سدرۃ المنتحیٰ – عائشہ فہیم

یہ سدرۃ المنتہیٰ کیا ہے ………..؟؟؟؟؟
* سدرہ : بیری کے درخت کو کہتے ہیں ۔
* منتھیٰ : آخری سرے کو کہتے ہیں ۔
یعنی وہ بیری کا درخت جو انتہائی سرے پہ یا ساتویں آسمان پہ واقع ہے ۔ یہ چیزیں متشابہات میں شامل ہیں ۔۔

اور ان الفاظ کے انداز پہ غور کریں:
“اس وقت سدرہ پہ چھا رہا تھا جو کچھ کہ چھا رہا تھا۔” یہ انداز اہلِ عرب کمال عظمت کے وقت استعمال کیا کرتے تھے۔۔ یعنی اُس وقت جو حالت تھی، جو کیفیت تھی، جو منظر تھا ۔ وہ الفاظ کی گرفت سے باہر ہے۔

The language cannot carry the reality!

اس سارے مسحور کن اور سانسیں روک دینے والے مناظر میں بھی جس کو وحی دی جارہی ہے، اس کی کیا کیفیت تھی؟ فوکس!! وہاں کے حیرت انگیز مناظر دیکھ کر بھی نہ نگاہیں چندھیائیں، نہ اِدھر اُدھر ہوئیں ۔ بلکہ اصل پہ مرکوز رہیں ۔ کیونکہ وہی ان کا ‘نصب العین’ تھا ۔ وہ شے جو آنکھوں کے سامنے گڑی ہوئی ہو ! اسی لئے وہ بڑی نشانیاں دیکھ سکے ۔۔۔

تو مقصد کی راہ میں بہت ساری distractions آئیں گی ، مشن کی تکمیل کے لئے ‘یکسوئی’ اہم ہے ۔ دائیں ، بائیں ، آگے ، پیچھے سے بہت سی چیزیں متاثر کریں گی ، ہلا کر رکھ دیں گی ۔ اصل چیز جو مقصد سے ہٹنے نہیں دے گی ، وہ آپ کا “فوکس” ہے !
(النجم، آیات 13-18)

Share:

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on pinterest
Share on linkedin
Share on email
Share on telegram
Share on skype

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Related Posts

error

Enjoy this blog? Please spread the word :)