یہ جو دِل آزار pranks کا گردوغبار ہے – ہمایوں مجاہد تارڑ

اِس طرزِ عمل کو محض چھچھورا پن کہہ کر مذمّت کردینا کافی نہ ہوگا ۔ حد سے گذری ہوئی اِس وحشت ناک درندگی کو یہ پیغام دینا ضروری ہے کہ آپ خدا کے بنائے فطری مظاہر میں سے اعلٰی ترین فطرت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے میں لگے ہو ، یعنی human feelings کے ساتھ بھونڈا مذاق ۔

اگر سمجھ سکو تو بڑھتی ہوئی فالوونگ درحقیقت آپ کی بدقسمتی میں اضافہ ہے، نہ کہ ایک قابلِ رشک کامیابی۔ جذبہِ جدّت پسندی کے تحت ہر اگلی مرتبہ کچھ نیا کر دکھانے کے تردّد میں آپ بے حسی کے اُس مقام تک جا پہنچے ہو جہاں نصیحت اور وارننگ اپنی افادیت کھو دیا کرتی ہیں۔ بعض پرینکس بہت دُکھ دینے والے ہیں۔ ویوور شپ اور ریٹنگ کی حرص و ہوس آبگینے ایسے نازک انسان کے جذبہ و احساس کا احترام کرنے کی حِس کھو دیا کرتی ہے۔ کہنا یہ ہے کہ احساس کو پیدا کرنے والے خالق کی طرف سے زیرِ آسماں ایسوں کے لیے پکڑ خود خدا ئی سسٹم کی طرف سے trigger ہوا کرتی ہے۔ اس سسٹم کو مکافاتِ عمل کہتے ہیں۔ رسماً کہہ دیتا ہوں کہ ایسی غیر انسانی حرکتوں سے باز آجاؤ، اندرونی طور پر اگرچہ کامل مایوسی ہے کہ آپ چھچھورے لوگ روزی روٹی کے نام پر اسی بے وقار روِش کو بہ تسلسل اپنائے ہوئے اپنے انجام تک پہنچو گے ـــ بُرے انجام تک!

پرینک بذاتِ خود بری چیز نہیں ہے۔ اِسے اچھی لرننگ اور ہلکی پُھلکی تفریح دینے کو ایک میڈیم کے بطور استعمال کیا جا سکتا ہے لیکن جو کچھ نظر آ رہا بیشتر نرا طوفانِ بدتمیزی ہے، یا دل آزاری ہے۔ اِن کے تِھیمز کیا کیا ہیں؟ بدتمیزی کی انتہا کر کے دل دُکھانا اور پھر بے قابو ہوئی صورتحال پر یہ کہہ کر قابو پانا کہ بھائی/میڈم! وہ سامنے دیکھیں، کیمرہ لگا ہے۔ کوئی جِن بُھوت بن کر ڈرانا، سرِ راہ گاڑی اور گلیمرز دِکھا کر کسی لڑکی سے مذاق کرنا کہ آپ مجھے پسند آ گئی ہیں، شادی کرنا چاہتا ہوں۔ وہ قائل ہو کر تیار ہو جائے تو حقیقت افشا کر دینا کہ یہ تو ایک مذاق تھا۔ سُہاگ مل جانے کے خواب دیکھتی کسی دوشیزہ یا اوور ایج ہوتی ایک عِفت مآب خاتون کے دل کے آنگن میں ستارہ امید بن کر جگمگا نہیں سکتے تو آپ جُھوٹ بن کر اُس کا دل تو نہ دکھاؤ! اُس کی آہ لگ جائے گی جو آپ کی پوری زندگی کو بےسُکون اور برباد کیے رکھے گی۔۔۔ اور scary ghost pranks میں بعض لوگ بے ہوش ہو جایا کرتے ہیں۔ اس کیٹگری میں حادثات بھی ہو چکے ہیں۔

یہی پرَینکسٹرازم لوگوں کو ایجوکیٹ کرنے، سماجی مسائل کی نشاندہی کرنے، اُن کے حل کی جانب موٹیویٹ کرنے، اور ہلکی پھلکی بےضرر تفریح مہیا کرنے کے کام بھی آ سکتے ہیں جیسا کہ 10 مِلّین سبسکرائرز کے حامل مشہور یوٹیوب چینل Just for Laughs Gags پر اَپ لوڈ ہوئے مواد میں نظر آیا کرتا ہے۔ شَاک دینے کی حد مقرر کرنا ہو گی۔ تِھیمز پر کام کرنا ہو گا۔ پرَینک کے دوران استعمال ہوئی زبان کو سینسر کرنا ہوگا۔ جھگڑے/ لڑائی بھڑائی کی حد تک پہنچا دینے والے پلاٹس پر پابندی عائد کرنا ہوگی۔ یہ پوری ایجوکیشن ہے، اس پر بھی قانون سازی ہونی چاہیے اور صرف معقول افراد کو اِس کا پرمٹ دیا جانا چاہیے۔

میں عمران خان اور سوشل میڈیا پر موجود تحریک انصاف کے ممبران سے خصوصی طور پر اور آپ سب خواتین و حضرات سے عمومی طور پر اپیل کرتا ہوں کہ اس معاملے کو کنٹرول کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ ان بچوں کی رہنمائی کریں کہ کیسے کچھ مثبت کر کے بھی اپنا مقام بنایا جا سکتا ہے — جو زیادہ پائیدار ہوتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم سائبر کرائم ڈیپارٹمنٹ کو بھی رپورٹ کریں۔ پچاس، سو، دو سو پیغامات ان کی ویب سائٹ پر انڈیل دیں۔ اس سے فرق پڑتا ہے۔

Share:

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on pinterest
Share on linkedin
Share on email
Share on telegram
Share on skype

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Related Posts

error

Enjoy this blog? Please spread the word :)