پیکر و وقار، انقلاب آفریں کردار – زرافشاں فرحین

کہتے ہیں ……. صنف نازک جسے کائنات میں جس کے دم سے رنگ سجے جسکی ممتا فقیدالمثال ٹہری ، جسکے وقار و شجاعت سے تاریخ رقم ہوئی ، جسکے کرب و رنج والم سے بہنے والے قطرے گوہر نایاب بن گئے ، اسی کردار کی شان یاد رکھنے کا ازل سے ابد تک دہرانے کا قدرت نے نظام بناڈالا …….. ماہ محرم الحرام یاد دلاتا ہے! حضرت سیدنا زینب رضی اللہ عنھا . لخت جگر سیدنا فاطمہ الزہرہ کی …….. آج کی عورت کے لئے بہترین رول ماڈل!!!!!

حق گوئی ، شجاعت ووقار ، صبر و استقلال ، اصولی موقف پر نہ ڈرنا نہ دبنا نہ جھکنا ……! میں سوچتی ہوں ، آج کی نام نہاد آزادی کی علمبردار یہ صنف اپنا وقار ہی نہیں اپنی نسائیت ، نزاکت ، تمکنت سب کچھ داؤ پر لگا کر بھی کسی کٹھ پتلی کی طرح دوسروں کے اشارے پر محض تماشا بن کر رہ گئی ہے اور ایک انکا رول ماڈل ہے باعث تقلید جو عہد ساز ہے …… ٹرینڈ سیٹر…. مائنڈ سیٹر…..وقت کا حکمران یزید بھی سوچنے پر مجبور کردیا . دس محرم کربلا کی قربانیوں کو یاد کرکے آنکھیں نم توآج کی قربان ہوتی اس ماں بہن اس بیٹی کے لئے بھی دل فگار ہے جسے سیدہ کی وارث بننا ہے… جسے یاد رکھنا ہے

فطرت امیں ہے ممکناتِ زندگانی کی
جہاں کے جوہرِ مُضمَر کا گویاامتحاں تو ہے

اور یہ بھی کہ

خودی میں ڈوب جاغافل!یہ سِرِّ زندگانی ہے
نکل کر حلقۂ شام و سحَر سے جاوداں ہو جا

سیدہ زینب سلام اللہ کا نام تو تاریخ کربلا میں انمٹ نقوش رکھتا ہے۔ حضرت امام حسین (ع) بے حد محبت رکھنے والی سیدہ زینب سلام اللہ نے کربلا کی داستان کا وہ باب رقم کیا ، جسے امام حسین (ع) نے ادھورا چھوڑا تھا۔ امام حسین (ع) کی شہادت کے بعد بہت زیادہ سخت وقت تھا، جب آپ کا کردار شروع ہوا۔ حضرت امام حسین (ع) کی شہادت کے وقت اور اس کے بعد سیدہ زینب سلام اللہ پر کون سی ذمہ داریاں عائد ہوتی تھیں، جنہیں آپ نے بہت خوبصورتی کیساتھ ادا کیا، یہ بات تو تاریخ کے ورق ورق پر لکھی واضح دکھائی دیتی ہے کہ دین اسلام کو بقاء امام حسین اور ان کے اصحاب کی شہادت سے نصیب ہوئی اور اس مقصد کی تکمیل سیدہ زینب سلام اللہ کی اسیری اور کوفہ و شام کی راہوں اور درباروں میں بلیغ خطبات دینے سے ممکن ہوئی۔ امام حسین (ع) کے اہداف کو مختلف مقام پر خاص طور سے دربار یزید میں اسلامی ملکوں کے نمائندوں کے درمیان ضمیر کو جگا دینے والے بے نظیر خطبے کے ذریعہ بیان کرنا، اور بنی امیہ کی حکومت اور اس کے افکار کو زمانہ بھر کے سامنے رسوا کر دینا ، یقیناً یہ دلیری اور شجاعت فقط اور فقط عقیلہ بنی ہاشم جناب زینب سلام اللہ کی ہے۔

کہتے ہیں کہ سیدہ زینب سلام اللہ کو بچپن ہی سے امام حسین (ع) سے بہت محبت اور الفت تھی . اس قدر بہن بھائیوں کا پیار اور محبت، اور عصرِ عاشور بھائی کی لاش سامنے رکھی ہے اور سیدہ کا امتحان و آزمائش شروع ہو گیا، کتنا حوصلہ چاہیے اس امتحان سے گذرنے کیلئے اگر یہاں پر سیدہ ہمت ہار جاتیں تو کربلا کے بیابان صحرا میں لکھی گئی داستان شجاعت و حریت کا علم کسی کو بھی نہ ہوتا، یقیناً امام حسین (ع) اور ان کے جانثار ساتھیوں کی بے مثال قربانیاں رائیگاں چلی جاتیں اور آج ہر سو یزیدیت کا راج ہوتا ۔ سیدہ زینب سلام اللہ نے اس موقع پر سب سے پہلے مخدرات عصمت و طہارت پاک بیبیوں اور شہداء کی بیوگان و بچوں کی ہمت نہیں ٹوٹنے دی ، ان کے حوصلے بلند رکھے اور انہیں جلتے خیام اور یزیدیوں کی لوٹ مار سے بچایا ، اس موقعہ پر سب سے اہم ترین کام امام زین العابدین جو حالت بیماری میں خیمے میں موجود تھے، ان کو شمر کے مظالم سے بچایا اور شمر کے سامنے ڈٹ گئیں اور یہ کہا کہ تمھیں میری لاش سے گزر کر جانا ہو گا ۔ اس طرح جلتے خیام سے امام زین العابدین کو اٹھا لائیں اور امامت کے چراغ کو بجھنے نہیں دیا۔

تقوی اور دین داری کی یہ حالت تھی کہ اتنے سخت حالات میں بھی اپنی نماز شب کو نہیں بھولیں اور حالت اسیری میں جب ہاتھ بندھے ہوئے تھے تو اونٹوں پر سوار تھیں تو نماز کی ادائیگی ترک نہ کی اس طرح سب پر اہمیت نماز بھی واضح کر دی اور یہ بھی ثابت کر دیا کہ جنہیں باغی قرار دیکر شہید کیا گیا وہ اسلام کے اصل وارث اور اس نماز کو بچانے والے تھے۔ اس کے بعد بازاروں اور درباروں میں دیئے گئے خطبات بھی تاریخ کے سنہرے ابواب ہیں، ان خطبات نے ہی اس صورت حال کو تبدیل کر دیا جو یزیدیوں نے اپنے حق میں بنائی تھی۔ یہ خطبات کیا تھے ؟

حضرت زینب سلام اللہ کے خطبات سے چند اقتباس:
حضرت زینب سلام اللہ ، عبید اللہ بن زیاد کے دربار میں یوں گویا ہوئیں ، خدا کا شکر ہے کہ اس نے اپنے رسول (ص) کے ذریعہ ہمیں عزت بخشی اور گناہ سے دور رکھا، رسوا تو صرف فاسق ہوتے ہیں ، اور زمانے نے دیکھا کہ رسوائی کس کا مقدر ٹہری . عزت و منزلت کس کا نصیب ہوئی …. خطبہ حضرت زینب یزید کے دربار میں خطاب کیا کہ:

خدا نے سچ فرمایا ہے کہ جن لوگوں نے برے اور گھناؤنے کام کیے ، ان کی سزا ان لوگوں جیسی ہے جنہوں نے الٰہی آیات کی تکذیب کی ، اور اس کا مذاق اڑایا ۔ اے یزید ! کیا تو الٰہی فرمان کو بھول گیا (کہ خدا نے فرمایا) کافر خوش فہمی میں مبتلا نہ ہو جائیں ، اگر ہم نے مہلت دے دی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم ان کی بھلائی چاہتے ہیں ؟ نہیں ہرگز ایسا نہیں ہے بلکہ ہم نے اس لیے انہیں مہلت دی ہے تا کہ زیادہ سے زیادہ گناہ کر سکیں (اور آخر کار) سخت ترین عذاب میں گرفتار ہوں (اور ان کی بخشش کا کوئی راستہ نہ رہ جائے) . سیدہ کے ان خطبات نے انقلاب کا آغاز کر دیا . خصوصی طور پر جب آپ نے یزید کے دربار میں اسے آئینہ دکھایا ا. س حال میں کہ آپ اسیر تھیں آپ کے بھائی کا سر مبارک اس کے سامنے طشت میں رکھا تھا اور وہ نواسہ رسول (ع) کے دندان مبارک پر چھڑی مار کر توہین کر رہا تھا ، مختلف ممالک کے سفراء کو دعوت دی گئی تھی کہ وہ تماشا دیکھیں مگر تماشا دکھانے کے خواہش مند خود ان کے سامنے تماشا بن گئے ۔ شاعر نے اسی لیے کہا ہے کہ :

کربلا دو باب است کربلا و دمشق
یکےحسین رقم کرد دیگرے زینب

امام حسین (ع) نے اگر لق و دق صحرا میں کربلا کے نام سے اسلام کی بنیادوں کو قائم و دائم کیا تو ، بہن نے اس بنیاد پر کوفہ شام کے درباروں و بازاروں میں خطبات دیکر اسلام کی ایسی پختہ عمارت بنا دی کہ پھر کسی کو ہمت نہ ہوئی کہ اس انداز میں اسلام پر وار کرے . مگر وہی سلگتے ایام ہیں ……. سسکتی ہوئی ظلمت شب ہے . دین اسلام نشانے پر ہے تو دین حسین کے بیٹوں کی حمیت تو بیٹیوں کی عزت پائمال ہورہی ہے پیغام کربلا ہے …

اٹھو تم کو وقت آواز دیتا ہے
دین حسین پھرسےزندگی چاہتا ہے

Share:

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on pinterest
Share on linkedin
Share on email
Share on telegram
Share on skype

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Related Posts

error

Enjoy this blog? Please spread the word :)