لاہور موٹروے حادثہ،جماعت اسلامی کا پریس کلب سے سامنے احتجاج

حلقہ خواتین جماعت اسلامی لاہور کے تحت موٹروے پر خاتون سے اجتماعی زیادتی کے خلاف پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیاگیا۔

مظاہرے کی قیادت ڈپٹی سیکریٹری جنرل ثمینہ سعید ، ،ربعیہ طارق صدر وسطی پنجاب ، ڈاکٹرسمیحہ راحیل قاضی ،ڈاکٹر زبیدہ جبیں صدرلاہور نے کی انہوں نے کہاکہ گزشتہ چند سالوں کے دوران بہت بڑی تعداد میں قوم کی بیٹیاں اور معصوم بچے جنسی تشدد کا شکار ہوئے اور بیہمانہ طریقہ سے ان کی زندگیوں کا خاتمہ کیا گیا لیکن افسوس کہ حکومتیں اور انصاف فراہم کرنے والے ادارے نہ صرف ناکام ہوئے بلکہ مجرموں کو شک کی بنیاد پر ریلیف دیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس قسم کی وارداتوں میں روز بروز اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے ، کراچی کی مروہ، پشاور کی گل پانڑہ اور گجر پورہ میں موٹر وےپر خاتون کے ساتھ حالیہ زیادتی کاواقعہ، یہ سب ایک ہی سلسلے کی کڑی ہیں ، لاہور میں 2020 کے پہلے دو ماہ میں ہی 73 زیادتی اور اجتماعی زیادتی کے واقعات رپورٹ ہوئے اور رپورٹ نہ ہونے والے واقعات کی تعداد علیحدہ ہیں موٹر وے پر درندگی کا یہ تازہ اور افسوسناک مظاہرہ انسانیت کے نام پر سیاہ دھبہ ہے ۔

یہ انتہائی تشویشناک صورتحال ہے ، جو کہ معاشرے اور حکومت کے لئے لمحہ فکریہ ہے ۔عوام کے جان و مال کا تحفظ ،امن وامان کا قیام , چادر و عصمت کا تحفظ اور فوری انصاف کی فراہمی حکومت کی زمہ داری ہے جس میں کوتاہی اور لاپرواہی کے نتائج اس طرح کے بھیانک حادثات کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ اب تو بڑی شاہراہوں پر بھی خواتین کی عزت محفوظ نہیں ہے، امن و امان اور سلامتی و تحفظ کے ذمہ دار ادارے کہاں ہیں ؟؟ملک میں جنگل کا قانون اور بھیڑیوں کا راج ہے۔ بچوں اور بچیوں کو زیادتی کے بعدقتل کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں اگر پہلے ہی واقعے کے بعد جنسی درندوں کو نشان عبرت بنادیا جاتا تو زیادتی کے واقعات کو بڑھنے سے روکا جاسکتا تھا۔محفوظ اور پاکیزہ معاشرے کاقیام اور استحکام حکومت وقت کی زمہ داری اور ہماری ضرورت ہے۔خواتین اور بچے بچیوں کے ساتھ درندگی کے مرتکب کسی معافی کے حقدار نہیں۔

خواتین کی عفت و عصمت کے تحفظ کو لا حق خطرات اور اس سر عام درندگی کے خلاف جماعت اسلامی حلقہ خواتین ملک بھر میں ہر فورم پر آواز اٹھائے گی ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ معاشرے میں خواتین اور بچوں کے ساتھ بڑھتے ہوئے جرائم اور مظالم کو روکنے کیلئے وہ تمام عوامل جو اس قسم کے واقعات کو پیدا کرنے کا سبب ہیں ان کا سدباب کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ دین سے دوری، میڈیا کے بعض چینلز طرز عمل خاص طور پر ہیجان خیز ڈرامے مل کر معاشرے میں بگاڑ کا باعث بن رہے ہیں حکومت اور میڈیا کو ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے فوری عملی اور ٹھوس اقدامات کرنے چاہییں جبکہ تعلیمی اداروں کو بھی اس حوالے سے اپنا تربیتی نظام مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔حلقہ خواتین جماعت اسلامی کا یہ نمائندہ فورم مطالبہ کرتا ہے۔

نمبر1۔ آئین ِ پاکستان کے آرٹیکل 35 کے تقاضے کے مطابق شادی، خاندان،ماں اور بچے کی حفاظت کے حوالہ سے مملکت اپنی ذمہ داری پوری کرے۔

نمبر2۔ آئین کے آرٹیکل 37 کے مطابق حکومت عصمت فروشی، قمار بازی، ضرررساں ادویات کےاستعمال، فحش لٹریچر اور اشتہارات کی طباعت، نشر و اشاعت اور نمائش کی روک تھام کے لیے ضروری اقدامات کرے ۔ملک میں حیا کا کلچر عام کیا جائے۔

نمبر3 ۔ ان گھناونے اوراندوہناک واقعات کی روک تھام کے لیے وفاقی حکومت، صوبائی حکومتوں کے ساتھ روابط کے ذریعے پورے ملک میں ایسے اداروں، افراد کا سراغ لگایا جائے جو فحاشی اور برائی پھیلارہے ہیں اور فحش مواد اور فحاشی و عریانی کو فروغ دے رہے ہیں۔

نمبر 4۔ ملک بھر میں فحاشی و عریانی پر مبنی مواد اور ایسے مواد کو فروخت کرنے، رواج دینے والے زرائع اور ایسے ہمہ اقسام کے مواد کی خرید و فروخت پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔ میڈیا پر ہیجان پھیلانےکے بجائے اسلامی اقدار کو فروغ دیا جائے ۔

نمبر5۔ بچوں، بچیوں اور خواتین کے ساتھ زیادتی کے کیسز میں رہا شدہ مجرموں کا نام ای سی ایل میں ڈالاجائے اور اصل مجرموں کا سراغ لگانے کے لیے کیسز کو ری اوپن کیا جائے۔

نمبر6 ۔ پورے ملک میں بچوں اور بچیوں کے ساتھ زیادتی کے مجرموں سمیت موٹر وے کے مجرموں کوگرفتار کرکے کیفرکردار تک پہنچایا جائے۔

نمبر7۔ بچوں اور بچیوں اور خواتین کے ساتھ زیادتی،ریپ اور قتل کے مجرموں کوقانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے بِلاتاخیر سرِ عام پھانسی دی جائے۔

موٹر وے واقعے کے مجرموں کو جلد کیفر کردار تک نہ پہنچایا گیا تو خواتین اپنے تحفظات اور انصاف کے لئے بھر پور آواز بلند کریں گی۔

Share:

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on pinterest
Share on linkedin
Share on email
Share on telegram
Share on skype

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Related Posts

error

Enjoy this blog? Please spread the word :)