جمہوریت کہاں ہے؟؟؟ شرجیل قریشی


الیکشن کمیشن آف پاکستان میں 250 سے زائد سیاسی جماعتیں رجسٹرڈ ہیں تاہم چند دن قبل بڑی تعداد میں سیاسی جماعتوں کی رجسٹریشن منسوخ ہوئی۔ جس کے بعد اس وقت ملک میں رجسٹرڈ سیاسی و مذہبی جماعتوں کی کل تعداد 122 ہے۔ یہ تمام جماعتیں عوام کے ووٹ کے ذریعے اقتدار میں آکر اپنے وعدوں کو وفا کرنے پر یقین رکھتی ہیں۔ یہ تمام جماعتیں ملک میں جمہوری نظام حکومت چاہتی ہیں۔ قوانین کے مطابق یہ تمام جماعتیں اس بات کی پابند ہیں کہ وہ اپنے مالی حسابات، اثاثے، انٹرا پارٹی الیکشن کی تفصیلات، منشور اور پارٹی دستور کو الیکشن کمیشن میں وقت پر پیشن کرتی رہیں گی۔
تاہم انتہائی افسوس کی بات ہے کہ جمہوریت پر یقین
رکھنے والی پارٹیاں ملک میں تو جمہوری نظام چاہتی ہیں۔ مگر اپنی پارٹیوں میں فرد واحد یا ایک خاندان کی حکمرانی مسلط کررکھی ہے ۔

کوئی جیالہ چاہیے کتنا قابل ہو کبھی پیپلز پارٹی کا قائد بننے کا تصور نہیں کرسکتا، ایسا ہی حال شریف خاندان کی ن لیگ، ولی خاندان کی اے این پی، عمران خان کی تحریک انصاف، مفتی محمود کی جے یو آئی کا ہے ۔ ان پارٹیوں کے کارکنوں کے نصیب میں ساری زندگی ان لیڈروں اور پھر ان کی اولادوں کےلیے جیوے جیوے اور آوے آوے کی نعرے لگانا لکھا ہے ۔ لیکن غیر جمہوری روایات کے اسی ماحول میں ایک جماعت موجود ہے۔ جہاں کا کارکن اتنا بااختیار ہے کہ اپنا قائد خود منتخب کرسکتا ہے۔ پاکستان کی واحد حقیقی جمہوری جماعت، جماعت اسلامی میں امیر پاکستان کے انتخابات کےلیے پولنگ کا مقررہ وقت 05 مارچ کو ختم ہوگیا۔ جماعت اسلامی کے دفاتر میں پڑے بلیٹ باکس ملک کی بڑی بڑی جمہوریت کی چیمپیئن سیاسی و مذہبی جماعتوں کے کارکنوں کے لیے سوچنے کا سامان ہے۔ بھٹو خاندان کی پیپلز پارٹی، شریف خاندان کی ن لیگ، ولی خاندان اے این پی، مفتی محمود خاندان کی جے یو آئی، عمران خان کی تحریک انصاف عرض ملک کی ہر سیاسی و مذہبی جماعت کے کسی رکن میں اتنی جرات ہے کہ وہ خود اپنے قائد کا انتخاب کرسکے ؟ یہ کیسا دوہرا معیار ہے ملک کےلیے جمہوریت اور پارٹیوں میں آمریت قائم ہے۔
اس کے ساتھ کچھ اور بھی مزے کی بات آپ کو بتاتے ہیں کہ پورے ملک میں انتخابات ہوئے۔ کیا کسی نے سنا کسی نے دوسرے کے خلاف بیان دیا ہو یا اپنے لیے کمپین چلائی ہو؟؟؟

اس کی وجہ جماعت اسلامی کا دستور کہتا ہے کہ: امیر (خواہ وہ مرکزی ہو یا ماتحت) کے انتخاب و تقرر میں حسب ذیل اوصاف کو مد نظر رکھاجائے:
1۔ یہ کہ نہ وہ امارت کا خود امیدوار ہو اور نہ اس سے کوئی ایسی بات ظہور میں آئی ہوجو یہ پتہ دیتی ہو کہ وہ امارت کاخود خواہشمند یا اس کے لیے کوشاں ہے۔
2۔ یہ کہ ارکانِ جماعت اس کے تقویٰ، علم کتاب و سنت، امانت و دیانت، دینی بصیرت، تحریکِ اسلامی کے فہم، اصابتِ رائے، تدبر، قوتِ فیصلہ، راہِ خدا میں ثبات و استقامت اور نظمِ جماعت کوچلانے کی اہلیت پراعتماد رکھتے ہوں۔۔۔۔۔ مجھے یہ جان کر مزید حیرت ہوئی ایسا بھی نہیں کہ ایک امیر کے انتقال کرجانے کے بعد دوسرا امیر آتا ہو۔ بانی جماعت اسلامی مولانا مودودیؒ زندہ تھے میاں طفیل امیر بنے، میاں طفیل کے سامنے قاضی حسین احمد اور قاضی صاحب کی زندگی میں منور حسن امیر بنے اور منور حسن صاحب کی موجودگی میں سراج الحق امیر ہیں۔سراج الحق صاحب کی مدت امارت پوری ہوئی اب نئے امیر کے انتخاب کا مرحلہ آگیا۔ کتنی حیرت کی بات ہے جہاں تمام سیاسی پارٹیاں فیملی لیمیٹڈ ہوں وہاں ایک پارٹی اس سب سے پاک ہو۔ پاکستان کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کے کارکنوں کو اپنی قیادت کو جماعت اسلامی کی طرح پارٹیوں کے اندر جمہوریت لانے پر مجبور کرنا چاہیے۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: