امام عالی مقام ! کاش آپ ہمیں اس حال میں نہ چھوڑتے – قاضی نصیر عالم

امام عالی مقام ……. صدیاں بیت چلی ہیں . لیکن کچھ بھی نہیں بدلا ۔ آپ کے بے سائیباں پیروکار آج بھی اسی کربلا کے ریگزار میں انہی لشکر یوں کے گھیرے میں کھڑے ہیں ۔ جس “دستور” کے اصولوں کے توڑے جانے پر آپ نے علم حق بلند کیا اور اپنے خاندان سمیت اپنی جانیں قربان کردیں وہ دستور اور اس کے اصول تو در کنار اس قانون کو بھی ریاستیں نگل گئیں ۔ اب تو اس پورے دستور اور قانون کا کوئی تزکرہ بھی نہین کرتا ۔

امام عالی مقام ……. بعین وہی ہوا جس کا آپ کو اندیشہ تھا ۔ ہم کوفیوں کو ادراک ہی نہ ہو سکا کہ آپ کا مقصد کتنا عظیم تھا اور نا آج ہمیں اس نقصان کا اندازہ ہے ۔ افسوس ! کہ حکومت و امارت کے جن اصولوں کو لوگ جزو سمجھتے رہے وہ اس کی اساس تھی ۔ بس وہ دن اور آج کا دن (ماسوائے گنتی کے چند برسوں کے ) آپ کے نانا کے امتی سلاطینوں کی سطوت سہتے آرہے ہیں ۔ وہ جو فلاحی ریاست کا تصور تھا . وہ تو اب کسی کے خوش کن خیالوں میں بھی باقی نہی رہا۔۔اب تو ریاست سراپا جبر ہے ۔ ان مقہور و مغضوب لوگوں کا اس روئے زمین پر آپ کے رب کے سوا کوئ غم گسار نہی۔۔۔۔کوئ دوست نہیں اور پتہ نہیں آپ کے رب کو وہ قربانی اتنی پسند آگئی کہ پھر ان اصولوں کی روح پر مبنی وہ نظام بحال ہو سکا ۔ اور نا ہی قربانیوں کا وہ سلسلہ رکا ……. نفس ذکیہ سے سید احمد تک سارے ہی آپ کی طرح قربان ہوتے چلے گئے ۔

سیدی ……. سارے ہی قصے پڑھے ، نمرود کے شداد کے ، فرعون و ہا مان کے ، جالوت کے، ذونواس کے ، سب نے آپ کے رب کے قہر کا سامنا بھی کیا۔۔وہ سارے اپنے عبرتناک انجام کو پہنچے۔ پھر تیرے بندوں کو وہ ملا جس کے وہ طلب گار تھے۔ ان کو عافیت میسر آئی۔۔۔اے پیکر وفا ۔۔۔ہماری حالت تو دیکھیے کہ ہم اپنے فرعونوں ہامانوں نمرودوں کو اپنی طبعی عمر پوری کرتے دیکھتے ہیں ۔ کوئی دریا انہیں غرق نہیں کرتا ۔ کوئی مچھر کسی کے دماغ میں گھس کر اسے باؤلا نہی کرتا۔۔۔زمین ان کے لیے کشادہ اور ہموار ہے ۔ وہ پورے طمطراق سے اس پر اتراتے پھرتے ہیں ۔ اے نواسہ رسول پاک ! آخر کیا ہو گیا کہ ہم اپنے جالوتوں کے مقابل اپنا کوئی طالوت نہیں پاتے۔ ہمارے ذونواس ہمارے لئے ہر گلی کوچے میں آتش و آہن سے بھری خندقیں کھودتے ہیں ہمیں کوئی عبد اللہ بن تامر نہیں ملتا۔ امام عالی مقام ۔۔۔۔ ! ہم پستیوں کے ماروں ہم سوختہ جانوں کے لیے کوئی دعا کیجیے کہ یہ سیاہ رات ختم ہو۔

سیدی ……. اجتماعی اموال ذاتی ملکیت بنے۔ خلق خدا بھوک سے تڑپتی ہے۔ ڈھائی سو روپے کی بھلا اوقات ہی کیا ہے لیکن مجھے یہ بتاتے ہوئے شرم آتی ہے کہ “امن” کی ایمبولینس کو دینے کے لیے کسی کے پاس یہ ڈھائی سو روپے بھی نہیں ہوتے اور وہ مجبور ہو کر اپنے ڈایلیسز کے مریض کو بستر سمیت ایس آئی یو ٹی کی دیوار کے ساتھ مہینوں بسر کرتے ہیں ۔ ملوکیت سے کئی درجہ آگے کے بدقماش لوگ ہم پر قابض ہو گئے۔ جس پر چاہتے ہیں اپنے تئیں رزق تنگ کرتے ہیں اور جس پر چاہے کشادہ کر دیتے ہیں ۔ آزاد سروں کے سودے کرتے ہیں ایک جدید غلامی ہے جس کا طوق لئے ہر شخص پھر رہاہے ۔ آزادیاں سلب کر لی گئیں ۔ اب تو زباں بریدہ لوگ بس اک آہ کو ترستے ہیں . اظہار رائے کی وہ آزادی جو ہمارا فخر تھا جس میں ہم سے اگلوں کا بانکپن جھلکتا تھا اسے کچل دیا گیا .اب آپ کو کیسے بتاؤں کہ لوگ اپنے غاصبوں کو کوسنے سے پہلے الحاد کا چولا پہنتے ہیں کہ اٹھا نہ لئیے جائیں اتنی نا امیدی ہے ۔

اے ابدی جنتوں کے مکیں …… اس نظام ظلم کا کل پرزہ تلواریں سروں پہ سونتے بیعت کا طلبگار ہے اب انہیں کیسے سمجھائیں کہ جو آپ کے ہاتھوں پر بیعت ہو چکے اب آپ کے ہاتھ پر کسی اور ہاتھ کو فوقیت دیں بھی تو بھلا کیسے دیں۔ قسم اس زات کی جس نے آپ کو محبوب رکھا اگر آپ ہوتے نا تو آپ سے اپنے نانا کے کلمہ گووں کی یہ حالت دیکھی نا جاتی اور آپ بار بار سوئے مقتل رخ کرتے۔۔۔ہزار جانیں ہوتیں تو وہ بھی قربان کر دیتے لیکن ہمیں اس حال میں نہ چھوڑتے ۔۔۔

Share:

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on pinterest
Share on linkedin
Share on email
Share on telegram
Share on skype

1 Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Related Posts

error

Enjoy this blog? Please spread the word :)