چمن کی قدر کر ناداں – ام عبداللہ

اللہ رب العزت نے ہمیں انسان بنایا، پھر مسلمانوں میں پیدا کیا اور بڑی خوشں نصیبی کہ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمتی ہونے کا شرف بخشا،جسم کی مکمل ساخت قدرت کی بہت بڑی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے۔ جن کے ذریعے ہم چل پھر سکتے ہیں ، کھا پی سکتے ہیں۔—- اور ہاں ! اگر یہ سب آ زادی کہ ساتھ میسر ہے ، تو جی سونے پہ سہاگا ہے۔

رب کریم کا شکر واحسان ہے کہ آ زاد ریاست میں آزادی کے ساتھ سانس لے رہے ہیں۔ مگر افسوس کہ ہمیں ان نعمتوں کی قدر نہیں کیونکہ ہم تو آ زاد پیدا ہوئے ہیں.جیسے ہی دنیا میں آ نکھ کھلی یہ تمام نعمتیں وراثت میں ملیں اس کے لیے ہمیں محنت نہیں کرنی پڑی۔ آزادی کی قدر و قیمت تودنیا کے ان مسلمانوں سے پوچھیں جو کفار کے ظلم و ستم کا شکار ہیں۔جو آزادی کوترس گئے ہیں . آج ہمارے درمیان ایسے بزرگ موجود ہیں جنہوں نے ہندوستان سے آزادی کی خاطر بڑی بڑی قربانیاں دیں۔آج ہندوستان کے مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے حالیہ ظلم و ستم کو دیکھ کر ان کی ماضی کی یادیں تازہ ہوگئی ہونگی۔ آزادئ نعمت کو پاکر ان کے سجدہ شکر طویل ہو گئے ہونگے،
اور شدت سے ان مظلوم مسلمانوں کی آزادی کیلئے دعا کر رہے ہونگے۔اپنے بچوں کو آزادی کی قدر کا احساس دلارہے ہونگے۔
آج کی نوجوان نسل جنہیں اس ملک میں ڈھیروں خامیاں نظر آتی ہیں۔ اپنے وطن کی آزاد فضا کو چھوڑ کر کافروں کی غلامی کو پسند کرتے ہیں۔ جو قرآن کے فرمان کے مطابق مسلمانوں کے کبھی بھی دوست نہیں بن سکتے،جو کہ بھارتی حکومت کی حالیہ بےحسی اور درندگی مسلمانوں پر سے ثابت ہو چکی ہے۔ دوستو ،آج مسلمانوں پر پوری دنیا کے یہود وکفار بھوکے شیروں کی طرح جھپٹ پڑے ہیں۔بھارتی مسلمان آج اپنے ہی ملک میں قید و بند کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ان پر ڈھائے گئے ظلم و ستم کی کچھ وڈیوز نظروں سے گزری دل خون کے آ نسورودیا، انہیں اپنے ہی وطن کی شہریت سے محروم کر دیا گیا کیونکہ انکا قصور صرف اتنا ہے کہ وہ مسلمان ہیں۔ان مظلوموں کی بے بسی دیکھ کراپنی آ زادی کی قدر کا احساس بڑی شدت سے ہوا۔ کس طرح ان کوان کے حلیہ سے شناخت کرکے راہ چلتےہوئے،سفر کرتے گاڑیوں سے زبردستی گھسیٹتے ہوئے بھارتی پولیس اپنی حراست میں لے جارہی ہیں راہ چلتے مسلمان پر لاٹھی چارج کی جارہی ہیں۔

گھروں میں زبردستی گھس کر مسلمانوں کو چن چن کر جیلوں میں ڈال دیا جارہا ہے،پیچھے ماں،بہنیں،بیوی بچے روتے رہ جاتے ہیں۔گھر تو گھر ان ظالموں نےکالج اور یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم مسلمان طلباء وطالبات کا بھی جینا مشکل کر دیا ہے۔ان پر بھی لاٹھی چارج کی جارہی ہے، آنسو گیس چھوڑی جارہی ہے۔ کل تک جو آزاد تھے آج ان سے آزادی چھین لی گئی۔ وہاں انہیں صرف اللّٰہ کی ذاتِ مبارکہ کا ہی سہارا ہے اور وہ ا نکی مدد ضرورکرےگا۔ ہم آ زاد ہیں اور یہ آزادی ہمارے لئے بڑی نعمت ہے،اکثر اپنے ہم وطنوں کو ناشکری کرتے سنا ہے کہ یہ کیسا ملک ہےجہاں سہولیات کی کمی ہے، کو ئی ڈسپلن نہیں، کوئ قانون و انصاف نہیں ایسی اور بہت سی باتیں جو کافی حدتک درست بھی ہےمگر، کہی نہ کہی حکومت کے ساتھ ساتھ ان حالات کے ذمہ دار ہم بھی ہیں۔ ہم ہی وہ لوگ ہیں، جو آزاد ہونے کے باوجود صحیح وقت پر صحیح فیصلہ نہ کرتے ہوئے ،نا اہل لوگوں کو ملک کی باگ ڈور سونپ کر کوستے پیارے وطن کو ہیں .
میرے ہم وطنوں ! وطن کی خوش حالی اور دین کی سربلندی کے لئے ہمیں مل کر کوشش کرنی چاہیئے۔آزادی ایک بڑی نعمت ہے،یہ آزادی بڑی قربانیاں دےکر حاصل کی گئی ہے۔آئیے ہم اس آزادی کو اپنی بھرپور صلاحیتوں کے ذریعے ملک و قوم کی بہترین و مظبوط تعمیر کریں۔ تاکہ کوئی دین اور ملک دشمن مسلمانوں اور وطن عزیز کو میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہ کرسکے ۔
مسلم امہ زندہ آ باد پاکستان پائندہ باد (آ مین)

Share:

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on pinterest
Share on linkedin
Share on email
Share on telegram
Share on skype

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Related Posts

error

Enjoy this blog? Please spread the word :)