جیسنڈا آیرڈن کون ہیں؟ بریرہ صدیقی

ستمبر ۲۰۱۸ میں وزیراعظم نیوزی لینڈ جیسنڈا آرڈن کا، جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اپنی تین ماہ کی بچی Neve سمیت شرکت ان سے اولین تعارف کا سبب بنا۔ اقوام متحدہ کی تاریخ میں بچے سمیت شرکت پہلا واقعہ تھا جس نے عالمی میڈیا کی توجہ اپنی طرف مبذول کروائی۔ جیسنڈا آرڈن کے مطابق بطور ماں اپنی ذمہ داری ادا کرنا ان کے نزدیک اتنا ہی اہم ہے جتنا بطور وزیراعظم امور سلطنت کو چلانا۔ امریکہ تک کے اس سفر میں بچی کے والد کو ہمراہ رکھا اور ان کے اخراجات اپنی جیب سے ادا کیے کہ والد کی اس سفر میں ذمہ داری caretaker کے طور پر ہے جس کی گورنمنٹ نے رقم مختص نہیں کی۔ یوں ایک کفایت شعار، ذہین ، جراتمند اور بااعتماد ہونے کے ساتھ ساتھ انہوں نے ایک نرم دل اور مشفق لیڈر کی حیثیت سے اپنی پہچان بنائی۔

نیوزی لینڈ کے حالیہ سانحے میں ان کا کردار ان تمام خوبیوں کے مرقع سمیت سامنے آیا ہے۔ ان کی قیادت میں ، بحیثیت قوم نیوزی لینڈ کی عوام نے اخلاقی برتری،یکجہتی اور آداب انسانیت کی قابل رشک مثال قائم کی ہے۔ دو گھنٹے کے اندر مجرم کی گرفتاری،بارہ گھنٹے میں پیشی اور فرد جرم عائد، چودہ گھنٹوں میں اسلحے کے قانون میں تبدیلی اور اس کا نفاذ جیسے اقدامات، بہترین حکومتی کارکردگی کا نمونہ ہیں ۔ ہر سال brain drain کے نتیجے میں پاکستان قابل لوگوں سے محروم ہوتا چلا آرہا ہے۔ سانحے میں شہید ہونے والے زیادہ تر لوگ جن کی عمریں تیس سے چالیس برس کی تھیں ، چارٹرڈاکاونٹنٹ ، کیمیکل انجینئر ، ڈاکٹر اور پروفیسر تھے ۔ جو اپنے پیچھے ایسا خلا چھوڑ گئے ہیں جو کبھ پر نہ ہوسکے گا ۔ نہ صرف پاکستان بلکہ دیگر تمام ممالک سے تعلق رکھنے والے شہداء کی اکثریت اعلی تعلیم یافتہ اور اپنے شعبہ میں ماہر گردانی جاتی تھی۔ محترم نعیم شہید کی بیوہ، عنبرین نعیم کسی اسکرپٹ اور لکھی تقریر کے بغیر، شوہر اور جواں سال بیٹے کی شہادت پر جس صبر اور اطمینان سے فی البدیہہ گفتگو کرتی نظر آتی ہیں، گواہی دیتا ہے کہ رب نے اس خاندان کو کس لیے اس عظیم منصب کے لیے چنا ہوگا۔ سردار فیصل عباس ، سانحے کے ایک اور ہیرو ہیں یہ ابھی ٹوائلٹ میں موجود تھے جب انھوں نے باہر لگاتار فائرنگ اور چیخ و پکار کی آوازیں سنی۔

صورتحال کا اندازہ لگاکر اپنے حواسوں پر قابو پاتے ہوئے نہ صرف ایک طرف اپنے پیچھے آنے والے آٹھ ساتھیوں کو ” shooting in mosque, don’t come” کا مختصر پیغام کاپی پیسٹ کیا بلکہ ساتھ ساتھ پولیس ایمر جنسی کو کال کی کوشش جاری رکھی۔ ان ہی کی کال پر قریبی دیہات کے پولیس اہلکار فوری جائے وقوعہ پر پہنچے۔
سانحے میں ملوث مجرم کے بارے میں انکشاف قابل غور ہے۔ The Herald سے کی جانے والی مختصر گفتگو میں خاندان والوں نے یہ ذکر کرنا ضروری خیال کیا ہے کہ مجرم بچپن سے متشدد ویڈیو گیمز کا رسیا اور تنہائی میں کئی کئی گھنٹے اس شوق کو پورا کرنے میں گزارتا تھا ۔ کسے سوچا نہ ہوگا کہ نیوزی لینڈ کی پارلیمنٹ کبھی تلاوت کی آواز سے گونجے گی، پوری قوم کی سماعتوں کو اذان کے الفاظ سننا نصیب ہوں گے۔ اسکارف کے معاملہ میں بے حد متعصب مغرب آج اپنی خواتین کے سروں کو ڈھانپے امت مسلمہ کا غمخوار بنا ہوگا۔اللہ رب العالمین سے صدق دل سے دعا ہےکانوں کے راستے سیدھا دلوں میں جاگزیں ہونے والے اپنے معجزانہ کلام کی بدولت دلوں کی دنیا بدل دے اور سینوں میں ایمان کی شمعیں ہمیشہ کے لیے روشن کر دے۔ شہدا کے خون میں ڈوبی سرزمین نیوزی لینڈ سے جمعہ کے مبارک دن میں جنت کی مہک پھوٹنے کاگمان ہونے لگا ہے۔

Share:

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on pinterest
Share on linkedin
Share on email
Share on telegram
Share on skype

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Related Posts

error

Enjoy this blog? Please spread the word :)