” ذہنی مریض ” محمد دلشاد

جن لوگوں نے نیویارک کے ٹاورز سے جہاز ٹکراۓ تھے اگر وہ بھی ذہنی مریض ڈیکلیئر ہوجاتے تو افغانستان میں لاکھوں جانیں بچ جاتیں لیکن کیا کیا جاۓ بش جونیئر نے جلد بازی میں کروسیڈ وار ( صلیبی جنگ ) شروع کردی تھی. اگر صدام حسین ذہنی مریض قرار دے دیا جاتا تو عراق کی بربادی کے مناظر ہم نہ دیکھتے ۔ اور برٹش وزیراعظم ٹونی بلیئر کو سرِ بازار غلطی کا اعتراف نہ کرنا پڑتا ، ٹونی بلیئر کے سوری کرتے کرتے لاکھوں عراقی زندگی کی بازی ھار چکے تھے ۔

بشار الاسد کو اگر امریکہ ذہنی مریض قرار دے کر اپنے کام سے کام رکھتا تو آج شام کے باغات نہ اجڑتے اور گلی محلوں سڑکوں پر پڑی لاکھوں لاوارث لاشوں پر کوئی نوحہ کناں نہ ہوتا ۔ معمر قذافی کو سبق سکھانے کی بجاۓ اگر ذہنی مریض قرار دے کر اسکے حال پر چھوڑ دیا جاتا اور امریکی کراۓ کے غنڈوں داعش کی خدمات حاصل نہ کی جاتیں تو خوشحال لیبیا آج خانہ جنگی کے آگ میں نہ جھلس رہا ہوتا ۔ ہمارے ممالک اُجڑتے گئے اور ہمارے ہی کندھوں پر دہشتگردی کے نت نئے تمغے سجتے گئے ۔ ہم سے پہلے سات ممالک نے اعلانیہ ایٹم بم کے تجربات کیے کسی کے بم کو ہم نے یہودی بم یا عیسائی بم یا ہندو بم نہیں کہا اور جب ایک اسلامی ملک نے اپنے دفاع کے لیے ایٹم بم بنانا شروع ہی کیا تو آپ نے اسلامی بم کا راگ الاپنا شروع کر دیا۔۔۔  آپ نے ہمارے لاکھوں لوگوں کو مارا ، ہمارے طرابلس ، دمشق اور بغداد کو تباہ کر دیا لیکن آپ پھر بھی امن کے علمبردار اور انصاف کے مشعل بردار کہلاۓ جبکہ ہم ٹھہرے اسلامی دہشت گرد ۔ ٹھیک ہے ، آپ ہمیں ” جرم ضعیفی “ کا خوب سبق سکھایے ، ہم سبق سیکھ رہے ہیں ۔ بس گزارش اتنی سی ہے کہ ہمارے والوں کو بھی ذہنی مریض قرار دے دیا کریں انہیں اسلام سے نہ جوڑا کریں ۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: