تحفظ حقوق نسواں! پُرفریب نعرہ ایک چال – نگہت فرمان

شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں مری بات!

8 مارچ، عالمی یوم خواتین کے قریب آتے ہی مغربی سرمایہ دارانہ نظام کی پروردہ اور ان کے گھنائونے ناپاک منصوبے کو حقوق نسواں کے پُرفریب نعروں کی آڑ میں بھولی بھالی اور معصوم سادہ لوح خواتین کو نجات کی راہ بتانے اور انہیں عملی جامہ پہنانے کے لیے مختلف نام نہاد این جی اوز سرگرم ہوجاتی ہیں۔ اس کے لیے ریلیوں، سیمینارز اور کانفرنسیز کا انعقاد ہوتا ہے۔ ایک طرف وہ چند خواتین ہیں جو فیمینزم کے نام پر بے حیائی کی حامی اور مادر پدر آزادی کی طلب گار ہیں، اس بات سے صرف نظر کہ پاکستانی خواتین کی اکثریت خواہ شہری ہوں یا دیہاتی مرد کے بغیر خود کو نامکمل سمجھتی ہیں اور زندگی بھر اپنے والد، بھائی و شوہر کے کام کسی ستائش و تمنا کے بغیر بلا جبر و اکراہ بہ خوشی کرتی اور اسے اپنی سعادت و ذمے داری سمجھتی ہیں۔

تحفظ حقوق نسواں کی نام نہاد پرچارک جو اپنی ذمے داریوں سے راہ فرار اختیار کرتی ہیں اور یہ ماننے کو تیار نہیں کہ اسلام نے خواتین کو بھی وہی حقوق دیے ہیں جو مردوں کو حاصل ہیں۔ ان کی اتنی بات تو درست ہے کہ وہ حقوق ہمارے معاشرے میں خواتین کو نہیں ملے۔ لیکن اس بار جو کچھ ہوا وہ قابل مذمت تو ہے ہی اور قابل تشویش ہونے کے ساتھ خطرے کا الارم بھی۔ لیکن ہمیں رد عمل سے زیادہ اس کو سمجھ کر ان مسائل کے حل کی طرف توجہ دینا چاہیے۔ ایک وقت تھا جب مغربی تہذیب خاندانی سمجھی جاتی تھی، ان کی اپنی تہذیب و روایات تھیں اور ان کے ہاں بھی مشترکہ خاندانی نظام تھا۔ پھر سرمایہ دارانہ نظام آیا جس نے سب سے زیادہ وہاں کے خاندانی نظام کو ضرب لگائی اور عورت کو پُرفریب نعروں کے پیچھے لگا کر اسے ایک شے، پروڈکٹ، اشتہار اور کھلونا بنا کر رکھ دیا گیا۔ نام نہاد حقوق اور آزادی کے نام پر اس کا بدترین استحصال کیا گیا اور آج وہاں اس کی اپنی کوئی وقعت نہیں۔ نظام سرمایہ داری کا کرشمہ ہے کہ اب وہاں نوجوان جوڑے شادی کے بغیر ساتھ رہتے ہیں اور غیر فطری جنسی تعلقات کو قانونی و آئینی تحفظ حاصل ہے جس کی وجہ سے ان کے اپنے مذہبی پیشوا بھی پریشان ہیں۔ جس نظام نے مسیحیوں اور یہودیوں کے خاندان کے ادارے کو پُرکشش اور پُرفریب نعروں کے ذریعے تباہ و برباد کردیا، اب وہی اب ہم پر بھی حملہ آور ہیں۔

ہمیں ردعمل کے بہ جائے زیادہ مثبت عمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور کسی بھی طرح سے جذباتی ردعمل کے بہ جائے ان کے اسباب پر غور کرنے کے ساتھ ان کے تدارک و انسداد کا حکمت بھری راہ اختیار کرنا چاہیے۔ ہمیں کسی خیالی جنت میں رہنے کے بہ جائے پاکستان میں عورت کو ان حقوق دلانے کی بھرپور کوشش کرنا چاہیے جو اسلام نے انہیں دیے ہیں۔ اس حوالے سے اسلامی حقوق کے تحفظ کی این جی اوز بھی اپنا کام بھی کر رہی ہیں لیکن ان کا تعارف نہ ہونے کے برابر ہے، اس کی وجہ سے ان کے اچھے کام نمایاں نہیں ہوپاتے اور متاثرہ خواتین کی ان تک رسائی بھی دشوار ہے، ہمیں ان دونوں امور پر اپنی توجہ مرکوز رکھنا چاہیے۔ ہمیں کھلے ذہن و دل سے اعتراف کرنا چاہیے کہ ہم کسی بھی لحاظ سے مثالی افراد یا معاشرہ نہیں ہیں۔ اپنی غلطیوں اور کم زوریوں کا اعتراف ہی ان کو سدھارنے کا راستہ دیتا ہے۔ مذہبی تنظیمیں بالخصوص جو خواتین کے لیے کام کر رہی ہیں انہیں سنجیدگی سے اس بابت سوچنا چاہیے اور منظم انداز میں تحریک چلا کر لوگوں کے رویوں سے لے کر قانون سازی کرانے تک اس کی کوشش کرنا چاہیے۔ اگر ہم عورتوں کو پاکستان میں وہ حقوق دلانے میں کام یاب ہوجاتے ہیں جو اسلام نے انہیں دیے ہیں تو ان سب کی دراز زبانیں خود ہی خاموش ہوجائیں گی اور ان کی گھنائونی سازشیں ناکام و نامراد ہوجانے کے ساتھ ہم اپنے خاندانی نظام کا بہتر تحفظ کر سکیں گے۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: