وجود زن سے ہے تصویر کائنات کا رنگ ـقدسیہ ملک

وجود زن سے ہے تصویرکائنات میں رنگ

مرد کی طرح عورت بھی معاشرے کاایک اہم ستون ہے۔معاشرے کی بقاء  کیلئے دونوں کا کردار بہت اہم ہے ۔ کسی بھی معاشرے کی ترقی کیلئے تعلیم لازمی حیثت رکھتی ہے ۔اسلام نے عورت کو معاشرے میں عزت کا مقام دیا ہے اور عورتوں کی دینی ودنیاوی تعلیم کے حصول پر زور دیتا ہے۔

اسلا م میں عورتوں کی تعلیم کے بارے میں کبھی دو رائیں نہیں ہوسکتیں۔بے علم اور جاہل عورت معاشرے کی پسماندگی اور ابتری کا باعث بنتی ہے۔ جاہل اور اسلام سے ناواقف عورتوں کو نہ کفر وشرک کی کچھ تمیز ہوتی ہے، نہ دین و ایمان سے کچھ واقفیت۔ اللہ اور رسول کے مرتبہ و مقام سے ناواقف بعض اوقات شانِ خداوندی میں بڑی گستاخی و بے ادبی سے گلے شکوے کرجاتی ہیں۔ احکامِ شرعیہ کی حکمت اور افادیت سے واقف نہ ہونے کی بنا پر اُلٹی سیدھی باتیں کرتی ہیں، اس کے برعکس ہر طرح کے فیشن، بے حجابی و عریانی اور فضول رسم و رواج کے پیچھے بھاگتی ہیں، اولاد و شوہر کے بارے میں طرح طرح کے منتر جھاڑ پھونک اور کالے علم میں ملوث ہوتی رہتی ہیں۔ شوہروں کی کمائی اسی طرح کے غلط اور باطل کاموں میں ضائع کردیتی ہیں۔ شوہر سے ان کی بنتی ہے نہ سسرالی رشتہ داروں سے، انہیں اپنے بہن بھائیوں، رشتہ داروں اور ہمسایوں کے حق حقوق کی ذرا خبر نہیں ہوتی۔ اس کے برعکس لڑائی جھگڑا اور گالی گلوچ، زبان درازی و لعن طعن کرکے سب سے بگاڑ کر خوش رہتی ہیں۔

ایسی ہی عورتوں کے بارے میں اکبر الہٰ آبادی کہتے ہیں
یہاں کی عورتوں کو علم کی پروا نہیں بے شک
مگر یہ شوہروں سے اپنے بے پروا نہیں ہوتیں
(اکبر الہ آبادی)

اسلام سے ناآشنا عورتیں  زیور، کپڑوں  کے ناجائز مطالبوں سے ہر وقت شوہر کا ناک میں دم کئے رکھتی ہیں۔ بالآخر اس کو حرام کمائی میں ملوث کرکے چھوڑتی ہیں۔ وقت اور اپنی جوانی کی بھی ان کو قدر نہیں ہوتی۔ فضول باتوں میں ، لعن طعن میں، غیبت اور گالم گلوچ میں سارا وقت برباد کردیتی ہیں۔دینی تعلیم کی جتنی ضرورت آج مردوں کو ہے، اس سے کہیں زیادہ عورتوں کو ہے، عورت کا قلب اگر دینی تعلیمات سے منور اور روشن ہو، تو اس چراغ سے کئی چراغ روشن ہوسکتے ہیں، وہ دیندار بیوی ثابت ہوسکتی ہے، ہر دل عزیز بہو بن سکتی ہے اور نیک اور شفیق ساس ثابت ہوسکتی ہے، وہ اپنے بچوں کی بہترین معلم اوّل ہوسکتی ہے، وہ خاندانی نظام کو مربوط و مضبوط رکھ سکتی ہے، معاشی تنگی کو خوش حالی سے بدل کر معاشی نظام مضبوط کرسکتی ہے، وہ شوہر کے مرجھائے اور افسردہ چہرے پر گل افشانی کرسکتی ہے، میخانے کو مسجد اور بت خانے کو عبادت خانہ بناسکتی ہے، اولاد کو جذبہٴ جہاد سے سرشار کرسکتی ہے۔ دینی تعلیم یافتہ عورت وہ سب کچھ بہت آسانی سے کرسکتی ہے جو اسلام چاہتا ہے، اور اگر معاملہ اس کے برعکس ہوجائے تو منفی نتیجہ کیسا خوف ناک ہوگا، اندازہ کرنا مشکل نہیں اور دینی تعلیم سے بے انتہاء غفلت عورت کوشیطان بنادیتا ہے۔

ثریا بتول علوی محدث میگزین میں لکھتی ہیں،”اسلام کی رو سے خواتین کے لئے علیحدہ نصاب تعلیم ہونا چاہیئے۔خواتین کیلئے ایسی تعلیم لازمی ہے جوبچوں کی پرورش، تربیت اور سیرت سازی میں معاون ثابت ہوسکے۔ لہٰذا اسکو وہ اُمور ضرور سیکھنے چاہئیں جو ساری عمر گھر میں انجام دینے ہیں مثلاً:(1) خانہ داری: میسر وسائل میں غذائیت سے بھرپور کھانا تیار کرنا۔
(2) گھر کی ضرورت کے مطابق سلائی کٹائی اور بیکار چیزوں کو کارآمد بنانا، پھٹے کپڑوں کو پیوند لگا کر دوبارہ قابل استعمال بنانا۔
(3) موسم کے مطابق ستر کی حدود کو ملحوظ رکھتے ہوئے لباس تیار کرنا، پھر لباس پہننے کا سلیقہ بھی ہو، تاکہ صفائی ستھرائی سے کم قیمت لباس کو بھی دیدہ زیب بنا سکے۔
(4) گھر کی صفائی ستھرائی اور آرائش میں سلیقہ اور ترتیب کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ کم قیمت مگر سلیقہ سے رکھا ہوا سامان بیش قیمت، مگر بے ترتیبی سے رکھے گئے سامان کے مقابلے میں زیادہ دیدہ زیب اور خوبصورت معلوم ہوتا ہے۔ جبکہ عورت کابے سلیقہ اور پھوہڑ ہونا پورے گھر کو منتشر اور خراب کردیتا ہے۔
(5) گھر کا بجٹ تیا رکرنا: اپنی چادر کے مطابق پاوٴں پھیلانا تاکہ کسی سے ادھار مانگنے کی نوبت پیش نہ آئے۔ ضروری اور اہم چیزوں کو ترجیح دینا، تعیش اور سجاوٹ کی اشیا کو نظر انداز کرنا ضروری ہے۔
(6) گھر کا اس طرح بندوبست کرنا کہ ہر ایک کے لئے گھر میں سکون و اطمینان میسر ہو، ہر ایک کی ضرورت و ترجیحات کو سامنے رکھ کر ان کو آرام مہیا کیا جائے۔ بیمار کی تیمار داری ہو، بچوں کو پڑھانے کا بندوبست ہو۔ افرادِ خانہ باہم پیار و محبت اور حسن سلوک سے پیش آئیں کہ قرآن پاک نے گھر کی اہم صفت اس کا سکون و اطمینان ہونا ہی بتائی گئی ہے۔لہٰذا عزیزوں،رشتہ داروں اور ہمسایوں سے خوشگوار تعلقات قائم رکھنے کا سلیقہ بھی عورت کو سکھایا جانا چاہئے۔
(7) ابتدائی طبی امداد یا فرسٹ ایڈ اور مریضوں کی تیمار داری وغیرہ
(8) بجلی کی گھریلو استعمال کی اشیا کو ٹھیک کرنے کے لئے ابتدائی واقفیت بھی ضروری ہے۔
(9) عورتوں کو فوجی ٹریننگ بھی اتنی ضرور دی جانی چاہئے کہ وہ اپنا دفاع اور تحفظ کرسکیں۔ ضرورت کے وقت ان کو پریشانی نہ اُٹھانا پڑے ۔

زپھرجوخواتین اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا چاہئیں، ان کے لئے اسلام کی رو سےہر طرح تدریس اور طب کے شعبے موجود ہیں، وہ علم و ادب کے میدان میں بہت آگے بڑھ سکتی ہیں۔ نرسنگ اور ہوم اکنامکس کے کورس حاصل کرسکتی ہیں۔ ایسے کام جو گھریلو حدود کے اندر انجام دیے جاسکتے ہوں ، ان کاعورت کو علم ہونا چاہئے۔ان نصابات میں عورت کی نفسیات، شخصیت اور فطری فرائض کو پیش نظر رکھنا بڑا ضروری ہے مثلاً یہ کہ(1) خواتین کا منصب اور ان کے حقوق و فرائض
(2) دائرہ زوجیت اور فریضہ مادریت کے بارے میں اسلامی حکمت عملی
(3) عہد ِنبوی سے لیکر دورِ حاضر تک خواتین کی دینی، علمی، ادبی، ملی، رفاہی اور تعلیمی و تصنیفی سرگرمیاں
(4) ترقی نسواں اور مساواتِ مرد و زن کے نظریہ کا تنقیدی جائزہ
(5) پردے کے موضوع پر عقلی تجربات اور مشاہدے کی روشنی میں دینی احکام کی حکمت اور مصلحت
(6) مذاہب ِعالم اور اسلامی علوم کا تقابلی مطالعہ اور اسلام کی فوقیت و برتری
غرض قرآن و سنت کا گہرا شعور دینا اورنبی پاک کی سیرتِ طیبہ کو زندگی کا محور و مرکز بنا دینا لازمی ہے۔ایسے ہی خواتین کے مسائل اور موضوعات پر ان کو مہارت ہونی چاہئے۔
پھر جو خواتین اپنے دائرہ کارکے اندر مناسب ملازمت کرنا چاہیں، لازمی ہے کہ وہ پردہ اور حجاب کی شرط کو ملحوظ رکھیں۔ سادگی اور وقار سے اپنے بیرونِ خانہ فرائض انجام دیں۔ مگر یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ عورت کا بہرحال دائرہ کار اس کا گھر، اس کاشوہر، بچے اور دیگر افرادِ خانہ ہیں۔ گھر کے نقصانات کی قیمت پر بیرونِ خانہ ملازمت اسلام کے طے شدہ پروگرام کے خلاف ہے”۔

رسولِ اکرم ﷺ کے تبلیغی مشن میں ہفتہ میں ایک دن صرف خواتین کی تعلیم و تربیت کے لئے مخصوص ہوتا تھا۔ اس دن خواتین آپ کی خدمت میں حاضر ہوتیں اور آپ سے مختلف قسم کے سوالات اور روزمرہ مسائل پوچھتیں۔ نمازِ عید کے بعد آپ ان سے الگ سے خطاب کرتے۔ اُمہات الموٴمنین کو بھی آپ نے حکم دے رکھا تھا کہ وہ مسلم خواتین کو دینی مسائل سے آگاہ کیا کریں۔ پھر آپ نے خواتین کے لئے کتابت یعنی لکھنے کی بھی تاکید فرمائی۔ حضرت شفاء بنت عبداللہ لکھنا جانتی تھیں۔ آپ نے انہیں حکم دیا کہ تم اُمّ المومنین حضرت حفصہ کو بھی لکھنا سکھا دو۔ چنانچہ انہوں نے حضرت حفصہ کو بھی لکھنا سکھا دیا۔ آہستہ آہستہ خواتین میں لکھنے اور پڑھنے کا اہتمام اور ذوق و شوق بہت بڑھ گیا۔ عہد ِنبوی کے بعد خلفاے راشدین کے مبارک دور میں بھی خواتین کی تعلیم و تربیت کی طرف بھرپور توجہ دی گئی۔ حضرت عمر بن خطاب نے اپنی مملکت کے تمام اطراف میں یہ فرمان جاری کردیا تھا : ی خواتین کو سورة النور ضرور سکھاوٴ کہ اس میں خانگی زندگی اور معاشرتی زندگی کے متعلق بے شمار مسائل واَحکام موجود ہیں۔”

سید ابولااعلیٰ مودودی رحمہ ایک جگہ فرماتے ہیں ” ’’اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ انسان ہونے میں مرد اور عورت دونوں مساوی ہیں، تمدن کی تعمیر اور تہذیب کی تاسیس و تشکیل اور انسانیت کی خدمت میں دونوں برابر کے شریک ہیں۔ ہر صالح تمدن کا فرض یہی ہے کہ مردوں کی طرح عورتوں کو بھی اپنی فطری استعداد اور صلاحیت کے مطابق زیادہ سے زیادہ ترقی کرنے کا موقع دے۔ انھیں بھی مردوں کی طرح تمدنی و معاشی حقوق عطا کرے اور انھیں معاشرت میں عزت کا مقام دے،‘‘اس مقصد کے لئے معاشرے کے باصلاحیت افراد بلاتخصیص مرد و عورت کو اپنی صفوں میں شامل کرنے کے لیے مولانا مودودی نے معاشرے کے پڑھے لکھے اور ذہین افراد کو اپنے گرد جمع کیا تھا، کیونکہ ان کی اپنی علمی سطح اتنی بلند تھی کہ وہ قوتِ استدلال سے ان کے ذہنوں کو مطمئن اور متاثر کر سکتے تھے۔ پھر انھوں نے قریب آنے والے افراد کی علمی و اخلاقی تربیت اور نشوونما کرتے ہوئے مستقبل کی قیادت تیار کی۔

خواتین میں ان کی اہلیہ بیگم محمودہ، خواتین کی تربیت کا وسیلہ بنیں اور محترمہ حمیدہ بیگم ،محترمہ نیر بانو، محترمہ اُمِ زبیر سمیت کئی ابتدائی خواتین نے یہ فیض حاصل کیا۔اُس زمانے میں بہت کم خواتین ابتدائی تعلیم سے آگے بڑھ پاتی تھیں۔ ایسے میں حلقہ خواتین کی تاسیسی رکن محترمہ حمیدہ بیگم عام خواتین سے کہیں زیادہ تعلیم یافتہ تھیں۔ انھوں نے 1934 میں فاضل، پھر ایف اے اور 1939ء میں پنجاب یونی ورسٹی سے اعلیٰ پوزیشن کے ساتھ بی اے اور پھر بی ایڈ پاس کیا۔ 1944ء تک تدریسی خدمات انجام دیں۔ نیربانو نے میٹرک کے بعد طبیہ کالج دہلی سے طب کا تین سالہ کورس کیا اور کچھ عرصہ درس و تدریس سے وابستہ رہیں۔ نیر بانو صاحبہ 1944ء میں رکن بنیں اور مولانا محترم سے خط وکتابت کے ذریعے رہنمائی حاصل کرتی رہیں۔ مولانا انھیں ایک ہی کام کی ترغیب دلاتے رہے کہ پڑھیے، پڑھیے اور خوب پڑھیے۔ اُمِ زبیر محض پانچ جماعتیں پڑھی تھیں، مگر جماعت کی ذمہ داریوں اور سرگرمیوں نے انھیں اتنا نکھارا کہ انھوں نے کئی کتب تصنیف کیں۔

قدسی ملک

Leave a Reply

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: