اہل زمانہ قدر کرو اپنی زباں کی – زبیر منصوری

اسلام کے بعد اس ملک کو دوسری جوڑنے والی چیز اردو ہے …….! زبانیں صدیوں میں پیدا ہوتی اور پروان چڑھتی ہیں . اور پھر ان میں لٹریچر تیار و ترجمہ ہوتا ہے ۔ آہ ! مگر جب کوئی زبان اس طویل عرصہ کے دوران بھرپور ہوتی اور علمی و تہذیبی دولت سے مالا مال ہو جاتی ہے تو اسے بدل دیا جاتا ہے .

جیسے ہمارے اسلاف نے عربی میں کمال خزانے تیار و ترجمہ کئے ……… مگر پھر برصغیر کی زبان فارسی ہو گئی . سب گیا پانی میں !پھر سب کچھ فارسی میں منتقل ہوا محنت لگی . جوانی کھپ گئیں ، لمبا عرصہ یہ سلسلہ چلا اور جب سینکڑوں کتابیں تیار ہوئیں تو منہ بسورتی اردو پیدا ہو گئی اور قوم فارسی سے بیگانہ ہو گئی . پھر بڑے اور پڑھے لکھے لوگوں اور علما نے نے پتاماری کرکے علم کو اردو میں منتقل کیا تو اب اردو رسم الخط رومن کی طرف جا رہا ہے اور ہماری نئی نسل اردو لکھنے تو کجا پڑھنے سے بھی جا رہی ہے۔

ایسے میں چند ایک دیوانے اردو کا شکستہ پرچم بلندکئے ہوئے ہیں . انکو دیکھ کر لوگ اذکار رفتہ لوگ سمجھتے ہیں . رحم کھاتے ہیں اور بس از راہ ہم دردی ان کی بات سنتے یا یادداشت پر دستخط کر دیتے اور چل دیتے ہیں . جانتے نہیں کہ جو لوگ کسی ذاتی غرض کے بغیر ملت اور اس کی شناخت کے پاسبان بنتے ہیں . وہ کتنے انمول ہوتے ہیں جو بن مول قوموں کو مل جاتے ہیں . سو …….. اہل زمانہ قدر کرو۔۔۔

Share:

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on pinterest
Share on linkedin
Share on email
Share on telegram
Share on skype

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Related Posts

error

Enjoy this blog? Please spread the word :)