ہمارے شاہین ـ صائمہ وحید

دسمبر کی ہلکی سنہری سی دوپہرتھی ،عمیر،ذبیر دونوں بھائ چھت پر موجود تھے۔ اورآسمان پر اڑتی رنگ برنگی پتنگیں دیکھ کر ،خود بھی پتنگ اڑانے کی تیاری کررہے تھے ۔

دونوں بھائیوں کی عمریں سات اور دس سال کی تھیں۔دونوں تیسری اور،چھٹی جماعت کے طالب علم تھے۔۔بڑے عمیر نے پتنگ کی ڈور تھامی،چھوٹے بھائ زبیر کو اشارہ کیا۔۔اس نے تھوڑا دور جاکر اچھل کر پتنگ فضا میں چھوڑ دی۔۔اب عمیر پتنگ اڑا رہا تھا۔۔کہ۔۔۔پتنگ تھوڑا اوپر جاکر الیکٹرک تار سے الجھ گئ۔افوں ،،یہ کیا۔۔دونوں بھائ جھنجھلا گئے۔۔!پتنگ نکالنے کے لئے۔عمیر نے غصے میں ڈور کو ایک زور کا جھٹکا دیا۔۔الیکٹرک تار سے ایک چنگاری نکلی۔۔
لمحوں میں عمیر کی چیخیں زمین و آسمان کو ہلا رہی تھیں۔

چھوٹا زبیر خوف زدہ کھڑا تھا۔۔عمیر کی امی،دادی،پھپھو چیخوں کی آواز سن کر چھت پر پہنچیں، برابر کی چھتوں سے دیوار کود کر لڑکوں نے لکڑی کے ڈنڈے سے عمیر کے ہاتھ سے چپکی دھاتی ڈور بڑی مشکل سے الگ کی۔ جس میں دوڑتے کرنٹ سے عمیر بری طرح تڑپ رہا تھا۔گھر میں اس وقت اس کے والد،چچا موجود نہی تھے ۔پڑوسی رحیم صاحب نے اپنی کار نکالی۔عمیر کو ہسپتال لے گئے۔۔عمیر کا دایاں بازو کرنٹ سے شدید متاثر ہوا تھا۔دونوں بھائیوں کو بخار ہوگیا تھا۔انکے گھر والے اپنی غفلت پر سخت متاسف تھے۔۔دادی جان نے بچوں کے نام سے ڈھیروں صدقات دیۓ ، امی جان نے روزے رکھنے کی منت مانگی اور ان کے ابا جان نے غریبوں میں کھانا بانٹا ۔دن رات کی تیمار داری سے وہ جلد صحت یاب ہو گۓ-

جمعہ کی نماز کے لیۓ ابا جان مسجد پہنچے
نماز جمعہ سے پڑھ کر فارغ ہوئے ہی تھے کہ انکے کندھے پر کسی نے ہاتھ رکھا ۔۔۔
انھوں نے دیکھا۔۔۔!
محلے کے بزرگ حبیب الرحمن صاحب تھے۔عمیر کی طبیعت معلوم کررہے تھے۔۔
عمیر کے والد ( ابراہیم )کی آنکھیں نم ہوگئیں۔
بہت چڑچڑا ہو رہا ہے۔
بخار اتر گیا۔بازو ٹھیک ہونے میں وقت لگے گا۔
انکے گرد محلے کے دوسرے مرد بھی جمع ہو گئے۔
ٹھیک ہو جائے گا۔ان شاءاللہ۔۔حبیب الرحمن صاحب نے تسلی دی ۔
وہ نہایت دھیمے لہجے،پرسوز آواز میں کہہ رہے تھے۔۔۔!
ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ہدایت دی تھی۔کہ۔۔۔
اپنے بچوں کو ٹیراکی،تیر اندازی،گھوڑ سواری سکھاؤ۔۔
ہم اپنے بچوں کو فضول مشاغل میں لگا کر اپنا،انکا نقصان کررہے ہیں۔میں اپنے پوتے کو پارک لے جاتا ہوں۔آپ بھی اپنے بچوں کو وہاں لایا کریں۔سب بچےمل کر کھیلیں۔ ۔۔انکی رائے سے موجود تمام مردوں نے اتفاق کیا۔اور بزرگ حضرات نے وعدہ کیا۔۔ہم بھی اپنے گھر کے بچوں کو قریبی پارک لے جائیں گے۔۔

ابراہیم صاحب بھی اپنے بیٹوں کو اکثر پارک لے جانے لگے۔جہاں محلے کے بزرگ اور حبیب الرحمن صاحب ،سب بچوں کو لے کر پہنچ جاتے۔بچے کبھی فٹبال،کبھی کرکٹ کھیلتے،کبھی سائیکل چلاتے،کبھی دوڑ کا مقابلہ ہوتا بچوں کی خوشی دیدنی تھی۔۔اگرچہ چھت پر بچوں کے اکیلے جانے پر پابندی لگ چکی تھی۔مگر پارک میں جاکر انکی موجیں ہوجاتیں۔
حبیب الرحمن صاحب جو اسکاؤٹس رہ چکے تھے۔اپنی چھرے والی بندوق کبھی لے آتے،پلاسٹک کی چھوٹی،بڑی خالی بوتلیں اسٹول پر رکھ کر بچوں کو نشانہ بازی۔ سکھاتے۔۔ساتھ بچوں کو قصے،کہانی سناتے۔۔
ایک دن بچوں کے ساتھ مل کر پارک میں چند پودے لگائے۔۔

ایک دن بچوں سے سوال کیا۔۔۔۔
شاھین کسے کہتے ہیں۔۔؟
پاکستانی کرکٹرزکو ۔۔۔
طلحہ نے کھٹ سے جواب دیا۔۔
نہی۔۔شاھین پرندے کو کہتے ہیں۔چیل جیساہوتا ہے۔انکل۔۔۔دوسرے بچے نے جواب دیا۔۔
علامہ اقبال نے شاھین کس کو کہا تھا ؟
حبیب الرحمن صاحب نے سوال کیا۔۔۔
سب بچے خاموشی ہوگئے ۔۔
علامہ اقبال کے بارے میں تو آپ سب جانتے ہیں ناں ۔۔
جی۔۔ہمارے قومی شاعر۔۔
سب بچوں نے ساتھ جواب دیا ۔
بالکل صحیح۔۔۔تو پیارے بجوں۔
علامہ اقبال نے شاھین ان مسلم نوجوانوں کو کہا ہے۔۔۔
جنکی زندگی کا مقصد بہت بلند ہوتا ہے۔اسکا کردار بھی بہت بلند ہوتاہے۔وہ فضول کاموں میں،پتنگ بازی،کارٹون،وڈیو گیم میں اپنا وقت برباد نہی کرتے۔۔محنت،لگن سے پڑھتے ہیں۔کمزور،مظلوم کی مدد کرتے ہیں۔نماز پڑھتے ہیں اللہ سے ڈرتے ہیں۔۔ا نکا نام تاریخ میں ہمیشہ ذندہ،روشن رہتا ہے۔
جیسے محمد بن قاسم۔۔جیسے قائد اعظم۔جیسے برھان وانی شھید،جیسے کرنل شیر خان شہید۔۔۔
آپ سب بھی پاکستان کے شاھین ہو۔جھوٹ،بے ایمانی سے ہمیشہ دور دہو۔سچ بولو،سچ کا ساتھ دو۔۔آپ نے پاکستان کو عظیم، مضبوط ،خوشحال اسلامی پاکستان بنانا ہے ۔

میں بڑے ہوکر قائد اعظم جیسا وکیل بنوں گا۔۔۔
عمیر جوش سے بول رہا تھا۔۔
حبیب الرحمن صاحب اور انکے ساتھی جوش سے بچوں کے تمتماتے چہرے دیکھ رہے تھے۔آج عمیر کی پھپو انکے گھر آئ ہوئ تھیں۔انکے بیٹے نے عمیر کو اپنا نیا موبائل دکھایا۔
آؤ گیم کھیلیں ۔۔
عمیر نے کہا۔۔۔
ہم علامہ اقبال ،پاکستان کے شاھین ھیں۔فضول گیم،کارٹون میں اپنا وقت ضائع نہی کرتے۔۔۔
اسکے والد نے عمیر کا ماتھا چوم کر اپنے سینے سے لگا لیا۔
شاباش میرا۔ بیٹا بہت سمجھ دار ہو گیا ہے۔
اب ہمارے محلے میں کوئ پتنگ شاذو نادر ہی اڑتی ہوئی نظر آتی ہے۔۔
ہم نے نہ صرف پتنگ بازی سے۔۔بلکہ کارٹون،موبائل گیم سے بھی نجات کرلی ہے۔
کیا آپ بھی ایسا چاہتے ہیں۔۔؟

صائمہ وحید۔۔کراچی

Leave a Reply

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: