ہر اس بیٹے کے نا م جسے ماں یاد ہے – منوّر رانا – حصہ دوئم

عمر بھر دھوپ میں پیڑ جلتا رہا
زخم کیسا بھی ہو کُریدئیے تو اچھا لگتا ہے ۔ ماضی کیسا بھی رہا ہو سوچئے تو مزہ آتا ہے ۔ بچپن جیسا بھی گزرا ہو راج سنگھاسن سے اچھا ہوتا ہے ۔ مجھے نہیں معلوم زمینداری کیسی ہوتی ہے کیونکہ میں نے بارہا ماں کو بھوکے پیٹ سوتے دیکھا ہے ۔ مجھے کیا پتہ زمیندار کیسے ہوتے ہیں، کیونکہ میں نے مدتوں اپنے ابو کے ہاتھوں میں ٹرک کا اسٹئیرنگ دیکھا ہے ۔ میں نے بہت سے خواب دیکھے ہیں ۔ ممکن ہے میرے ابو نے بھی خواب دیکھے ہوں کیونکہ ایک تھکا ماندا ٹرک ڈرائیور بہت بے خبری کی نیند سوتا ہے ۔ لیکن جب مجھے معلوم ہے میری ماں نے کبھی خواب نہیں دیکھا تھا کیونکہ خواب تو وہ آنکھیں ہمیشہ گھر کی دہلیز پر اور جسم جانماز پر رکھا دیکھا ہے اور جوانی اس ٹرک ڈرائیور کے انتظار میں قطرہ قطرہ پگھلتے دیکھی ہے جو میرے ابو بھی تھے اور امی کے سر کا انچل بھی۔ رائے بریلی سے میرا نانہال صرف بیس میل کے فاصلے پر تھا لیکن غربت فاصلے بڑھا دیتی ہے، لفافے اور پوسٹ کارڈ کو چھوٹا کر دیتی ہے ۔

غربت میں رشتے دار بھی دور کا چراغ معلوم ہوتے ہیں ۔ غربت میں وہ نشہ ہے جس میں خدا بھی رشتہ دار معلوم ہوتا ہے۔ ممکن ہے خدا آسمان پر بہت بڑے گھر میں رہتا ہو لیکن زمین پر وہ صرف غریب آدمی کے دل میں رہتا ہے۔ غربت میں کروندے اور بیر کے کانٹے انگلیوں سے خون نکال کر اس کی جانچ کر لیتے ہیں ۔ خون کی بوندوں کے جانچنے اور پرکھنے کے لیے کسی لیبوریٹری میں بھیجنے کی ضرورت نہیں پڑتی ، غربت کے وہ دن بھی کیا ہوتے ہیں جب شو کیس میں رکھی ہوئی گڑیا کو دیکھنے کے لیے غریبی احتیاطاً ہاتھ منہ دھو لیتی ہے ۔ ایک دن میرے ابو گھر آئے ۔ میری امی نانی کے گھر گئی ہوئی تھیں ۔ میرے دو چھوٹے بھائی بھی امی کے ساتھ چلے گئے تھے (ایک چھوٹا بھائی یحیٰ رانا تقریباً بارہ برس پہلے عین نوجوانی کے عالم میں جبپ کے حادثے میں مالک حقیقی سے جا ملا) ۔ میں گھر پر اپنی دادی کے پاس تھا ۔ کیونکہ دادی مجھے بہت چاہتی تھیں ۔ پتہ نہیں لڑکوں سے دادی کو اور لڑکیوں سے نانی کو اتنی محبت کیوں ہوتی ہے ۔

شاید نانی دختر زادی میں اپنی بیٹی تلاش کر لیتی ہے اور دادی پوتے میں اپنا بیٹا ڈھونڈ لیتی ہے ۔ ابو مجھے ٹرک پر بٹھا کر نانہال کی طرف چل دیے ۔ جہاں تک ٹرک جاسکتا تھا ابو ٹرک چلا کر لے گئے پھر ایک جگہ ٹرک روک دیا اور مجھے ساتھ لے کر پیدل ہی گاؤں کی طرف چل دیے ۔ غالباً دو ڈھائی میل کا فاصلہ رہا ہو گا۔ پگڈنڈیوں پر چلنے کی عادت نہ ہونے سے مجھے یوں بھی تکلیف ہو رہی تھی ۔ پھر سفر بھی لمبا تھا ، چلتے چلتے میں ابو سے بہت پیچھے ہو جاتا ۔ وہ مڑ کر دیکھتے تو میں پھر دوڑ کر ان کے پاس پہنچ جاتا۔ بچپن میں باپ بھی خضر علیہ السلام معلوم ہوتا ہے۔ قدرت یہ احساس صرف بچپن کو ہی عطا کرتی ہے ۔ اچانک ابو ایک جگہ اکڑوں بیٹھ گئے اور بولے تم میرے کندھے پر بیٹھ جاؤ ، میں نے کہا نہیں ابو جان ! آپ تھک جائیں گے ۔ میں آپ کے ساتھ چلوں گا آپ کے کندھے پر نہیں بیٹھوں گا ۔ ابو نے میری طرف مسکرا کر دیکھا اور بولے تم بوجھ نہیں ہو میرے بیٹے ہو، میں تھکوں گا نہیں ۔

یہ کہہ کر انہوں نے زبردستی مجھے اپنے کندھے پر بٹھا لیا اور کہنے لگے ٹھیک ہے میں تمہیں اپنے کندھے پر بٹھا کر چل رہا ہوں ۔ جب تم بڑے ہونا تو مجھے کار لا کر دینا ۔ اس وقت میری عمر مشکل سے سات آٹھ برس رہی ہو گی ۔ بچپن خوشبو کی طرح ہوتا ہے بہت دیر نہیں ٹھہر تا یا بچپن کو پر لگ جاتے ہیں ۔ دن مہینوں میں اور مہینے برسوں میں تبدیل ہوتے رہے ۔ کچھ ہی برسوں بعد سارا خاندان پاکستان چلا گیا ۔ جیسے طاعون میں گاؤں صاف ہو جاتے ہیں ، جیسے جنگل میں آگ لگ جاتی ہے، جیسے رنگت کو دھوپ کھا جاتی ہے جیسے کردار کو شہر کھا جاتے ہیں ، جیسے ایمان کو ہوس نگل لیتی ہے ، جیسے حویلیوں کو انا کھا جاتی ہے، جیسے آئینے کو ویرانی کھا لیتی ہے۔ شاید آئینہ چہرہ دیکھنے کے لیے ہوتا ہے ۔ اور ڈھال میدان میں تنہا چھوڑ کر جاتے ہوئے لشکر کو دیکھنے کے لیے ہوتی ہے۔ سیاست کی بساط پر دنیا کی سب سے ذہین قوم مہرا بن کر رہ گئی ۔ تقسیم کے کھیل میں پاکستان جیت گیا مگر مسلمان ہار گئے ۔

کبھی کبھی سوچتا ہوں یہ کیسی شکست تھی جس کا احساس باون برس گزر جانے کے بعد بھی باقی ہے ۔ یہ کیسا زخم تھا جس کی کسک ہر مرنے والے کے چہرے سے اتر کر پیدا ہونے والے کے چہرے پر چپک جاتی ہے۔ یہ کیسی ندامت تھی جسے تین نسلوں کے آنسو بھی نہیں دھو سکے ۔ یہ کیسی تقسیم تھی جس کا حصہ آج تک نہیں لگ سکا ۔ یہ کیسا فیصلہ تھا جس نے تاج محل کے دو ٹکڑے کر دئے ، کشمیر کے دو حصے ہو گئے ، جامع مسجد آدھی ہو گئی ۔ غزل نے مرثیے کا روپ دھار لیا ، اردو زبان سرحد کی سولی پر لٹکا دی گئی اور فرار کو ہجرت کا لقب دے دیا گیا ۔ ایک ٹوٹے سے گھر میں بارشوں میں ٹپکتے ہوئے چھپر کے نیچے ابو نے اپنی گیلی مٹی جیسے بچوں کو اس سیدھی سادی پردہ دار خاتون کے سپرد کر دیا جو میری ماں تھی اور خود اللہ کا نام لے کر اپنے بازوؤں کے بھروسے روزی کی تلاش میں شب و روز شیر شاہ سوری کی بنوائی سڑک کے پیچ و خم سے کھیلنا شروع کر دیا ۔

اب کبھی ہفتے بھر بعد آتے ، کبھی دس دنوں بعد واپسی ہوتی کبھی تھوڑی دیر ٹھہرتے ، کبھی تھوڑے دن ٹھہرتے اور پھر ہم لوگوں کے روشن مستقبل کی تلاش میں ٹرک کا اسٹیرنگ تھام لیتے۔ وہساری زندگی ونڈ اسکرین گلاس سے سڑک کے بجائے ہمارے مستقبل کا خواب دیکھتے رہتے تھے۔ مستقبل کا خواب بھی وہ نشہ ہوتا ہے جو ساری عمر نہیں اترتا ، وہ الہڑ شباب ہوتا ہے جس سے بڑھاپا کترا کے گزرتا ہے ۔ وہ طوفان ہوتا ہے جسے باندھا نہیں جاسکتا ۔
ابو ہم لوگوں کے بارے میں سوچتے بہت تھے ۔ انہیں کوئی بھی موسم ڈرا نہیں پاتا تھا ۔ وہ لُو دھوپ کی شدت کے زمانے میں انگوچھا بھگو کر سر پر لپیٹ لیتے تھے ۔ بارہا انہوں نے رائے بریلی سے کلکتہ تک پنجاب میل کے ڈرائیور کو آگے نہیں نکلنے دیا ۔ رفتہ رفتہ گاڑی چلانا ان کا پیشہ ہی نہیں شوق بن کر رہ گیا ۔ وہ زیادہ سے زیادہ وقت ٹرک چلانے میں گزار دیتے تھے لیکن وہ ہم لوگوں سے غافل نہیں ہو پاتے تھے ۔ وہ اس خیال سے کبھی پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھاتے تھے یہ پتہ نہیں گھر پر چولہا جلا بھی ہو گا یا نہیں ؟

اور اکثر ایسا ہوتا بھی تھا کہ میرے گھر میں چولہا نہیں جلتا تھا ۔ امی ہم لوگوں کو رشتے کی ایک پھوپھی کے گھر بھیج دیتیں اور خود خالی پیٹ سوجاتی تھیں یا جا نماز پر کھڑی ہو جاتی تھیں ۔ ابو آگ سے بہت ڈرتے تھے، راستے میں اگر کہیں آگ لگی دیکھ لیتے تھے تو فوراً یہ خیال پریشان کرنے لگتا تھا کہ میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں ۔ اگر خدانخواستہ گھر میں آگ لگ گئی تو کیا ہو گا ؟ میری امی میرے گھر کی روایتی پردہ داری کی طرفدار بھی تھیں اور نگہبان بھی ۔ ہم لوگوں کے کپڑے خواہ پھٹے ہوئے کیوں نہ ہوں لیکن گھر کے دروازے پر ہمیشہ ایک مضبوط پردہ جھولتا رہتا تھا۔ وقت کو دبے پاؤں چلنے کی اتنی عادت ہے کہ محسوس ہوئے بغیر گزر جاتا ہے ۔ غالباً 1964 ء میں ابو نے کلکتہ میں ٹرانسپورٹ کا چھوٹا سا کام شروع کیا۔ 1967ء میں امی اور چھوٹے بھائی بہن بھی کلکتہ چلے گئے ۔ ہم تین بھائی ابو کے خالہ زاد بھائی یونس صوفی(جنہیں ہم لوگ چچا جان کہتے تھے) کے گھر میں رہ کو تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ 1968ء میں ابو ہم لوگوں کو بھی لے کر کلکتہ چلے آئے ۔محمد جان اسکول سے ہائر سکنڈری کرنے کے بعد میرا داخلہ امیش چندر کالج میں بی کام میں ہو گیا ۔

تعلیم مکمل کرنے کی نوبت نہیں آئی ۔ کیونکہ ایک تو مجھے شاعری، ڈرامہ نگاری اور اسٹیج پروگرام کا چسکہ لگ گیا ، دوسرے اچانک ابو بیمار ہو کر اسلامیہ اسپتا ل میں بھرتی ہو گئے ۔ تقریباً پچیس دنوں تک اسپتال میں رہے۔ پڑھائی سے میرا جی اچاٹ ہو گیا اور میں ابو کے ساتھ ٹرانسپورٹ کے آفس میں بیٹھنے لگا ۔ ابو کو شاعری بہت پسند تھی ۔ سوزؔسکندر پوری، پروفیسر اعزاز افضل ، رازؔ الہٰ آبادی اور نازشؔ پرتاپ گڑھی سے ان کے بہت گہرے مراسم تھے۔ اپنے آخری دنوں میں اعزاز افضل کا یہ شعر پڑھتے رہتے تھے۔
افضلؔ کا مقدر ہے حق گوئی و بے باکی ۔ سچ بات کہی ہو گی جھٹلائے گئے ہوں گے

لیکن وہ اس بات پر قطعی راضی نہیں تھے کہ میں شاعر بنوں۔ لیکن تقدیر کے لکھے کو کیسے ٹالا جاسکتا ہے ۔ میں بگڑتے بگڑتے ایک دن شاعر بن گیا لیکن ابو کے خون پسینے سے سینچے ہوئے کاروباری پودے پر کبھی دھوپ چھاؤں کا اثر نہیں ہونے دیا۔ کاروباری گڈی پر بٹھاتے وقت ابو نے پندرہ بیس ہزار روپیوں کے ساتھ ایمانداری ، بے باکی ، حق گوئی اور شرافت کی جو پونجی میرے حوالے کی تھی خدا کا شکر ہے کہ میں نے اس میں اضافہ ہی کیا ہے۔

1987 ء میں ابو کلکتہ سے واپس رائے بریلی آ گئے:
مہاجر و یہی تاریخ ہے مکانوں کی ۔ بنانے والا ہمیشہ برآمدوں میں رہا

چھوٹے بھائی کی موت کے بعد ابو ٹوٹ پھوٹ گئے ، لیکن وہ کبھی اس کا اظہار نہیں ہونے دیتے تھے لیکن اندر اندر دھوپ میں رکھی برف کی طرح پگھلنے لگے ۔ ہم سب بھائی ان کو کسی بھی طرح خوش رکھنے کی کوشش میں لگے رہتے ۔ ہر طرح ان کی دل جوئی میں مصروف رہتے ، لیکن اب ایک طرح سے وہ اس بچے کی طرح ہو گئے تھے جو بہت ڈرا ہوا ہوتا ہے۔ ہم لوگوں کو رات کے سفر سے منع کرتے تھے لیکن چونکہ ٹرانسپورٹ کے کام میں جب تک ہیڈ لائٹ ساتھ دے رات کو نہیں کہا جا تا ۔ لہذا اس مجبوری کی وجہ سے ہمارا را توں کا سفر ابو کو بھی گھر میں جگائے رکھتا تھا ۔ ہفتوں گھر کا منہ نہ دیکھنے والے ابو اب کہیں بھی جاتے تو کو شش یہی کرتے کہ رات ہونے سے پہلے پہلے وہ رائے بریلی واپس آ جائیں ۔ سمندر کی لہروں پر چلنے والا مسافر اب ندی کے کنا رے بیٹھ کر وضو کر تے ہوئے تھک جاتا تھا ۔

ابو اپنے چہرے سے اور خاص طور پر اپنی آواز کا احساس نہیں ہونے دیتے تھے مجھے دیر رات میں فون کر نے والے اکثر دھوکہ کھا جاتا تھے ۔ اگر چہ یحییٰ کی موت کے بعد ابو بالکل ٹوٹ پھوٹ چکے مگر ان کی آواز میں کبھی لوچ نہیں آیا تھا ۔ 1999ء کے بعد ابو بالکل کمزور ہو گئے تھے ۔ دونوں گردوں نے کام کرنا تقریباً بندر کر دیا تھا ۔ ہفتے میں دو با رائے بریلی سے لکھنو ڈاکسس کے لئے لائے جاتے ۔ اس کے باوجود ان کی خود اعتمادی میں کمی نہیں آئی تھی بلکہ کبھی کبھی تو ان کے چہرے پر زندگی کی چمک دیکھ کر موت بھی ما یوسی کا شکار ہو جا تی رہی ہو گی ۔ ایک دن میں نے سو چا کہ ابو کی ‘زین ‘ کا ر پرانی ہو گئی ہے ۔ نئی کار لائی جائے تو ممکن ہے کہ ابو کہ زندہ رہنے کی امنگ بڑھ جائے ۔ میں کلکتہ گیا تو ان کے لئے ایک “ٹاٹا سفاری ” خریدی ۔ جب کسی نے ابو کو چچا آپکے لئے بھیا نے سفاری خریدی ہے تو بستر پر ا ٹھ کر بیٹھ گئے اور بچوں کی طرح پوچھا ” شہر میں یہ گاڑی کسی کے پاس ہے؟ ” جب یہ بتا یا گیا کہ ابھی یہ گاڑی پورے ضلع میں کسی کے پاس نہیں ہے تو سن کر مسکرائے اور پھر بچوں کی طرح لیٹ کر سو گئے

۔ جس دن کلکتہ سے سفاری آئی ابو ڈاکسس کے لئے لکھنو گئے ہوئے تھے ۔ شام کو کچہری والوں کی طرف سے ‘ ہندی دوس ‘ کے موقعہ پر فیروز گاندھی کالج کے آ ڈیٹوریم میں ایک کوی سمیلن تھا ۔ رائے بریلی کے ضلع جج محترم پی ڈی کوشک صاحب اردو سے محبت کرتے تھے، اسی نسبت سے وہ میرا بھی خیال کر تے تھے انھوں نے مجھے دعوت نا مہ اس تاکید کے ساتھ بھجوا یا تھا کہ آ پ کو شر یک ہو نا ہے ۔ میں شام کو کوی سمیلن میں جانے کے لئے نکلا ۔ کا ر ابو کو لیکر ابھی لو ئی نہیں تھی ۔ ڈر ئیو ر چنے خاں جو سفاری کلکتہ سے چلا کر لائے تھے ، کہنے لگے چلئے میں آ پکے ساتھ کوی سمیلن میں چلتا ہوں ۔ میں نے منع کیا تو بو لے میں آ پ چھو ڑ کر چلا جاؤں گا ۔ میں نے انہیں سمجھا یا یہ میں ابھی سفاری پر نہیں بیٹھ سکتا کیونکہ ابھی تک اس گاڑی کا اصلی مالک اس گاڑی پر نہیں بیٹھا ہے ۔ یہ سن کر چنے خاں بھی رنجیدہ ہو گئے اور میں چپ چاپ سر جھکائے سڑک پر آگیا اور رکشے پر بیٹھ کر فیروز گاندھی ڈگری کالج کی طرف روانہ ہو گیا۔

اتفاق سے آڈیٹوریم کے صدر دروازے پر ضلع جج صاحب مل گئے ۔ انہوں نے مجھے رکشے سے اترتے دیکھ لیا تھا۔ وہ میرے پاس آئے اور شکایتی لہجے میں بولے کہ آپ نے فون کر دیا ہوتا ۔ کوئی بھی گاڑی چلی جاتی اور آپ کو لے آتی ۔ میں نے اٹکا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کو یاد دلایا کہ آپ ایک بار یہ قصہ سنایا تھا کہ الہ آباد کے کسی مندر میں ایک راجہ پہنچا اور اس نے مندر پر چڑھاوے میں دوسیر سونا چڑھایا ہے؟ پجاری جی بولے نہیں مہاراج ابھی تک تو ایسا کوئی بھی دانی ادھر سے نہیں گزرا ۔ راجہ نے مسکراکر کہا تو سمجھ لیجئے وہ دانی شہر میں آ چکا ہے۔ کل میں مندر میں دوسیر سونا چڑھاؤں گا۔ پنڈت جی نے مسکراتے ہوئے ہاتھ جوڑ لیئے اور بولے لیکن مہاراج میں یہ چڑھاوا لینے سے انکار کرتا ہوں ۔ راجہ نے پوچھا پنڈت جی آپ یہ چڑھاوا لینے سے انکار کیوں کر رہے ہیں؟ پنڈت جی نے پھر ہاتھ جوڑ لیئے اور بولے مہاراج ، مندر میں دوسرے سونا چڑھانے والے تو ہمیشہ پیدا ہوتے رہیں گے لیکن ممکن ہے میرے بعد کوئی انکار کرنے والا نہ پیدا ہو۔

ضلع جج صاحب نے مجھے الجھ ہوئی سوالیہ نگاہوں سے دیکھا تو میں نے بھی ہاتھ جوڑ لیئے کہ جناب میں اپنے دروازے پر سفاری چھوڑ کر اس لیے آیا ہوں کہ ہر دور میں سفاری جیسی مہنگی اور اس سے بھی مہنگی گاڑیوں پر بیٹھ کر لوگ کوی سملین میں آتے رہیں گے لیکن ممکن ہے میرے بعد قیمتی کار چھوڑ کر رکشے پر بیٹھ کر آنے والا نہ پیدا ہو۔ ابو صرف ایک بار اس گاڑی پر بیٹھ سکے کیونکہ اگلے ہفتے امی نے اپنی کلائی کی طرف نگاہ اٹھا کر نہیں دیکھا۔ تقریباً 6 مہینے تک گاڑی یوں ہی کھڑی رہی۔ میں کوشش کرتا تھا کہ اس پر نگاہ نہ پڑنے پائے۔ پھر ایک دن میرے ایک محسن نے مجھ سے وہ گاڑی کچھ دنوں کے لیے مانگ لی۔ میں نے ڈرائیور سے گاڑی ان کے گھر پر کھڑی کروا دی اور آج تک واپس لانے کی ہمت نہیں کرسکا۔
مجھے معلوم نہیں روایتی شاعری، ترقی پسند ادب، جدیدیت اور مابعد جدیدیت کسے کہتے ہیں ۔ میں تو آپ بیتی کو جگ بیتی اور جگ بیتی کو آپ بیتی کو آپ بیتی کے لباس سے آراستہ کر کے غزل بناتا ہوں ۔ آپ کو اچھی لگے تو شکریہ، نہ اچھی لگے تو بھی شکریہ ۔

دکھ بزرگوں نے کافی اٹھائے مگر میرا بچپن بہت ہی سہانا رہا
عمر بھر دھوپ میں پیڑ جلتے رہے،اپنی شاخیں ثمر دار کرتے رہے

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: