یادیں جو اثاثہ زندگی ٹہریں

تحریر : عبدالودو

وہ میری زندگی کا خوشگوار ترین لمحہ تھا جب ابو نے بتایا کہ تمھارے نکاح کے لئے قاضی حسین احمد نے حامی بھر لی ہے، میں اس وقت جمعیت کے مرکزی شعبہ اطلاعات کا ذمہ دار تھا اور پنجاب یونیورسٹی سے ماس کمیونی کیشن کر رہا تھا، شادی کی تاریخیں بھی عین پیپرز کے درمیان کی طے ہوئیں تھیں لیکن یہ کسی خوش بختی سے کم نہ تھا کہ قاضی حسین احمد صاحب میرا نکاح پڑھانے تشریف لا رہے تھے۔ 4اگست 2008ء قاضی صاحب ہمارے گھر تشریف لائے اور نکاح پڑھایا۔ان کا دیا ہوا تحفہ ہم دونوں کے لئے کسی قیمتی سرمائے سے کم نہیں ہے۔
قاضی صاحب کا نام میرے لئے کبھی بھی اجنبی نہیں رہا، بچپن یہ سے گھر میں ان کا نام نہایت عقیدت و احترام سے لیتے ہوئے سنا، اس لئے ان کے ساتھ اپنائیت کا احساس ہمیشہ سے دل میں رہا۔ اگرچہ ان کے ساتھ انفرادی تعلق تواتنا مضبوط نہیں تھا لیکن جب بھی انہیں smsکیا تو ان کا replyضرور آیا۔ یہ ان کا اپنے کارکنان کے ساتھ والہانہ محبت کا ایک ایسا اظہار تھا جس کا مظاہر کسی اور سیاسی قد کاٹھ کے لیڈر سے واقع ہونا مشکل ہوتا ہے۔
پروفیسر عرفان احمد فہم قرآن و سنت پروگرامات کے حوالے سے انتہائی معروف نام ہے، ہمارے علاقے کی جماعت نے 2008ء کے اوائل میں 5روز ہ پروگرام منعقد کیا جس کی اختتامی تقریب کے لئے میرے ابو نے امیر جماعت، محترم قاضی حسین احمد صاحب سے شرکت کی درخواست کی، قاضی صاحب کی شرکت کنفرم ہونے کے باوجودلوگوں کو سرپرائز دینے کے لئے اسے عام نہیں کیا گیا، چونکہ پروگرام فجر کے فوراً بعد ہوتا تھا اس لئے ہمارے ایک رکن جماعت ضیاء حسین صاحب کی ذمہ داری لگی کہ وہ قبل از فجر ای۔7سے قاضی صاحب کو لے آئیں گے، مجھے پتہ چلا تو میں نے بھی ابو سے ضد کی کہ میں بھی انہیں لینے جاؤں گا، بالآخر ہم فجر کے وقت وہاں پہنچے اور قاضی صاحب کے ساتھ ہی نماز فجر ادا کی، واپسی پرچونکہ علی الصبح روڈ پر ٹریفک تو تھی نہیں اس لئے پہلے سگنل پر ریڈ ہونے کے باوجود ہم نکل آئے ، قاضی صاحب اپنی گاڑی پہ آرہے تھے، لیکن انہوں نے سگنل کراس نہیں کیا بلکہ گرین ہونے کا انتظار کیا، اس لمحے ہمیں اپنے کئے پر شرمندگی بھی ہوئی اور اس کا احساس بھی قانون شکنی کی تھوڑی سے گنجائش کے باوجود کہ دور دور تک کوئی ٹریفک نہ تھی، قاضی صاحب نے قانون کا پاس رکھا۔
عمر کے آخری ایام میں ہمارے ہاں کی جماعت نے فہم قرآن کے ایک پروگرام میں محترم قاضی صاحب کو مدعو کیا تاہم طبعیت کی خرابی کے باعث عین اُس روزان کی شرکت سے معذرت آ گئی۔ میں نے محترم قاضی صاحب سے درخواست کی کہ اگر ان کی جانب سے اس پروگرام کیلئے ویڈیو پیغام آجائے تو ہمارے لئے اور تمام شرکاء کے لئے اطمینان کا باعث ہو سکتا ہے۔ انہوں نے طبعیت کی خرابی کے باوجود کمال شفقت کا مظاہرہ کیا اور شمس بھائی اور یاسر بھائی کے تعاون سے ان کا ویڈیو پیغام ریکارڈ ہوا اور اس پروگرام کے اختتام پر سنوا بھی دیا۔
میری اکلوتی آپی کا 2000ء میں جب انتقال ہوا تو محترم قاضی صاحب نے ابو کے نام خط بھجوایا، مجھے ابھی بھی یاد ہے کہ اگرچہ وہ سانحہ امی ابو کے لئے ناقابل برداشت تھا لیکن تمام زعمائے جماعت کے خطوط، بالخصوص قاضی حسین احمد اور سید منور حسن کے خطوط نے اُن کو صبر کا حوصلہ بھی دیا اور باقی گھر والوں کے لئے بھی اطمینان و تقویت کا باعث بنا۔
ابو کی دعوت پر مختلف پروگرام میں شرکت کے لئے قاضی صاحب نے متعدد بار ہمارے علاقے، علامہ اقبال کالونی کا دورہ کیا، ابو بتاتے ہیں کہ جب پہلے مرتبہ وہ جماعت کے قیم مقرر ہوئے تو پہلا استقبالیہ انہیں ہمارے ہی علاقے میں دیا گیا تھا، بعد ازاں ہمارے علاقے کے 5شہداء کے گھروں میں تعزیت کے لئے غالباً1996ء میں قاضی صاحب پھر تشریف لائے ، اس موقع پر 2بڑے پروگرامات بھی منعقد ہوئے اور ایشیا کے طویل ترین بازار ٹینچ بھاٹہ میں ان کی زیر قیادت ریلی کا اہتمام بھی کیا گیا۔اس دورے کے دوران میرے پاس کیمرہ تھا، ایک جگہ چائے پینے رکے تو ابو مجھے بھی اس کمرہ میں لے گئے جہاں قاضی صاحب تشریف فرما تھے،یہ غالباً پہلا موقع تھا جب مجھے ان سے بالمثافہ ملنے کا موقع ملا۔ اگرچہ مختلف اجتماعات وغیرہ میں تو انہیں دیکھا ہوا تو تھا ہی۔
2001ء میں جب وہ پشاور میں طویل عرصہ کے لئے نظر بند تھے تو انہیں ملنے کے لئے ہمارے علاقے کی جماعت نے پشاور جانے کا پروگرام ترتیب دیا، مجھے بھی اس قافلے کا حصہ بننے کا اعزاز حاصل ہوا لیکن اس سے بڑھ کر یہ کہ بعد ازاں قاضی صاحب کو نہ صرف میرا لکھا ہوا خط ملا، بلکہ انہوں نے اپنے ہاتھوں سے اس کا جواب بھی تحریر کر کے مجھے بھیجا جو آج بھی میرے لئے اپنے پیغام کے اعتبار سے تروتازگی سموئے ہوئے ہے اور جذبوں کو بڑھاوا دینے کا باعث بنتا ہے۔

قاضی بابا خط
میں نے انہیں اجتماعات عام میں دیکھا، جلسے جلوسوں کی صدارت کرتے اور دھرنوں میں پولیس کی شیلنگ کا آگے سینہ سپر دیکھا، وہ واقعی نہ بھولنے والی شخصیت ہیں، ایک ایسی شخصیت جس نے اپنی پوری زندگی اقامت دین کی جدوجہد کے لئے وقف کئے رکھی اور اس جدوجہد میں اپنے ساتھ شریک کارکنوں کے ساتھ بالکل ایسے روا رکھا جیسا کوئی والد اپنی اولاد سے رکھتا ہے۔ وہ سراپا محبت تھے جن کی شفقت صرف اپنوں تک محدود نہ تھی بلکہ دوسرے بھی اُسی قدر ان سے فیض پاتے تھے، ان کی یادیں تادیر تحریک اسلامی کے ہر ہر کارکن کو ستاتی رہیں گی، خدا ان کی قبر کو نور سے بھر دے اور ان کی جدوجہد کو قبول کرتے ہوئے ہمیں اُس راستے کا راہی بنائے جو یقیناسیدھا جنت کو جاتا ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون

2 thoughts on “یادیں جو اثاثہ زندگی ٹہریں

  • January 5, 2014 at 1:00 PM
    Permalink

    Assalam o alaikum wr wb
    Qazi baba k hawalay say yeh yadashten bht hi acha silsila rakha gaya hay
    khas tor pay mjhy jesay logon k liye jihon ny un ki zindagi main kabhi unhain nhi jana … na hi un k sath koi mulaqat o waqaya hay meray pas
    magar yeh sab parh kr is qadr apnaaiyt ka ahsas ho raha hay k Qazi baba k liye dil dy duwaien nikal rhi hain

    Allah sy dua hay k wo humari Qazi baba sy jannat main behtreen halat main mulaqat kra dy

    Ameen 🙂

    Reply
  • January 5, 2014 at 6:17 PM
    Permalink

    JazakAllah Brother Abdul Wadood

    Reply

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: