پردہ تو اک متاع ہے- حمیرا حیدر

اسلامی وہ آفاقی دین ہے ……. جو عورت کو قیمتی متاع جانتا ہے ۔ مسلمان عورت چونکہ سب سے قیمتی ہے وہ در در رلتی نہ رہے اس لئے اس کو مستور کر دیا۔ جو پھل جتنا قیمتی ہوتا ہے اس کا چھلکا اسی قدر مضبوط ہوتا ہے۔ اخروٹ ، بادام ، پستہ اور چلغوزے دیکھ لیں ۔ یہ قانون فطرت ہے کہ قیمتی متاع کو محفوظ کرنا، ہر کس و نا کس کی بری بھلی نظروں سے محفوظ رکھنا ۔

قرآن میں آیات حجاب کے ساتھ ایک جملہ بہت پیارا ہے اور اہمیت کا احساس دلاتا ہے کہ جس رب نے ہمیں پیدا کیا ہے وہ ہم سے کیا چاہتا ہے ؟ ہم پردہ کریں اور اس میں محبت بھی دیکھیں کہ فرمایا

” تاکہ وہ پہچان لی جائیں اور ستائی نہ جائیں ”

وہ جانتا ہے کہ یہ جو میری بندیاں ہیں یہ بے حد نازک ہیں ان کو ستائے جانے سے محفوظ رکھنے کے لئے پردہ فرض کردیا۔ شاہانہ انداز سے با ادب باملاحظہ ہوشیار سب کہ بنت حوا آ رہی ہے۔ اپنی نظروں کو جھکا دو! پروٹوکول دیا ہے نا ہمیں۔ پردہ عورت کو نا صرف تحفظ کا احساس دیتا ہے بلکہ خوبصورتی کی بھی علامت ہے۔ مسلمان عورت کی پہچان ہی پردہ ہے ۔ اپنے آپ کو قیمتی بناتی سب سے چھپاتی مسلمان حیادار عورت۔ آیات حجاب سے پہلے اس معاشرے میں پردے کا کوئی رواج نا تھا، مگر جب حکم آتا ہے تو ہم دیکھتے ہیں کہ صحابیات نے فورا وہ مان لیا اور گھر میں موجود بستر کی چادریں اوڑھ لیں۔

انتظار نہیں کیا کہ نئے ڈیزائن کا عبایا خریدیں گی تو پردہ شروع کریں گی۔ ان کی فکر تو یہ تھی کہ ایک لمحہ بھی اللہ کی نافرمانی میں نہ گزرے ۔ وہاں لیل و حجت نہیں تھی سمعنا و اطاعنا تھا ۔ پھر وہ پہچان لی گئیں ! زمین پر بیٹھے ان کی ندا عرش پر بھی سنی گئی ۔ وہ پردہ کرنے کے بعد مجبور اور بےچاری نہیں ہوئیں بلکہ ہر جگہ وہ اپنا کردار ادا کرتی نظر آتی ہیں، وہ زخمیوں کی مدد کرتی نظر آتی ہیں ، کبھی وہ شہ سواری میں مردوں سے بڑھ کر پھرتیلی نظر آتی ہیں ، وہ محافظ کے طور پر کھڑی ہیں اور قلعے میں جھانکتے یہودی کا سر اتار کر پھینکتی ہیں۔ خلیفہ وقت سے بھرے مجمے اختلاف رائے کرتی ہیں۔ جنگ میں مسلمان پسپا ہو کر پیچھے پلٹنے لگتے ہیں تو خیموں کی چوبیں نکال کر آگے بڑھ کر حملہ کرنے پر مجبور کرتی نظر آتی ہیں۔ علم کے میدان میں صحابہ کو تعلیم دیتی نظر آتی ہیں۔ یہ سب کرتے ہوئے پردے پر کوئی کمپرومائز نہیں ہے۔ نا پردہ بوجھ بنا نہ رکاوٹ بنا۔

آج نا جانے کیسی ہوا چل پڑی ہے کہ ماڈرن ( جدید) ہونے کے نام پر لباس کم سے کم ہوتا جا رہا ہے ۔ ماڈرن (جدید) ہونے کے لئے سب سے پہلے پردہ ہی اتر رہا ہے ۔ سب نے تاریخ اسلام پڑھی ہے۔حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل کے دور کو کیا کہا جاتا تھا ؟ ” زمانہ جاہلیت “!……. ہے نا ؟ کیا ہوتا تھا تب ؟ یہ بھی سب کو علم ہے ۔ عورت میراث کی مانند تقسیم ہوتی ، حیا کا تصور مفقود ، کعبہ کا طواف برہنہ کرنا عین رکن عبادت تھا ۔ پھر اسلام آیا اور آیات حجاب ، سورہ النساء آیات میراث آئیں تو وہی بیٹی جو باعث شرمندگی تھی ، زندہ درگور کر دی جاتی تھی ۔ جنت میں جانے کی ضامن بن گئی ۔ وہی عورت جس کو کوئی حقوق حاصل نہ تھے میراث کے ساتھ تقسیم کی جاتی تھی خود وارث قرار پائی ۔ ماں کے قدموں کے نیچے اولاد کی جنت رکھ دی ۔ یوں وہ معاشرہ زمانہ جاہلیت سے نکل کر جدیدیت کی طرف بڑھ گیا۔ دنیا کا اگر کوئی جدید مذہب ہے تو وہ اسلام ہے ۔۔

اب پھر سے زمانہ جاہلیت کی طرف لوٹا جا رہی ہے ……. میرا جسم میری مرضی کے مضحکہ خیز نعرے لگائے جا رہے ۔ جو پردہ تحفظ دیتا ہے اسے وبال گردانہ جا رہا ہے۔ ترقی کی راہ میں حائل محسوس ہوتا ہے۔ یاد رکھیں پردہ عورت کی وہ متاع بے بہا ہے جو اس کو شاہانہ شان عطا کرتی ہے۔ اس کو انفرادیت عطا کرتی ہے۔ اسے پہچان عطا کرتی ہے۔

پردہ تو اس جہاں میں عورت کی اک متاع ہے
پردے بغیر عورت ، عورت نہیں بلا ہے

Share:

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on pinterest
Share on linkedin
Share on email
Share on telegram
Share on skype

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Related Posts

error

Enjoy this blog? Please spread the word :)