کچھ پتا بھی ہے آزادی رائے کیا ہوتی ہے؟ – آصف محمود

ہر دوسرا آدمی جب زہر تھوکتا ہے تو جواز یہی دیتا ہے کہ قانون مجھے آزادی رائے کا حق دیتا ہے۔ سوال یہ ہے آزادی رائے کے یہ لشکری کیا کچھ خبر بھی رکھتے ہیں کہ قانون کی روشنی میں آزادی رائے کی حدود کیا ہیں؟

ہر چودہ اگست کو یہاں ایک طبقے کو ابولکلام آزاد یاد آجاتے ہیں اور قوال تان اٹھاتے ہیں کہ ابولکلام آزاد نے تو پہلے ہی بتا دیا تھا یہاں یہ ہو گا ۔ قوالی کا اختتام بین السطور اس مدہوشی پر ہوتا ہے کہ پاکستان تو بننا ہی نہیں چاہیے تھا ۔ اگست کا مہینہ شروع ہوتے ہی ایک مخصوص فکری پس منظر سے تعلق رکھنے والے لوگ یہاں اودھم مچا دیتے ہیں۔ کیا انہیں معلوم ہے قیام پاکستان کے بارے میں اس طرح کی بات کرنے پر قانون کیا کہتا ہے؟ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 123 اے کے تحت اس جرم کی سزا دس سال تک قید بامشقت ہے اور ساتھ جرمانہ بھی عائد کیا جائے گا ۔ اب سوشل میڈیا پر جو لوگ اگست شروع ہوتے ہی پاکستان کے قیام کے بارے ”فکری اودھم“ مچانا شروع کر دیتے وہ ذرا سوچ لیں کہ ان کی آزادی رائے پر تعزیرات پاکستان کی یہ دفعہ نافذ کر دی گئی توآزادی رائے رات کہاں گزارے گی۔

نظریہ پاکستان یہاں ایک طبقے کے لیے ایک طنز مسلسل کا عنوان ہے ۔ وہ اٹھتے بیٹھتے اسے مذاق، طنز اور دشنام کی سان پر رکھتے ہیں۔ موضوع کوئی بھی ہو کھینچ تان کے نظریہ پاکستان کو سینگوں پر لے لیا جاتا ہے ۔ دفعہ 123 اے میں اس جرم کی سزا بھی بیان کر دی گئی ہے جو دس سال تک قید بامشقت ہے اور ساتھ جرمانہ بھی عائد کیا جائے گا ۔ اس قماش کے دانشوروں کو بھی ایک لمحہ ٹھہر کر سووچ لینا چاہیے کہ ن کی آزادی رائے کو کسی دن یہ دفعہ سلام پیش کرنے آ گئی تو اس کا نتیجہ کیا ہو گا۔ آئین پاکستان کا آرٹیکل 19 ہی آزادی رائے کی ضمانت دیتا ہے اور وہی اارٹیکل پابندی لگا رہا ہے کہ آزادی رائے اسلام کی شان و شوکت کے خلاف کچھ نہیں کہہ سکے گی۔لیکن یہاں طنز اور تنقید کا سب سے بڑا نشانہ ہی مذہب ہے۔ فکری مباحث کو چھوڑ دیجیے یہاں باقاعدہ تضحیک کی جاتی ہے اور دفاع میں یہی آرٹیکل پیش کر دیا جاتا ہے کہ آزادی رائے کا ہمیں آئینی حق ہے۔

یہاں آزادی رائے روز دوسروں کی پگڑیاں اچھالتی ہے۔ کسی کی عزت محفوظ نہیں۔ جس پر جو الزام جی میں آئے لگا دیجیے ۔ کردار کشی ایک فن بن چکا ہے اور میدان اسی کے نام رہتا ہے جو اس فن میں طاق ہو۔ معتبر وہی ہے جس کے شر سے لوگ پناہ مانگتے ہوں۔ یہاں سینیئر اینکرز کے فون کا جواب دینے میں کسی سیاست دان سے تساہل ہو جائے تو اس کے کپڑے اگلے ٹاک شو میں اہتمام سے دھوئے جاتے ہیں ۔ جو دوست ہے وہی ایماندار ہے ، جو کھانے پر بلاتا ہے وہ صاحب تکریم ہے ، جس کے ساتھ شام کی محفل آرائی ہوتی ہے اس سے اچھا آدمی روئے زمین پر کوئی نہیں ہے لیکن جسے ہم جانتے نہیں ، وہ کرپٹ ہے ، چور ہے ، بد دیانت ہے ، خائن ہے اور اس کے گریبان کی دھجیوں کو بھی امان نہیں ہے ۔ ہمیں معلوم ہونا چاہیے یہ بھی ایک جرم ہے اور کسی کی تذلیل اور توہین کی سزا دو سال قید ہے ۔ دیوانی کارروائی الگ ہے۔

یہاں کشمیر کا معاملہ ہو یا افغانستان کا ، ایک ملامتی طبقہ پاکستان کے قومی بیانیے کی کامل نفی کرتا ہے اور اس چاند ماری کو دانشوری قرار دیتا ہے ۔ کوئی ڈیورنڈ لائن پر افغانستان کے ناجائز موقف کی تائید فرما رہا ہوتا ہے اور کسی کے نزدیک کشمیر کے معاملے کی خرابی ذمہ داری پاکستان پر عائد ہوتی ہے ۔ کوئی پاکستان میں علحدگی کے کسی ایک عنوان کو پرچم بنا لیتا ہے اور کوئی کسی دوسرے علحدگی پسند مسلح گروہ کی فکری حمایت میں مضامین باندھتا ہے ۔ یہ تمام سرگرمیاں پاکستان کی سلامتی کے خلاف ہمہ جہت مہم کا ایک حصہ ہیں اور اس کی سزا بھی دس سال قید ہے۔

فحاشی اب ایسا لفظ ہے جو اس پر نقد کرے جاہل مطلق قرار پاتا ہے ۔ آزادی رائے حیرت سے انگلیاں منہ میں داب کر کہتی ہے: ہائیں! یہ فحاشی کیا ہوتی ہے؟ احباب ہاتھ نچا کر پوچھتے ہیں فحاشی تو تمہاری آنکھ میں ہے ۔ پھر احباب سنجیدہ ہو کر فلسفہ جھاڑتے ہیں دیکھیے صاحب فحاشی تو غریب کی غربت میں ہے آپ کہیں اور تلاش کرتے ہیں ۔ لیکن ہر چینل کا لائسنس جاری کرتے وقت پیمرا جو شرائط عائد کرتی ہے اس میں آزادی رائے کو پابند کر دیا گیا ہے کہ وہ فحاشی سے اجتناب کرے گی ۔ پیمرا کنٹینٹ ریگولیشنز 2012 کی دفعہ پانچ فحاشی، غیر شائستگی، بے ہودگی، کسی کی توہین، تضحیک، فقرہ بازی، گالم گلوچ کی بھی اجازت نہیں دیتی ۔ لائسنس لیتے وقت سب کہتے ہیں جی بہت بہتر ایسا ہی کریں گے ۔ بعد میں آزادی رائے کہتی ہے اچھا صاحب یہ فحاشی ہوتی کیا ہے ویسے ۔ ہم تو بھولے سے لوگ ہیں ہمیں تو معلوم نہیں یہ کیا بلا ہوتی ہے۔

ہماری آزادی رائے تو بہت بانکی ہے ۔ پاکستان کے ترکی سے تعلقات ہوں تو اسے سینگوں پر لے لیتی ہے۔ وہ چین کے قریب ہو تو چین کی خیر نہیں۔ وہ سعودی عرب کے قریب ہو تو اس پر چڑھ دوڑتی ہے ۔ آزادی رائے کا یہ روپ آئین کے آرٹیکل 19 کے تحت بھی ناجائز ہے اور سیکیورٹی آف پاکستان ایکٹ 1952 کی دفعہ 11اس قماش کی آزادی رائے سے نبٹنے کے لیے ریاست کو کافی اختیارات دیتی ہے۔ آزادی رائے کو اس کا علم ہونا چاہیے۔ مطالعہ پاکستان سے بھی آزادی رائے کی نہیں بنتی اور اس کے متضاد ہر بیانیے پر یہ واری جاتی ہے ۔ یہ بیانیہ بسا اوقات سیاسی تحرک کی شکل میں بھی سامنے آ جاتا ہے اور آزادی رائے اس کی پشت پر ہوتی ہے ۔ ہمیں معلوم ہونا چاہیے اس قسم کی آزادی رائے کے لیے پریونشن آف اینٹی نیشنل ایکٹویٹیز ایکٹ 1974 اور اینٹی نیشنل ایکٹویٹیز رولزز 1974 موجود ہیں ۔ایکٹ کی دفعہ 13 کے مطابق نہ صرف ایسی سرگرمی میں حصہ لینے والوں کے لیے سات سال قید ہے بلکہ اس کی پشت پر کھڑی آزادی رائے بھی سات سال کے لیے جیل بھجوائی جا سکتی ہے۔

پیمرا کانٹینٹ ریگولیشنز کی دفعہ9 کے تحت چینلز پابند ہیں کہ اعلی زبان استعمال کریں۔ لائیو پروگرام ہے تو وہاں ایسی مشینری نصب کریں کہ کانٹینٹ تھوڑی تاخیر سے آن ایئر ہو اور غلط فقرہ حذف کیا جا سکے۔ لیکن آزادی رائے اس سب سے بے نیاز ہے۔ ٹاک شوز میں گالیاں تک چلتی ہے اور راوی چین لکھ رہا ہے۔ر یکارڈڈ ٹاک شوز میں غیر اخلاقی زبان استعمال ہوتی ہے اور اسے رات کو اہتمام سے نشر کیا جاتا ہے۔

دفعہ 9 کے تحت معیاری اردو کا استعمال بھی ایک شرط ہے لیکن سچ یہ ہے اردو کا جو حشر ہمارے چینلز نے کیا ہے اردو بھی پناہ مانگ رہی ہو گی۔ جو یاد تھا وہ آپ کے سامنے رکھ دیا۔ جو قانون کی کتابوں میں لکھا ہے اور حافظے سے محو ہو گیا ہے اس پر پھر کسی دن بات کریں گے۔

Share:

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on pinterest
Share on linkedin
Share on email
Share on telegram
Share on skype

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Related Posts

error

Enjoy this blog? Please spread the word :)