ایک‌ خط‌ قائد‌ کے‌ نام – ماہین‌ خان

محترم سپہ سالار ،بانی پاکستان !

مجھے یقین ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے – آپ کو معلوم ہے کہ آپ کے پاکستان کے کیا حال ہیں؟ وہ بالکل بھی خیریت سے نہیں ۔۔۔۔۔۔میں بہت افسردہ ہوں کہ یہ سال بھی ایسے ہی گزر جائے گا ۔ کوئی حاصل حصول نہیں ہوا قائد۔۔۔ اس سال وہ کچھ ہوا جو ناقابل فہم ہے اور ایسے ہی کئی واقعات ہر سال ہماری نظر سے گزرتے ہیں جسے انسانیت کا لبادہ نہیں اوڑھایا جا سکتا !
قائد ، آپ نے یہ ملک لا الہ الا اللہ کے نام پر، اس دین کی سربلندی کے لئے حاصل کیا تھا نا۔۔۔۔۔ تاکہ لوگ یہاں اس واحدہ لا شریک کی عبادت آرام سے کرسکیں اپنے دین پر عمل پیرا ہو سکیں لیکن قائد! آپ کے پاکستان کا معاشرہ لبرل ہوتا جارہا ہے یہاں لوگ مغربی طرز کو اپنانے میں خوشی محسوس کرتے ہیں اور اپنے خوبصورت اقدار کو چھوڑ رہے ہیں ۔ قائد ہماری حکومت غیر اسلامی رسومات کو خوشی سے ادا کرتی ہے ۔ یہاں نوجوان ان کے ساتھ کانسرٹز اٹینڈ کر کے ملک کا نام روشن کررہے ہیں ۔۔۔

قائد صرف اس پاک وطن کی خاطر کتنے لوگوں نے جانوں کا نذرانہ پیش کیاتھا، کئی خاندان لٹے تھے، کتنے لوگ بے گھر ہوئے تھے، صرف اس وطن کی محبت میں ، لیکن آج ہم وطن سے محبت کے نام پر ایک دو ملی نغمے لگا کے فخر محسوس کرتے ہیں ۔۔۔۔۔ تقسیم کے وقت کتنی ہی بہنوں کی عزتیں لٹی تھیں معلوم ہے آپ کو یہ سب اب آپ کے پاکستان میں بھی ہورہا ہے ۔ یہاں بھی اب درندے کسی بھی معصوم کو نہیں چھوڑتے۔۔۔۔
آپ کو یاد ہے نا قائد!
کیسے میرا پیارا پاکستان وجود میں آیا تھا کیسے اس پاکستان نامی پودے کی آبیاری مجاہدوں کے لہو کی گئی تھی اور اس کو پروان چڑھایا تھا ۔۔ لیکن قائد آپ کی یہ قوم سب بھول چکی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔قائد اب یہاں کوئی ایسا طالب علم نہیں ملے گا جو چودھری رحمت علی بنے۔۔۔۔۔میں شرمندہ ہوں قائد، آپ کو یہ بتاتے ہوئے کہ جس ملک کے طلب علموں سے آپ کو کتنی امیدیں تھیں کہ وہ اپنے وطن کی تعمیر میں خاص کردار اداکریں گےجن کے لئے آپ نے علم کو تلوار کہا۔ وہ اب کسی اور ہی کاموں میں اپنا وقت برباد کر رہے ہیں ۔

قائداعظم! اب اسلامیہ کالج سے ،وہ ہر اول دستہ نہیں نکلتاجس نے آپ کے ساتھ پاکستان کو حاصل کرنے کے لئے ان گنت کوشش کی تھی ،جس نے ہندو سورماوں کے خلاف تحریکیں چلائیں تھیں اور نعرے لگائے تھے “پاکستان زندہ باد”کے ۔۔۔۔۔قائد اب پاکستان کی کلجز اور یونیورسٹیز سے” انقلاب اور ایشیا سرخ ہے “کے نعرے سننے میں آتے ہیں ۔آج پاکستان کا کوئی بھی پیشہ ور فرد اپنے پیشے سے مخلص نہیں ہے قائد!آپ کو پتہ ہے اس ملک کے جوان سڑک پر آوارہ گردی کرتےہوئے جان سے جاتے ہیں ۔ جن کی توجہ پڑھائی پہ کم اور بائیک خریدنے پہ زیادہ ہوتی ہے۔
ہمارے قائد!اب ہمارے میڈیا اور ٹی وی پر ہر وقت کسی افسوسناک خبر کی بلیٹن ہی رہتی ہیں لیکن اب ہم ان حالات کے عادی ہو چکے ہیں قائد ہم خود ہی اپنا مستقبل برباد کرر ہے ہیں۔

لیکن قائد! مجھے اب بھی کچھ چھوٹی سی امید ہے اپنے وطن کے لوگوں سے، کیونکہ اسی ملک سے عرفہ کریم نکلی ،اسی ملک سے دنیا کے بہتریں کھلاڑی نکلے، اسی ملک سے بہترین پڑھنے والے نکلے اوراسی ملک سے حسن صدیقی بھی نکلا اسی ملک کے طلبہ و طالبات ہسپتالوں میں کینسر، فری کڈنی ٹرانسپلانٹ کی سہولیات فراہم کررہے ہیں ۔۔۔۔۔۔ اسی ملک کے جوان پہاڑوں کی برفباری پر اپنی جانیں دیتے ہیں اور آپ کے پیارے پاکستان کا نام روشن کررہے ہیں تو قائدمیں اسی امید کع خاطر میں لاتے ہوئے ،آخر میں میں یہ کہوں گی کہ

نہیں ہےنا امید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے——— زرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی!

Leave a Reply

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: