بل ایسے آتے ہیں کہ ایک ماہ میں دو ماہ کا بل آگیا ہوں دیکھتے رہیے گا کہیں موبائل کی بیٹری لو نہ ہوگئی ہو آپس کی بات ہے لائٹ کا حال بھی کچھ تسلی بخش نہی ہے اسے سنانے کے لیے ایک اور محاذ درکار ہے ابھی تو اسی پر اکتفا کرتے ہیں ۔

اسماء۔اشفاق

Leave a Reply

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: