ہم لوگ ابھی زندہ بیدار کھڑے ہیں ، حصہ 2 – عاطفہ آفتاب

کیپٹن راجہ محمد سرور:

“غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں، نہ تدبیریں۔
جو ہو زوق یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں”۔

کیپٹن سرور شہید چینل نومبر 1910 کو ری تحصیل گوجر خان ضلع راولپنڈی میں پیدا ہوئے . 1940 میں آرمی کی نئی رپورٹ میں شامل ہوئے . نانوس میں پنجاب رجمنٹ کی بٹالین میں کمپنی کمانڈر کی حیثیت سے ان کا تقرر ہوا 1973 کے آئین بنا دیے گئے 1947 میں جب وہ پنجاب رجمنٹ کے سیکنڈری تعلیمی کمیٹی کمانڈر کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے . انہیں کشمیر میں آپریشن پر مامور کیا گیا۔ یہ 27 جولائی 1948 کا واقعہ ہے . جب انہوں نے اڑی سیکٹر میں دشمن کی اہم فوجی پوزیشن پر حملہ کیا . جب وہ دشمن سے صرف تیس گز کے فاصلے پر پہنچے تو دشمن نے ان پر بھاری مشین گنوں دستی بم اور مارٹر گولوں سے فائرنگ شروع کردی۔

اس حملے میں مجاہدین کی ایک بڑی تعداد شہید اور زخمی ہوئے جو مجاہدین کی تعداد میں کمی آتی گئی ان کا جوش و جذبہ بڑھتا گیا تھا چلا گیا ، پھر کیپٹن راجہ محمد سرور نے ایک تو بچی کی گن کو خود سنبھالا اور دشمن پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی کیپٹن سرور گولیوں کی بارش برساتے میں بہت دور تک نکل گئے . اب دشمن کا مورچہ صرف بیس گز کے فاصلے پر تھا، پس اس موقع پر اچانک انکشاف ہوا کہ دشمن نے اپنے مورچوں کو خاردار تاروں سے محفوظ کرلیا ہے . کیپٹن سرور مسلسل تحمل سے بالکل ہی راستہ نہ ہوئے اور برابر دشمن پر فائرنگ کرتے رہے . اس دوران انہوں نے اپنے ہاتھ سے دستی بم ایسا ٹھیک نشانے پہ ہیں کہ دشمن کی ایک میڈیا مشین گن کے پرزوں گئے مگر اس حملے میں ان کا دایاں بازو شدید زخمی ہوا مگر وہ مسلسل حملے کرتے رہے . انہوں نے ایسی برین گن کا چارج لیا ، جس کا جوان شہید ہوچکا تھا .

چنانچہ انہوں نے زخموں کی پروا کئے بغیر 6 ساتھیوں کی مدد سے خاردار تاروں کو عبور کرکے دشمن کے مورچے پرآخری حملہ کیا دشمن اس اچانک حملے کے بعد اپنی توپوں کا رخ کیپٹن سرور شہید کی جانب کردیا یواے گولی کیپٹن سرور کے سینے میں جا لگی اور انہوں نے وہاں جام شہادت نوش پی ۔ پاک سرزمین کے لئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے پہلا نشان حیدر پانے والے کیپٹن راجہ محمد سرور دشمن کے خلاف جرات اور بہادری سے جنگ لڑی اسے بھاری نقصان پہنچایا اور سینے میں گولیاں کھا کر جام شہادت نوش کیا ۔

“اے وطن ہم تجھ سے نیا عہدِ وفا کرتے ہیں مال کیا چیز ہے جان فدا کرتے ہیں ایسی نہ زمین پھر تحےافلق ملے گی یہ خاک وہ خاک ھے جس میں میری خاک ملے گی”

Share:

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on pinterest
Share on linkedin
Share on email
Share on telegram
Share on skype

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Related Posts

error

Enjoy this blog? Please spread the word :)