اے حوا کی بیٹی! حجاب اوڑھ – سماویہ وحید

پچھلے ایک ہفتے سے مسلسل بارش نے کراچی کی حالاتِ زندگی بگاڑ دی تھی. ہر طرف کیچڑ اور اُبلتا ہوا پانی نظر آ رہا تھا. خیر آج موسم نہایت ہی خوشگوار تھا. ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں بڑے جمان سے سرد کی کیفیت پیدا کر رہی تھی. آسمان بھی نیلا نیلا تھا تو میں نے اپنے شوہر سے کہا آج موسم بلکل صاف ہے آج سپر مارکیٹ چلتے ہیں سودا سلف لینا ہے. تو انھوں نے کہا چلیں ٹھیک ہے شام تک چلیں گئے.

ہائپر اسٹار پہنچ گئے تو شوہر نے تاکید کردی کے بیگم صاحبہ جلدی جلدی سودا لے لیجئے گا مجھے کچھ کام سے جانا بھی ہے. خیر…….. ایک جگہ رکی میں سودا کی اشیاء دیکھ رہی تھی کہ ایک خاتون اپنے شوہر کے ساتھ میرے پاس سے گزری……حیرت تھی…….افسوس کا مقام تھا اُس خاتون کے لیے…….پاس کھڑے سبھی مرد اُس کی جانب متوجہ تھے……مرد تو دور کی بات تھی…..عورتیں بھی اُس کی طرف متوجہ تھی. آخر کیا بات تھی یہ بھی میں بتاتی چلوں. اُس خاتون نے نہایت ہی ہلکا پھلکا لباس زیب تن کیا ہوا تھا یعنی پینٹ شرٹ پہنی ہوئی تھی اور وہ بھی بلکل سفید رنگ کی جس سے اُس کا جسم واضح طور پر دیکھائی دے رہا تھا…..

استغفراللہ……دیکھ کر کوفت ہو رہی تھی. دل چاہ رہا تھا کہ اُس کے بال پکڑ کر جھنجھوڑوں کہ بے حیاء تمھیں ذرا بھی علم ہے کہ تم کس ملک میں رہتی ہوں…..پاکستان میں جو اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا ہے……اور اسلام ہمیں کیا درس دیتا ہے……کیا بے حیائی پھیلانے کا؟؟؟؟ یا پھر پردے میں رہنے کا……..کیا تم جانتی ہو کہ تم اس غلیظ لباس میں کیا لگ رہی ہو؟؟؟ اور اُس خاتون کے شوہر سے پوچھوں کے تمھارے اندر کچھ حیاء باقی بھی ہے کہ نہیں؟؟؟؟ مرد کیا عورتیں بھی تمھاری بیوی کو غور سے دیکھ رہیں ہیں……کیا تم جانتے بھی ہو کہ وہ کس نگاہ سے تمھاری بیوی کی طرف متوجہ ہے…….

آپ کہی بھی جائیں چاہے وہ شادی کی تقریب ہو, سپر مارکیٹ یا ہسپتال ہر طرف بے حیائی اپنے عروج پر پہنچی ہوئی ہے. ہسپتال جہاں آپ ایمرجنسی کے وارڈ میں ہے اور آپ کا عزیز موت کے منہ کے قریب ہے وہاں بھی آپ بناؤ سنگھار کر کے گئے ہیں …… مجھے حیرت ہوتی ہے کہ جب آپ مریض کو ایمرجنسی میں لا رہے ہیں تو آپکو بناؤ سنگھار کرنے کی کیسے فرصت مل جاتی ہے …… افسوس!! صد افسوس !!! …….. اگر یہی عورتوں سے کہا جائے کہ گھر پر اپنے شوہر کے لیے بناؤ سنگھار کرتی رہا کریں تو انہی کا جواب ہوگا کہ وقت نہیں ملتا. پھر میں انھیں کہتی ہوں کہ آپ ہرگز یہ کہنے کی جرات نہیں رکھتی کہ آپ کا شوہر آپ سے دور ہو رہا ہے. کیونکہ آپ خود اے اپنے آپ سے دور کرتی ہے. آج جس معاشرے میں ہم رہتے ہیں اُس بے حیاء معاشرے کی طرف مرد خود با خود دلچسپی لے گا کیونکہ یہ مرودں کی فطرت میں ہے.

4 ستمبر کو ہم عالمی یومِ حجاب مناتے ہیں. کیوں مناتے ہیں؟؟؟ کیونکہ اس دن مغرب کی رہنے والی عورت اپنے ملک میں برقعہ یعنی حجاب کر کے گھر سے نکلی تھی (مروہ الشر بینی) جسے اسلام سے نفرت کرنے والے کافروں نے شہید کردیا تھا……..شہید کرنے کا مقصد کیا تھا؟؟؟؟ مقصد یہ تھا کہ اُس نے حجاب اوڑھا تھا. اب اُس خاتون کی یاد میں ہم یومِ حجاب مناتے ہیں. آج کل ہم جس معاشرے میں رہ رہیں ہیں اُس معاشرے میں حجاب نام کی کوئی چیز موجود نہیں. حالانکہ یہ ملک اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا ہے یعنی اس ملک میں اسلام کو نافذ کرنا ہے……جو ملک اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا ہے محض صرف نام پر ہی حاصل کیا ہے کیونکہ یہاں کوئی اسلام کے مطابق حکومت نہیں ہورہی یہاں مغربی احکامات لاگو ہے. یعنی کہ ہر وہ کلچر جو مغرب حکومتوں کا ہے وہ اس ملک میں ہم لاگو کرنا چاہتے ہیں.

اب میں آپ کو اپنی زندگی کا موڑ بھی دکھاتی ہوں جب میں نے پردہ شروع کیا تو اس وقت میں 8 کلاس کی طالب علم تھی……میری ہم جماعت لڑکیوں نے میرا بہت مذاق اڑایا. کوئی مجھے کہتا ڈاکو آگیا تو کوئی کہتا بڈھی عورت. خیر میں نے انھیں کبھی جواب نہ دیا اور مسکرا کر پیچھے ہٹ جاتی تھی. اب میں یہ سوال کرتی ہوں کہ جو اسلام کے مطابق زندگی گزارے کیا وہ طالبان ہے؟؟؟…..محض آپ جب کسی کا مذاق اڑا رہیں ہیں اور وہ آگر اسلام کے احکامات پر عمل کر رہا ہے تو آپ دراصل اُس کا مذاق نہیں اڑا رہے بلکے آپ دین کا مذاق اڑا رہے ہیں کیونکہ آج وہ جس حالت میں صرف اسلام کی وجہ سے ہے یعنی کے اللّٰہ کی محبت حاصل کرنے کے لیے ہے……جب آپ مذاق اڑا رہے ہیں تو میں ڈنکے کی چوٹ پر آپ کو کہتی ہوں کہ آپ بے دین ہے. آپ مسلمان نام ہے کہ…..آپ اسلام کے نام پر دھبہ ہے.

مثال کے طور پر ایک سپاہی جنگ کے دوران اپنی ذرہ اتار کر پھینک دیتا ہے اور دشمنوں کی صفوں میں بغیر ذرہ پہنے ٹوٹ پڑتا ہے تو کیا وہ زندہ رہ سکتا ہے؟؟؟؟ نہیں ناں؟؟ تو اب ایک عورت بغیر حجاب کے کھلے میدان سے گزر رہی ہے تو کیا وہ شیطان کے چیلوں سے محفوظ رہ سکتی ہے؟؟؟؟ نہیں ناں؟؟؟ وہ یقیناً ان کی گندی نظروں کا نشانہ بنے گئی. جب تک وہ حجاب میں رہے گئی تو محفوظ ہے اور جب وہ اسکے قدر و قیمت کو بھلا دے گئی تو وہ غیر محفوظ ہو جائے گئی. بس یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ آپ نے کبھی یہ دیکھا ہے کہ کوئی مرد پردے دار لڑکی کے پیچھے بھاگ رہا ہے؟؟؟……ہرگز نہیں وہ کبھی اسے چھیڑے گا نہیں کیونکہ وہ پردے کی حدود میں ہے کیونکہ اللّٰہ اس کی حفاظت فرما رہے ہیں اس نے جب اسلام کی حفاظت کی ہے تو اللّٰہ بھی اسکی عزت کی حفاظت کر رہے ہیں…..آپ ہمیشہ یہ دیکھیں گے بے حیاء لڑکیاں ہی مردوں کی غلیظ نظروں کا نشانہ بنتی ہے.

قرآن کریم میں بھی حجاب اوڑھنے پر بار بار زور دیا ہے. سب سے پہلے سورۃ الاحزاب میں آیت حجاب نازل ہوئی:
“اے لوگوں جو ایمان لائے ہو, نبی صہ کے گھروں میں بلا اجازت نہ چلے جایا کرو. نہ کھانے کے وقت تاکتے رہو. ہاں اگر تمھیں کھانے پر بلایا جائے تو ضرور آؤ مگر جب کھالو منتشر ہوجاؤ. باتیں کرنے میں نہ لگے رہو. تمھاری یہ حرکتیں نبی کریم صہ کو تکلیفیں دیتی ہیں مگر وہ شرم کی وجہ سے کچھ نہیں کہتے اور اللّٰہ حق بات کہنے میں نہیں شرماتا. نبی صہ کی بیویوں سے اگر تمھیں کچھ مانگنا ہے تو پردے کے پیچھے سے مانگا کرو. تمھارے اور ان کے دلوں کے لیے کامل پاکیزگی یہی ہے. نہ تمھیں یہ جائز ہے کہ تم رسول اللّٰہ کو تکلیف دو اور
نہ تمھیں یہ حلال ہے کہ آپ کے بعد کسی بھی وقت آپ کی بیویوں سے نکاح کرو. (یاد رکھو) اللّٰہ کے نزدیک یہ بہت بڑا گناہ ہے.(33:53)”

اسی طرح سورۃ نور میں بھی حکم دیا گیا ہے لیکن اس آیت میں سب سے پہلے مردوں کو مخاطب کیا گیا ہے کیونکہ پردہ صرف اوڑھ لینے کا نام نہیں بلکہ نگاہوں کا بھی پردہ ہوتا ہے. چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:
“مسلمان مردوں سے کہو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت رکھیں. یہی ان کے لیے پاکیزگی ہے, لوگ جو کچھ کریں اللہ سب سے خبردار ہے.(24:30)”

اسی طرح آگے عورتوں کو حکم دیا جارہا ہے. ارشاد ہوتا ہے:

“مسلمان عورتوں سے کہو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت میں فرق نہ آنے دیں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں سوائے اس کے کہ جو ظاہر ہے اور اپنے گریبانوں پر اوڑھنیاں ڈالے رہیں اور اپنج آرائش کو کسی کے سامنے ظاہر نہ کریں سوائے اپنے خاوندوں کے یا اپنے والد یااپنے خسر کے یا اپنے لڑکوں کے یا اپنے خاوند کے لڑکوں کے یا اپنے بھائیوں کے یا اپنے بھتیجوں کے یا اپنے بھانجوں کے یا اپنی میل جول کی عورتوں کے یا غلاموں کے یا ایسے نوکر چکر مردوں کے جو شہوت والے نہ ہو یا ایسے بچوں کے جو عورتوں کے پردے کی باتوں سے مطلع نہیں اور اس طرح زور زور سے پاؤں مار کر نہ چلیں کہ انکی پوشیدہ زینت معلوم ہوجائے, اے مسلمانو! تم سب کے سب اللّٰہ کی جانب توبہ کرو تاکہ تم نجات پاؤ.(24:31)”

اسی طرح سورۃ الاحزاب میں ایک اور جگہ اللّٰہ عزوجل نے کھل کر بیان کر دیا. ارشاد فرماتے ہیں:
“اے نبی صہ! اپنی بیویوں سے, اپنی صاحبزادوں سے, اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنے اوپر اپنی چادورں کو لٹکا لیا کریں. اس سے بہت جلد انکی شناخت کوجایا کرے گی پھر نہ ستائی جائیں گی اور اللّٰہ بخشنے والا مہربان ہے.(33:59)”

اب ہم نے قرآن کے تحت یہ دیکھا ہے کہ جس طرح عورتوں کو مخاطب کیا گیا ہے اسی طرح مردوں کو بھی کیا گیا ہے. اب حجاب کے معنی پڑھتے چلیں. صرف ایک چادر کو اوڑھ لینا حجاب کے زمر میں نہیں آتا بلکہ حجاب کے معنی آنکھوں کا پردہ بھی ہے. بظاہر آپ نے چادر اوڑھ لی ہے اور آپ یہ نمائش کر رہی ہے کہ آپ پردے میں ہیں لیکن اندر ہے اندر آپ انکھوں سے بے حیائی پھیلا رہی ہیں. یہ قدرے غلط ہے سامنے سے حیاء دار نظر آئیں اور اندر سے وہی بے حیائی . پھر آپ اسلام کے نام پر دھبہ ہیں……آپ بے حیائی عروج پر کرتی ہیں ….. آپ بے دین ہیں …. حجاب امت مسلمہ کا وہ شعار, مسلم خواتین کا وہ فخر و امتیاز ہے جو اسلامی معاشرے کو پاک کرتا ہے. مسلم دنیا کو پاکیزگی سے ہٹا کر بے حجاب کرنا دراصل شیطان کا ہدف ہے اور شیطان یہی چاہتا کے معاشرہ بے حیائی کی جناب مائل ہو.

حجاب اسلام کی عفت و عصمت کا نام ہے. جو معاشرے کو پاکیزگی بخشتا ہے. عورت کو توقیر عطا کرتا ہے. جب آپ بے حیاء ہونگے تو آپ دوسروں کے شوہروں کا نشانہ بنے گی اور ساتھ ساتھ آپ انکی بیویوں کی زندگی بھی اور اپنی زندگی بھی تباہ کریں گئی. اس لیے حجاب کو اپنی زندگی بنالیں اور صرف محض اوڑھ لینے کی حثیت سے نہیں بلکہ عملی اور نظری حثیت سے بھی کیونکہ یہی عورت کے تحفظ کا سب سے بڑا سرمایہ ہے.

اے حوا کی بیٹی ، حجاب اوڑھ…..!
کیونکہ یہی اسلام کی پہچان ہے

Share:

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on pinterest
Share on linkedin
Share on email
Share on telegram
Share on skype

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Related Posts

error

Enjoy this blog? Please spread the word :)