بین السطور” تنہائی” ہے – سمیرا امام

میں نے خاتون کے وجود سے ٹپکتی پریشانی اور وحشت کو مسلسل محسوس کیا ۔ وہ رات سے خوف زدہ تھیں ۔ رات جو پھر سے انکے لیے تنہائی کا ایک باب لے کر آتی ۔ رات جو پھر انھیں ذات کے کٹہرے میں تنہا چھوڑ دیتی ہے ۔ کیسی اذیت ناک ہوا کرتی ہیں وہ سوچیں جو ناگ بن کے اپنے ہی وجود کو ڈسا کریں ۔ میں نے انکے درد کو اسی شدت سے محسوس کیا ۔ اور پھر معاشرے کے رویوں نے مجھے اذیت میں مبتلا کر دیا ۔

آئیے جانیں ان خاتون کی کہانی کیا ہے ۔ جب وہ جوانی کے عالم میں تھیں تو والدین کی اکلوتی بیٹی اور تین بھائیوں کی اکلوتی بہن تھیں ۔ پھر انکی والدہ علیل ہو گئیں ۔ بیس سال علیل والدہ مکمل بستر پہ رہیں اور یہ انکی خدمت پہ مامور رہیں ۔ گھر میں سب سے بڑی تھیں ۔ جو کرنا تھا جو سنبھالنا تھا انھیں ہی کرنا تھا ۔ چھوٹے بھائی کی شادی ہوئی تو پچیس سال کی عمر میں کسی نے گولی مار کے بھائی کو شہید کر دیا ۔ پانچ ماہ کی کم سن بھتیجی پھپھو کی گود میں رہ گئی جب جواں سالہ بھابھی نے بچی کو چھوڑ کے دوسری شادی کر لی ۔ ننھی بچی کی ذمے داری سمیت والد بھی اب بستر کے محتاج ہو گئے تھے ۔ والدہ کے ساتھ بیمار والد اور ننھی بچی ۔ یہ سب اب انھیں ہی کرنا تھا ۔ پھر ایک ایک کر کے ماں باپ فوت ہو گئے ۔ ماں جاتے جاتے خالاؤں کو تلقین کر گئی تھی میری بچی کی شادی کر دینا ۔

اور بچی صاف مکر گئی ۔ کیونکہ جس چھوٹی بچی کو ماں چھوڑ گئی تھی باپ دنیا سے چلا گیا تھا اسے اب وہ چھوڑنے کی ہمت نہ رکھتی تھیں ۔ اب زندگی کا مقصد بس وہ بچی ہوگئی ۔ بھائی شادیاں کر کے انگلینڈ شفٹ ہو گئے ۔ ستائیس سال وہ بچی انکی زندگی کا محور و مقصد رہی ۔ اور پھر اپنے ہاتھوں ہنسی خوشی اسے بیاہ دیا ۔ اور یہیں انھیں مات ہو گئی ۔ آج تک انکے پاس جینے کا ایک مقصد تھا ۔ بچی بڑی ہوگی ۔ اسکی تعلیم رشتہ شادی بس یہی سب ۔ اور وہ اس میں مصروف رہیں …….. اب بچی چلی گئی تو مقصد بھی ختم ۔ اب ڈپریشن کے دورے پڑتے ہیں ۔ وہ گھر جہاں بچی کی ہنسی تھی خاموش ہوگیا ۔ رات کو وہ اور بیٹی باتیں کرتیں اب سناٹے بولنے لگ گئے ۔ اب دل کو کیسے سنبھالیے ؟؟؟ آس پڑوس میں سبھی رشتے دار بستے ہیں ۔ جو بھی آتا ہے سب غصے میں باتیں سناتے ہیں ۔

ارے بیٹیاں تو سبھی کی بیاہی جاتی ہیں تمھاری کیا نرالی گئی ۔ اب اللہ اللہ کی عمر ہے تم کیا بچی کو روتی رہتی ہو ۔ یہ پاس ہی تو بیٹی رہتی ہے کونسا دور گئی ہے ۔ یہ سب باتیں درست ہیں ۔ لیکن بین السطور کیا ہے ؟

بین السطور ” تنہائی ” ہے ۔
بین السطور ” زندگی کا مقصد چھن جانا ” ہے ۔

جب جینے کی امنگ ختم ہو جائے رو جانیے انسان ختم ہوگیا ۔ لوگ ظاہر کو دیکھ سکتے ہیں لیکن باطن میں جھانک کے دیکھنے والا کوئی نہیں ۔ مصطفٰی کھر سے ایک میزبان نے دورانِ انٹرویو پوچھا ، آپ نے اتنی شادیاں کیوں کیں ؟ کہنے لگے میں کمرے میں اکیلا نہیں رہ سکتا ۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اکیلے ہونا ہی وحشت و تنہائی کا سبب ہے ۔ یورپ میں اسی سالہ بڑھیا بھی شادی کر لیتی ہے ۔ لیکن پاکستان میں تیس سال کی عمر کے بعد عورت کی شادی گناہِ کبیرہ بن کے رہ جاتی ہے ۔ ہم کیوں نہیں سوچتے کہ انکی تنہائی انھیں ختم کر دے گی ۔ یہ جو خاموش ڈپریشن کی مریضائیں ہیں انکا کوئی کبھی علاج نہیں کروائے گا کہ ہمارے ہاں مینٹل ہیلتھ کے متعلق سوچ رکھنا بھی گناہِ کبیرہ میں شامل ہے ۔ ہم بہ حیثیت فرد یا معاشرہ خود بھی غمگساری اور ہمدردی سے نا آشنا ہیں ۔ ہم فٹ سے مشورہ جھاڑ سکتے ہیں یوں کر لو ووں کر لو لیکن یہ نہیں جانتے کہ انسان کوئی روبوٹ تو ہے نہیں کہ جس کے اندر یوں اور ووں کے بٹن فٹ ہوں ۔ اور انھیں دباتے ہی سسٹم چل پڑا کرے۔

یہ الجھی گھتیاں سلجھانے میں بڑا وقت لگ جاتا ہے ۔ ذات کے اندر کی تنہائی ایک الگ شے ہے ۔ اس پہ ان شاء اللہ پھر کبھی لکھیں گے ۔ فی الوقت اتنا ہی کہ کسی کو حل دینے کی بجاۓ اسکے غم کو اکنالج کیجیے ۔ کم سے کم اسے یہ احساس تو ہوگا کہ اسے سمجھنے والا کوئی ہے .

Share:

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on pinterest
Share on linkedin
Share on email
Share on telegram
Share on skype

1 Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Related Posts

error

Enjoy this blog? Please spread the word :)