نئے سال کی نوید ـ اسماء اشفاق

9نئے سال کی نوید. نئے کی آمد آمد ہے کچھ تبصرہ چاہا تو خیال آیا یہ سال کیسا رہا اس پہ بھی نظر ڈالی جائے کشمیر کی صورتحال نظروں میں گھوم کے رہ گئی

آہ۔۔۔۔کشمیر تیری آزادی کے کیسے کیر خواب نہ سجائے تھے۔لگتا تو یوں تھا کہ دورِعمرانی آئے گا اور کشمیریوں کی 72سالہ جدوجہدِ آزادی کو بھی قرار ملے گا انکے آنگن میں بھی خوشیاں قرار پاسکیں گی بچے بے خوف و خطر تعلیمی اداروں کو رونق بخشیں گے شہیدوں کی بے قرار مائیں اپنے جگر گوشوں کے خون کو رنگ لاتے دیکھ پائیں گی نصف صدی سے آزادی کی امید کا دیا روشن کیے بوڑھے باپوں اور بیواؤوں کو سکون نصیب ہوگا آخر تو عمران خان صاحب وطن کا نام دنیا میں روشن کرنے وَے ماضی کے ہیرو اتنی امید تو بنتی ہے۔مگر آس ۔۔آس اور ۔۔آس ۔۔آہ۔۔

کشمیر کیا بیان کریں ہوا الٹا یہ کہ تو دیکھتے ہی دیکھتے بھوک و پیاس، قیدو بند کے شکنجے میں پھستا گیا اور ہم دنیا کی ایٹمی طاقت کا زعوم لیے بس تقریروں، جلسے جلوس ,اور ہم کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں کے نعروں کی صدا بلند کرتے ہی رہ گئے۔دیکھا تو انکی طرف جو ہمارے ایک بازو کے سوداگر تھے مگر وہ عبرت کی نگاہ تھی کہاں ہمارے پاس ۔

مگر خوش آئند بات یہ کہ نوجوان تیری آواز سے آواز ملارہے ہیں ۔وادئ کشمیر آزادی تیری تقدیر۔ بھارت کا ظالم اور سفاک چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکا ۔اور دنیا شاہد ہے مسلمان جب اللہ کے لیے اٹھتا ہے تو دنیا کی کوئی سپر پاور اسکے سامنے ٹھر نہی سکی۔ اسلام کا ابتدائی دور ہو یا اسکے بعد کے کئی ادوار ان مثالوں سے بھرے پڑے ہیں آج دنیا کی سپر پاور چند قبائیلی سرفروشوں کے ہاتھوں اپنی شکست کا منہ چھپائے مذاکرات کی میز سجانی کی دعوت دے رہی ہے۔

اے وادیٔ کشمیر آنے والا سال کا سورج تیری آزادی کی نوید لے کر طلوع ہوگا انشاء اللہ وہ دن دور نہی جب کشمیر کی سرزمین پہ فتح کے جھنڈے گاڑے جائینگے۔ یہ اہل نظر کہتے ہیں کشمیر ہے جنت جنت کسی کافر کو ملی ہے نہ ملے گی

اسماء اشفاق

Share:

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on pinterest
Share on linkedin
Share on email
Share on telegram
Share on skype

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Related Posts

error

Enjoy this blog? Please spread the word :)