فرقہ واریت اور اصحاب رسول – سبحان احمد نجمی

کل کراچی میں نماز ظہرین کے بعد جس طرح اصحاب رسول ص کو سرعام لعنتیں دی گئیں ، اس پر حکومتی اداروں کو سنجیدگی سے سوچنا ہوگا ۔ ملت تشیع کے اکابر متوجہ ہوں ……… اظہار رائے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کے دل میں جو آئے آپ وہ کریں ۔ پاکستان کے اندر اتحاد امت کی فضا اسی وقت قائم ہوگی ، جب تمام مسالک اپنی حد میں رہیں ۔

اور سب سے پہلے اپنی حد کا تعین مسلک شیعہ کے اکابرین کو کرنا ہوگا ۔ کیونکہ بات اگر اصحاب رسول کی حرمت پر آجائے تو پاکستان کے اندر ایسے سرپھرے عاشق صحابہ موجود ہیں جو مدحت اصحاب میں جان لے بھی سکتے ہیں اور جان دے بھی سکتے ہیں ۔ اگر آپ اصحاب رسول کو رفیق رسول نہیں مانتے تو یہ آپ کا مسئلہ ہے ، آپ اپنے انکار کی بنیاد پر دوسرے مکاتب فکر کے پیروکاروں کو کس حیثیت میں تکلیف پہنچا سکتے ہیں ؟ آپ کو اگر سڑکوں پر جلوس نکالنے کی اجازت ہے تو یہ بات بھی اپنے ذہن نشین کرلیا کریں کہ جن سڑکوں پر آپ لعن طعن کرتے ہوئے گزرتے ہیں وہاں پر رہائش پذیر ہر فرد شیعہ نہیں وہاں موجود عمارتوں میں دوسرے اکثریتی مسالک کے لوگ رہائش پذیر ہوتے ہیں۔ آپ کی راہ میں روڑے اٹکائے جائیں تو فوراً فرقہ واریت کا الزام لگ جاتا ہے اور دوسری جانب آپ لوگ دھڑلے سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے رفقاء کو لعن طعن کرکے اپنی مذہبی آزادی کا راگ الاپتے ہیں ۔ یہ سلسلہ فوری طور پر رکنا چاہیے۔

جب گزشتہ ماہ شرپسندوں کی جانب سے امام خمینی اور امام خامنہ ای پر لعن طعن کئے جانے پر آپ کے جذبات مجروح ہوئے تو آپ اندازہ لگا لیں آپ کی جانب سے اصحاب رسول کو لعن طعن کرنے پر کراچی میں مقیم بریلوی، دیوبندی اور اہلحدیث مکاتب فکر کے دو کروڑ سے زائد افراد کو کتنی تکلیف پہنچی ہوگی ۔ اب امت میں اتحاد قائم کرنے کی گیند آپ کے کورٹ میں ہے۔ فیصلہ آپ نے کرنا ہے کہ ایک ہی معاشرے میں باہمی محبت کے ساتھ رہنا ہے یا فرقہ واریت کی آگ بھڑکا کر ایک دوسرے کو موت کے گھاٹ اتارنا ہے۔

Share:

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on pinterest
Share on linkedin
Share on email
Share on telegram
Share on skype

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Related Posts

error

Enjoy this blog? Please spread the word :)