امانت – آمنہ آفاق

”یہ لو پچاس ہزار گن لو پورے ہیں اور ہاں باقی کے 50000 یہ کیس جیتنے کے بعد“
چوھدری خاور نے پانچ پانچ ہزار کے دس نوٹ ارسلان کی میز پر پھینکے اور کرسی کھینچ کر بیٹھ گئے ”ارے سر آپ نے کیوں تکلیف کی ؟ میں خود آپ کے پاس آ جاتا“ نہ جانے پیسوں کی چمک تھی یا چوھدری خاور کی رعب دار شخصیت کا سحر جس نے ارسلان جیسے قابل وکیل کو بھی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا تھا

”بس یہ بتاؤ کہ اب میرے بیٹے کی رہائی کب ہوگی؟ دیکھو میں اس کو زیادہ دن اب جیل میں نہیں رہنے دوں گا کچھ بھی ہو کیسے بھی ہو مجھے میرا بیٹا واپس چاہیے“ چوھدری خاور غرائے
”ارے شاہ زمان صاحب تو جیل میں بھی شہزادوں کی طرح رہ رہے ہیں جناب آپ فکر نہ کریں بس کل یہ آخری پیشی ہمارے ہی حق میں ہو گی “
ارسلان ایڈوکیٹ نے چوہدری صاحب کو اپنے تٸیں تو مطمئن کر دیا مگر وہ جانتے تھے کہ یہ قتل کیس ہے اور اس طرح ایک قاتل مجرم کو رہا کروانا بہت بڑا جرم ہے مگر اب جب رشوت کی لت منہ کو لگ ہی چکی تو ان کا دل بھی سخت ہوگیا اور کیا غلط ہے اور کیاصحیح وہ یکثر بھول چکے
”ہیلو کیا ہوا صالحہ تم روکیوں رہی ہو ؟؟“ ارسلان صاحب نے گھبراتے ہوئے سوال کیا ”ارسلان جلدی سے آ جاٸیں عمیر کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے میں ہوسپٹل سے بات کر رہی ہوں، “
ارسلان صاحب یہ جملہ سنتے ہی تقریبا وہاں سے نکلتے ہوئے بولے” تم پریشان نہ ہو میں آ رہا ہوں ابھی کچھ نہیں ہوگا عمیر کو، عمیر ان کا اکلوتا چشم و چراغ تھا جو بہت دعاؤں کے بعد نوازا گیا تھا یہ عمیر ہی تو تھا جس کے روشن مستقبل کے لئے وہ اتنی دوڑ دھوپ کر رہے تھے اور آج ان کا وہی عمیر زندگی اور موت کی کشمکش میں تھا

”ڈاکٹر صاحب میرا بیٹا ٹھیک تو ہو جائے گا ناں“
انہوں نے عجلت میں نکلتے ہوئے ڈاکٹر سے پوچھا ”دیکھیں ہم کچھ نہیں کہہ سکتے خون کافی بہہ گیا ہے آپ جلدی سے ایک لاکھ کا انتظام کریں “
ڈاکٹر نے خالص پیشہ ورانہ انداز اپنایا ہوا تھا ”پیسوں کا بندوبست ہوجائے گا آپ فکر نہ کریں بس میرے بچے کو بچا لیں وہ گھٹنے ٹیک کر اب زاروقطار رو رہے تھے“ ”دیکھیں زندگی بچانے والا تو صرف اللہ تعالی ہے ہم اپنی پوری کوشش کریں گے آپ بس اللہ سے دعا کریں“ ڈاکٹر نے انہیں سمجھایا اور وہ متفکر ہو کر ادھر ادھر ٹہلنے لگے ”کہاں سے آئیں گے أتنے سارے پیسے“ صالحہ بیگم نے ارسلان کی جانب دیکھتے ہوئے پوچھا ”تم فکر نہ کرو بس دعا کرو ارسلان نے صالحہ بیگم کو تو تسلی دے دی مگر وہ خود کتنے مضطرب تھے وہ وہی جانتے تھے “
”چودھری صاحب میں ارسلان بات کر رہا ہوں وہ دراصل میرے بیٹے کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے اگر آپ مجھے وہ پچاس ہزار روپے ابھی دے دیں تو میں آپ کا مشکور ہوں گا “ ارسلان منمنایا
”مگر وہ تو کام ہونے کے بعد ملنے تھے خاور صاحب غراۓ ”جی شاہ زمان صاحب کو رہا کروانا میری ذمہ داری ہے آپ بس ابھی پیسے دے دیں مجھے ضرورت ہے“ ارسلان صاحب کی آواز بھیگ گئی تھی
”تمہارا بیٹا جٸے یا مرے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا مگر شاہ زمان کا کیس اگر تمہاری وجہ سے کمزور پڑا تو میں تمہیں نہیں چھوڑوں گا “
چوہدری صاحب نے بے رحمی سے فون کاٹ دیا اور ارسلان بالکل ساکت کھڑے تھے کہ صالحہ بیگم کی آواز آٸی لوگوں کے سامنے تو آپ نے جھک کر دیکھ لیا اب آپ اللہ کے آگے بھی جھک جائیں اللہ سے اپنی خطاؤں کی معافی مانگیں وہ میرا رب بے نیاز ہے معاف کردےگا“
” کس منہ سے جاؤں اپنے رب کے پاس اس کے سارے احکامات کی نفی کرتا آیا ہوں اور آج دنیا نے ٹھکرا دیا تو اس کے سجدے میں چلا جاوں“ وہ گڑگڑا کر رونے لگے تو کیا آپ کو نہیں پتہ کہ ایک نہ ایک دن تو اس کے حضور حاضر ہو نا ہی ہے تو وہاں کیامنہ لے کر جائیں گے اگر وہاں دھتکار دیے گئے تو پھر کیا ہو گا کبھی سوچا ہے کہ آج تو مہلت مل گئی توبہ کی لیکن اگر اب بھی اپنے گناہوں کی معافی نہ مانگی تو اس دن اپنا منہ کہاں چھپائیں گے ؟“

صالحہ بیگم جذباتی ہو گیں ”میرا بچہ زندگی موت کی کشمکش میں ہے میں آپ کے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں آپ کے گناہوں کی سزا میرے بچے کو نہیں ملنی چاہئیے“ نہیں!!! نہیں ہو گا ایسا ، میرا اللہ مجھے معاف کرے گا میں نے اسکے بندوں پر ظلم کیا ہے لیکن اب اس کے بندوں پر رحم کرو گا میرے مولا مجھے معاف فرما دے اپنے گناہگار بندے کو معاف فرما دے میری آزمائش ختم کردے میرا بچہ ہوش میں آ جاے میں تجھ سے توبہ کرتا ہوں “ ارسلان روتے روتے سے سجدہ ریز ہوگئے ،آج ان کا دل ہلکا ہو گیا تھا ” اللہ آپ کو آپ کے فیصلے پر قائم رکھے “
صالحہ بیگم نے دل سے دعا دی
” چودھری صاحب یہ آپ کے 50000 ہیں آپ کی امانت تھی سوچا لوٹا دو اور ہاں ! شاہ زمان صاحب کا کیس میں نہیں لڑوں گا اب آپ ان کے لیے کوٸ اور وکیل کر لیں“ ارسلان نے نڈر ہو کر چودھری صاحب کو کہا
” کیابکواس ہے یہ ؟؟ میرے بیٹے کا کیس میں نے تمہیں اس لیے دیا تھا کہ تم ایک کامیاب وکیل ہو اور کامیاب وکیل کبھی پیچھے نہیں ہٹتا اگر اور پیسے چاہیے تو بتاؤ تمہارے بیٹے کا آپریشن بھی میں کرواؤں گا بس میرے بیٹے کو جیل سے رہا کروا دو “ چوہدری صاحب اب بھی اپنی حیثیت کے غرور میں تھے
” معاف کیجئے گا چوہدری صاحب میں بھول گیا تھا کہ وکالت بھی امانت ہے اور اس میں کسی بھی قسم کے خیانت جائز نہیں آپ کے بیٹے نے جرم کیا ہے اس کی سزا تواسے ملے گی اور رہی میرے بیٹے کی بات تو جس رب سے میں نے مدد مانگی ہے میرا توکل ہے کہ میرا مالک میری پکار ضرور سنے گا اور ہم تو ہیں ہی اس رب کی امانت ، جانا تو وہیں ہے آج نہیں تو کل “ ارسلان صاحب نے بڑے سکوں جواب دیا اور وہاں سے چلا گیا

”ہیلو ارسلان“ ارسلان ابھی کمرہ عدالت سے نکلا ہی تھا کہ صالحہ کا فون آگیا کیا ہوا صالحہ عمیر کیسا ہے اب ؟؟”ارسلان عمیر کو ہوش آ گیا ہے ڈاکٹر کہہ رہے ہیں کہ اب وہ خطرہ سے باہر ہے آپ جلدی سے آ جائے “ ”لیکن وہ آپریشن؟“
”جس رب پر آپ کا اور میرا بھروسہ ہے وہ رب اپنے بندوں کو آزماتا ضرور ہے مگر کبھی اکیلا نہیں چھوڑتا ، اس پاک پرردگار نے ہماری اک توبہ پر ہماری سن لی جسکی ہم سالوں سے نافرمانی کرتےآۓ تھے ، ہمارے بیٹے کو ہوش آ گیا ہے اور اب وہ بالکل ٹھیک ہے بس آپ جلدی آ جاٸیں “ صالحہ بیگم کا رواں رواں تشکر سے لبریز تھا اور ارسلان صاحب اپنے رب کی عنایتوں پر ایک بار پھر سے سر بسجود تھے

Leave a Reply

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: