بانی پاکستان کا دائمی گھر کی طرف سفر – نبیلہ شہزاد

1857ء کی جنگِ آزادی کے بعد مسلمان ، انگریزوں اور ہندوؤں کے ظلم کی چکی چلنی میں پس رہے تھے۔ انگریز ملک و قوم پر قابض تھے اور ہندو نظریاتی تشدد پر قائم تھے۔ تعلیمی ادارے مسلمانوں کے لیے مشکوک ہو گئے اور شعائر اسلام پر عمل پیرا ہونا مشکل ہو گیا۔ مسلمان اقتصادی و معاشی لحاظ سے کمزور ہو گئے کیونکہ انگریز حکومت یا تو ہندوؤں کو نوازتی تھی یا پھر خوشامدی و چاپلوس لوگوں کو۔ ایسے میں غیور مسلمانوں کے حقوق ہڑپ کر لیے جاتے۔

ان حالات میں ایک ایسی قیادت کی ضرورت تھی جو ان کے حقوق کی پاسداری کے لیے سامراجی قوتوں کے سامنے ڈٹ جاتی۔ کیونکہ مسلمان دینی جذبہ و شعور رکھنے کے باوجود کسی مستحکم قیادت سے محروم تھے۔ ایسے میں محمد علی جناح رحمۃ اللّٰہ ایک امید کی کرن بن کر آئے۔ جو پہلے خود بھی ہندو مسلم اتحاد کے حامی تھے۔ اسی کے پیشِ نظر 1906ء میں آل انڈیا کانگریس میں شمولیت اختیار کی۔ 1913ء میں محمد علی جوہر، سید وزیر حسین اور دیگر مسلم قیادت نے انہیں مسلم لیگ میں شمولیت کی دعوت دی لیکن محمد علی جناح کا رجحان کانگریس کی طرف ہی رہا۔ بلکہ مسلم لیگ اور کانگریس کو قریب لانے کی بھی کوشش کرتے رہے۔ بعد میں جب خود ہندوؤں کی عیاریوں کا تجزیہ کیا اور محسوس کیا کہ کانگریس تو صرف ہندوؤں کے حقوق کا دفاع کرتی ہے تو جناح صاحب فوراً کانگریس سے الگ ہو گئے اور مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی۔

1930ء میں مسلم لیگ کے اجلاس آلہ آباد میں علامہ اقبال نے الگ متحدہ اسلامی ریاست کا نظریہ پیش کیا۔ تو یہ قائد اعظم ہی تھا جس نے پہلے مسلم لیگ کو با حیثیت جماعت، متحرک اور منظم کیا۔ پھر تمام برصغیر کا دورہ کیا۔ مسلمانوں کو آنے والے خطرات اور اس سے نمٹنے کے لیے اور لوگوں کو الگ وطن کے حصول کے لیے تیار کیا۔ جبھی تو گلی گلی، بچے بچے کی زبان پر یہ نعرہ گونجنے لگا، “لے کر رہیں گے پاکستان، بن کر رہے گا پاکستان”۔

آخری ایام
قائدِ اعظم کے آخری ایام سخت نقاہت و بیماری میں گزرے۔ مسلسل کام کرنے کی وجہ سے شدید تھکاوٹ کا شکار ہو گئے۔ ڈاکٹر آرام کا مشورہ دے رہے تھے لیکن قائدِ اعظم نے تو اپنے لیے کام، کام صرف کام۔۔۔ کا ہی اصول لاگو کر لیا تھا۔ جب طبیعت زیادہ خراب ہوئی تو کوئٹہ سے زیارت منتقل ہونے کا فیصلہ کیا۔ زیارت کوئٹہ سے 133 کلومیٹر کے فاصلے پر 2449 میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔ قائدِ اعظم کی آخری آرام گاہ یا قائد اعظم ریزیڈنسی زیارت سے 10 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ قائدِ اعظم نے زیارت پہنچنے کے بعد بھی اپنے علاج معالجے کی طرف کوئ خاص توجہ نہ دی۔ ان کی ساری توجہ و محنتیں ملک و قوم کے لیے ہی وقف تھیں۔ زیارت پہنچنے کے ایک ہفتے بعد ان کی طبیعت اتنی خراب ہوئ کہ وہ علاج سے گریز کی عادت کو ترک کرنے پر مجبور ہو گئے۔ انہوں نے تسلیم کر لیا کہ واقعی انہیں ایک اچھے معالج اور توجہ کی ضرورت ہے۔

محترمہ فاطمہ جناح نے ان کے پرائیویٹ سیکرٹری فرخ امین کے ذریعے ممتاز فزیشن ڈاکٹر کرنل الٰہی بخش کا انتظام کروایا۔ ڈاکٹر کے سامنے بھی جناح صاحب کا صرف اس بات پہ زور تھا کہ وہ بالکل اچھے بھلے ہیں صرف ان کا معدہ ٹھیک ہو جائے تو سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ کرنل الٰہی بخش کا معائنہ اس نتیجے پر پہنچا کہ معدہ تو بالکل ٹھیک ہے لیکن سینے اور پھیپھڑوں کی صورتحال اطمینان بخش نہیں۔

بمبئ کی تجوری میں چھپا راز۔۔
ڈاکٹر الہیٰ بخش نے اگلے ہی دن پیٹھالوجسٹ ڈاکٹر اور ضروری آلات منگوا کر جناح کے ٹیسٹ کیے جن کی رپورٹ نے ڈاکٹر الٰہی بخش کے خدشات کی تصدیق کر دی کہ جناح تب دق کے مرض میں مبتلا ہیں۔ ڈاکٹر نے جناح کے مرض کے بارے میں سب سے پہلے فاطمہ جناح کو مطلع کیا۔ پھر ان کی ہدایت پر محمد علی جناح صاحب کو بھی آگاہ کر دیا۔ لیکن جناح صاحب ڈاکٹر کی تشخیص کی رپورٹ ایسے پر سکون انداز میں سن رہے تھے جیسے وہ پہلے سے ہی اس بارے میں جانتے ہوں۔ پھر اسی انداز میں جواب دیا۔

“ڈاکٹر صاحب یہ تو میں 12 برس سے جانتا ہوں میں نے اپنے مرض کو صرف اس لیے ظاہر نہیں کیا کہ ہندو میری موت کا انتظار نہ کرنے لگیں”

اس بارے میں ایک مصنف لیری کولنز نے برصغیر کی جدوجہدِ آزادی کے موضوع پر لکھی گئ کتاب میں لکھا۔

“اگر اپریل 1947ء میں ماؤنٹ بیٹن، جواہر لال نہرو یا مہاتما گاندھی میں سے کسی کو بھی اس غیر معمولی راز کا علم ہو جاتا جو بمبئ کے ایک مشہور طبیب، ڈاکٹر جے ایل پٹیل کے دفتر کی تجوری میں انتہائی حفاظت سے رکھا ہوا تھا تو ہندوستان شاید کبھی تقسیم نہ ہوتا اور آج ایشیاء کی تاریخ کا دھارا کسی اور رخ پر بہہ رہا ہوتا”۔

یہ راز جناح صاحب کے پھیپھڑوں کی ایک ایکسرے فلم تھی۔ ڈاکٹر نے قائد اعظم کی درخواست پر اس بارے میں کبھی کسی کو کچھ نہ بتایا۔ کافی عرصے بعد اس بات کا اعتراف اپنے ایک انٹرویو میں میں ماؤنٹ بیٹن نے خود بھی کیا کہ اگر مجھے علم ہوتا کہ جناح بہت کم عرصے میں ہی فوت ہو جائیں گے تو میں ہندوستان کو تقسیم نہ ہونے دیتا۔ یہ واحد صورت تھی کہ متحدہ ہندوستان برقرار رہتا۔

مرض کا علاج
مرض کی تشخیص کے بعد علاج کے ساتھ ساتھ مناسب خوراک بھی تجویز کی جس سے قائد کی صحت میں کچھ افاقہ ہوا بلکہ دو تین دن میں حالت کافی بہتر ہو گئ۔ اس تسلی بخش حالت کو دیکھ کر ڈاکٹر کرنل الٰہی بخش چھٹی لے کر اپنے اہل خانہ کے ساتھ عید گزارنے کے لیے لاہور آگیا۔ ابھی ایک دن ہی گھر میں گزارہ کہ فوراً واپس لوٹنے کی تاکید کی گئ۔ جناح صاحب کا بلڈ پریشر بہت گر گیا تھا اور مزید کمزور ہو گئے تھے۔ انجیکشن لگانے سے کچھ افاقہ ہوا۔ اس شام برقی شعاعوں سے جناح کے علاج کا آغاز ہوا، مگر یہ انہیں موافق نہ آیا۔ ڈاکٹروں نے رائے دی کہ زیارت کی بلندی مریض کے حق میں اچھی نہیں لہٰذا انہیں کوئٹہ منتقل کر دیا جائے۔

باورچی لائل پور کا سے پوچھا کہ آپ کے بھائ کو کچھ کھانے پر کیسے آمادہ کیا جائے تو فاطمہ نے بتایا کہ بمبئ میں ان کے ہاں ایک باورچی ہوا کرتا تھا جو چند کھانے تیار کرتا تھا جو بھائ بڑے شوق سے تناول فرماتے تھے جو پاکستان بننے کے بعد کہیں چلا گیا ہے اور وہ لائل پور (موجودہ فیصل آباد) کا رہنے والا ہے۔ کسی طرح وہ باورچی دستیاب ہو گیا۔ تاہم قائد کو اس بارے کچھ نہ بتایا گیا۔ قائد نے کھانے کی میز پر جب اپنے پسندیدہ کھانے دیکھے تو خوش ہو کر رغبت سے کھانا کھایا۔ بہن سے استفسار کیا کہ آج کھانا کس نے بنایا ہے؟ تو جواباً بہن نے بتایا کہ حکومت پنجاب نے ہمارے بمبئی والے باورچی کو تلاش کر کے یہاں بھجوایا ہے۔ قائدِ اعظم نے پوچھا۔۔ اس باورچی کو تلاش کرنے اور یہاں بھجوانے کا خرچ کس نے اٹھایا ہے ؟

بہن نے جواب دیا کہ سارا خرچ حکومت پنجاب نے اٹھایا ہے۔ یہ سننا تھا کہ قائد اعظم نے فوراً باورچی سے متعلق فائل منگوائی اور اس پر لکھا۔ گورنر جنرل کی پسند کا باورچی اور کھانا فراہم کرنا حکومت کے کسی ادارے کا کام نہیں۔ خرچ کی تفصیل تیار کی جائے تاکہ میں اسے اپنی جیب سے ادا کر سکوں۔ اور پھر یہ سارا خرچ جناح صاحب نے اپنی جیب سے ہی ادا کیا۔

زیارت سے کوئٹہ واپسی
جناح صاحب جب زیارت میں ایک ماہ قیام کے بعد 13 اگست 1948ء کی شام کوئٹہ واپس پہنچے۔ معالجین نے ایک مرتبہ پھر ایکسرے اور دیگر ٹیسٹ لئیے ، رپورٹ کافی تسلی بخش تھی ۔ معالجین کی اجازت کے ساتھ جناح صاحب روزانہ ایک گھنٹہ دفتری کام کرنا شروع ہو گئے لیکن یکم ستمبر 1948 ء کو ڈاکٹر الہیٰ بخش کے مطابق انہیں ہیمرج ہوگیا۔ 5 ستمبر کو ڈاکٹروں نے تشخیص کیا کہ ان پر نمونیا کا حملہ بھی ہوا ہے۔ 10 ستمبر کو ڈاکٹر الہیٰ بخش نے فاطمہ جناح کو مطلع کیا کہ اب قائد اعظم کے زندہ رہنے کی امید باقی نہیں۔ یہ چند دنوں کے مہمان ہیں۔

آخری لمحات و الفاظ
10 ستمبر کو 1948 ء کو ہی قائد پر بے ہوشی کا غلبہ ہوا اس بے ہوشی کے عالم میں ہی ان کی زبان سے ہے ربط الفاظ ادا ہو رہے تھے۔ وہ بڑبڑا رہے تھے۔۔ کشمیر۔۔۔۔۔ انہیں فیصلہ کرنے کا حق دو ۔۔۔۔۔۔۔۔ آئین۔۔۔۔۔۔۔۔ میں اسے مکمل کروں گا۔۔۔۔ مہاجرین۔۔۔۔۔۔ انہیں ہر ممکن مدد دو۔۔۔۔ پاکستان ۔۔۔۔۔

11 ستمبر کو انکے وائ کنگ طیارے کے ذریعے انہیں کوئٹہ سے کراچی دو گھنٹے میں لے جایا گیا لیکن افسوس! کراچی ائیرپورٹ سے گورنر جنرل ہاؤس تک 15 منٹ والا راستہ ایمبولینس خراب ہونے کی وجہ سے اور دوسری ایمبولینس کے انتظار میں دو گھنٹے میں طے ہوا۔ یوں شام چھ بج کر دس منٹ پر گورنر جنرل ہاؤس پہنچے۔ ڈاکٹروں نے انہیں طاقت کا انجیکشن لگایا۔ تھوڑی دیر کے لئے ہوش میں آئے۔ ڈاکٹر ریاض علی شاہ اور فاطمہ جناح کے مطابق آخری الفاظ۔۔ الله۔۔۔۔۔ پاکستان۔۔۔۔ لا اله الا الله ۔۔۔۔ تھے۔ گورنر جنرل ہاؤس پہنچنے کے بعد قائد اعظم محمد علی جناح فقط سوا چار گھنٹے زندہ رہے اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے یہ دار فانی چھوڑ گئے۔ انا لله و انا اليه راجعون..اللہ تعالیٰ نے محمد علی جناح سے پاکستان کو معرضِ وجود میں لانے کے لیے کام لیا۔ محمد علی جناح نے بھی انتھک محنت وجانثاری واخلاص سے کام کیا اور قائد اعظم کا لقب پایا۔ میں اس عظیم سپاہی قائد اعظم کی تعریف میں زیادہ تمہید نہیں باندھوں گی۔ صرف دو عظیم لوگوں کے اقوال تحریر کروں گی۔

علامہ اقبال کا قول
محمد علی جناح کو نہ تو خریدا جا سکتا ہے اور نہ ہی یہ شخص خیانت کر سکتا ہے۔

پیر سید جماعت علی شاہ کا قول۔
محمد علی جناح اللّہ تعالیٰ کا ولی ہے۔ اس پر لوگوں نے کہا آپ اس شخص کی بات کر رہے ہیں جو دیکھنے میں انگریز نظر آتا ہے اور اس نے داڑھی بھی نہیں رکھی ہوئی تو پیر صاحب نے فرمایا۔ تم اسے نہیں جانتے وہ ہمارا کام کر رہا ہے۔ پیر صاحب کے اس دور میں تقریباً 10 لاکھ مرید تھے آپ نے اعلان فرمایا، اگر کسی نے مسلم لیگ اور قائد اعظم کو ووٹ نہ دیا وہ میرا مرید نہیں۔

اللہ تعالیٰ قائد اعظم محمد علی جناح کے درجات بلند فرمائے۔ آمین۔

Share:

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on pinterest
Share on linkedin
Share on email
Share on telegram
Share on skype

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Related Posts

error

Enjoy this blog? Please spread the word :)